कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بڑھتی بے روزگار ہندوستانی آبادی

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

ملک کی آبادی کا تین چوتھائی حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ایسے ملک میں بے روزگاری کا بڑھ جانا نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ کئی خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ مالی سال ۱۸-۲۰۱۷ء کے دوران ملک میں شرح بے روزگاری 6.1 فیصد درج کی گئی۔ قومی سروے رپورٹ کے مطابق یہ شرح گزشتہ ۴۵ برسوں میں سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کے چہروں پر خوف پایا جانا قابل فہم ہے۔ نومبر ۲۰۱۶ء میں اعلیٰ قدر کی حامل کرنسی کے چلن کو ختم کرنے کے بعد کئے گئے اس سروے کی رپورٹوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ اسی لئے یہ سروے رپورٹ حکمراں جماعت کے لئے سر درد بن چکی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک ملک میں شرح بے روزگاری 2.3 فیصد پر رکی رہی تھی مگر ۲۰۱۵ء میں مودی حکومت کے دوران اس شرح میں اچانک اضافہ ہوا اور یہ ۵ کے ہند سے کو چھونے لگی۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ملک میں تربیت یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، مگر روزگار کے مواقع میں کمی کی وجہ سے یہ نوجوان سڑکوں پر گھومنے پر مجبور ہیں۔ روزگار کے مواقع میں کمی کی وجہ سے حصول تعلیم پر ہونے والے اخراجات بھی بے سود ثابت ہورہے ہیں۔
گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران نریندر مودی نے ملک کے نوجوانوں سے دو کروڑ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ملک کو بے روزگاری سے پاک بنانے سے متعلق بلند و بانگ اعلانات کئے گئے۔ اگر مذکورہ وعدے کو پورا کیا جاتا تو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دس کروڑ نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوتا۔ اس کے برعکس صرف ۱۸-۲۰۱۷ء میں ۶ کروڑ سے زیادہ نوجوان بے روزگار بن کر سامنے آئے۔ بڑے نوٹوں کو رد کر دیے جانے سے لاکھوں چھوٹے کاروبار تباہ و برباد ہوگئے۔ سخت ترین جی ایس ٹی قانون لاگو کئے جانے سے اور کئی کاروبار بند ہوگئے۔ بینکوں کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کے فیصلے سے روزگار کے مواقع میں مزید کمی واقع ہوئی۔ ان حالات میں اگر وزیر اعظم اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر لیتے تو نوجوان ان کی تائید کرتے مگر ایسا کرنے کے بجائے نوجوانوں کو یہ مشورہ دیا جانا رہا کہ پکوڑے کی فروخت بھی ایک قسم کا کاروبار ہے، جس نے نوجوانوں میں برہمی پیدا کردی ہے۔
دوسری طرف مرکزی حکومت کا چھوٹے کاروباریوں کے خلاف اختیار کردہ سخت ترین رویہ اور بڑے تاجروں اور کارپوریٹ اداروں کے ساتھ نرم رویہ، اُن کو مراعات کا دیا جانا، غریبی کے خاتمہ کے بجائے اضافہ کا سبب بنا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملک میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے ملک کے حکمرانوں کے پاس واضح نظریہ کا فقدان ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے