कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچیاں: ملت کا سرمایہ اور تربیت کی اولین ترجیح

ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ

قوموں کی تعمیر کا پہلا زینہ تعلیم ہے اور اگر اس تعلیم کی بنیاد تربیت پر استوار نہ ہو تو پھر وہ علم محض رٹے، اسناد، اور ڈگریوں کا بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔ خاص طور پر جب بات بچیوں کی ہو تو یہ معاملہ اور بھی نازک اور اہم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ بچیاں صرف ایک فرد نہیں، وہ ایک خاندان کی معمار، نسلوں کی معلم، اور معاشرتی اقدار کی امین ہوتی ہیں۔ ان کی دینی، اخلاقی اور عصری تربیت کسی بھی مہذب اور اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر بچیاں صحیح خطوط پر تربیت پائیں تو نسلیں سنور جاتی ہیں اور اگر ان کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی کی جائے تو اس کا خمیازہ صرف ایک فرد یا خاندان نہیں بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اسلام نے عورت کو عزت و وقار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کیا ہے، اور بچیوں کی پرورش و تربیت کو والدین کے لیے ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ قرآن کی آیات ہوں یا نبی اکرم ؐکی احادیث، ہر جگہ بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کا تذکرہ ملتا ہے۔ نبی کریم ؐنے فرمایا: ’’جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، انہیں تعلیم دے اور ان کی پرورش کرے، تو وہ اس کے لیے جنت کا سبب بنیں گی۔‘‘یہ حدیث ہمیں ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ بچیوں کی تعلیم و تربیت صرف ایک سماجی ضرورت نہیں، بلکہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔
مگر افسوس کہ ہمارا معاشرہ، جو کہ خود کو اسلامی تہذیب کا علمبردار سمجھتا ہے، اب تک اس بنیادی شعور سے عاری ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک فرض ہے۔ کہیں ثقافتی پابندیاں تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، تو کہیں جہالت اور فرسودہ روایات بچیوں کو ان کے جائز اور شرعی حق سے محروم رکھتی ہیں۔ اگر کچھ والدین اس شعور کو اپناتے بھی ہیں تو اکثر صرف دنیاوی تعلیم کی طرف توجہ دیتے ہیں، جبکہ دینی تعلیم کو محض نماز روزے کی سطح تک محدود کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً ہم ایسی نسل تیار کرتے ہیں جو بظاہر مہذب، تعلیم یافتہ اور باشعور دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی بنیاد میں اسلامی اقدار کا فقدان ہوتا ہے۔
آج کا دور فتنوں کا دور ہے، جہاں سوشل میڈیا، فحاشی، مغربی تہذیب کی یلغار، اور عورت کی آزادی کے نام پر بے راہ روی عام ہے۔ ایسے میں اگر ہماری بچیاں دینی شعور سے بہرہ مند نہ ہوں، شریعت کی روشنی میں سوچنے سمجھنے کی عادت نہ رکھیں، تو وہ ان فتنوں کا آسان شکار بن جائیں گی۔ صرف عصری تعلیم بچیوں کو تحفظ نہیں دے سکتی۔ اس کے لیے ان کے دل میں خوف خدا، علم دین، اور کردار کی پختگی پیدا کرنا ضروری ہے۔
بچیوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن سے ہونا چاہیے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ ابھی چھوٹی ہیں، ابھی کھیلنے کودنے کی عمر ہے۔ بچیوں کی تربیت میں ماں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے، مگر خود ماں جب تک تربیت یافتہ نہ ہو، دینی و دنیاوی شعور نہ رکھتی ہو، وہ اپنی بیٹی کو کیا دے سکتی ہے؟ اس لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ماؤں کی دینی تعلیم و تربیت کی جائے، تاکہ وہ اپنی بچیوں کے لیے بہترین رہنما بن سکیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قوم کی بچیوں کو محض ڈاکٹر، انجینئر، یا بینکر بنانے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ انہیں ایسی صاحبِ کردار مسلمان عورتیں بنائیں جو دنیا کے ہر میدان میں قدم رکھیں، مگر اپنی پہچان، اپنی تہذیب، اور اپنی شریعت کے دائرے سے باہر نہ نکلیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ان کی تربیت ایسے ماحول میں ہو جہاں اسلامی اخلاقیات، دینی اصول، اور عصری تقاضے باہم مربوط ہوں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی دینی تربیت میں اسلامی اداروں، مدارس، اور تربیتی کیمپوں کا بھی کلیدی کردار ہے۔ ایسے ادارے جو لڑکیوں کی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں دنیاوی شعور بھی دیتے ہیں، وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ صرف اسکول کی فیس بھرنے پر مطمئن نہ ہوں، بلکہ یہ دیکھیں کہ ان کی بیٹی کو کیسا علم دیا جا رہا ہے، کس قسم کا ماحول میسر ہے، اور وہ کس قسم کی شخصیت میں ڈھل رہی ہے۔اسلامی معاشرے کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ وہاں عورت کو عزت کے ساتھ علم و شعور دیا جاتا ہے، نہ کہ آزادی کے نام پر بے لگام کر دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں عورت کی آزادی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل اس کی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ اسلامی تعلیم عورت کو صرف حقوق نہیں دیتی، بلکہ اس کے لیے ایک پاکیزہ، باوقار، اور متوازن کردار متعین کرتی ہے۔ یہی کردار ہم اپنی بیٹیوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ نہ صرف ایک اچھی بیٹی، ماں، اور بہن بنیں، بلکہ ایک باکردار مسلمان شہری بھی بن سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نے آج اپنی بچیوں کی دینی تربیت کو نظرانداز کیا تو کل ہم خود اپنے ہاتھوں سے ایسی نسل تیار کریں گے جو نہ ہمیں پہچانے گی، نہ اپنے دین کو، نہ اپنے خاندان کو۔ وہ نسل جو اپنی شناخت کھو دے، وہ پھر دوسروں کی تقلید میں فنا ہو جاتی ہے۔ ہمیں ایسے ادارے، ایسے نصاب، اور ایسے تربیتی ماڈلز تیار کرنے ہوں گے جو ہماری بچیوں کو دنیا کے میدان میں کامیاب بنائیں، مگر دل میں دین کی روشنی لے کر۔اسلام نے بچیوں کو بوجھ نہیں، رحمت قرار دیا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اس رحمت کی قدر کریں، ان کی تعلیم و تربیت پر سرمایہ کاری کریں، اور انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ آنے والی نسلوں کی سچی رہنما بن سکیں۔ اگر ہم نے یہ کر لیا تو یقینا وہ وقت دور نہیں جب ہمارے معاشرے کی ہر بیٹی فاطمہؓ، عائشہؓ، اسماءؓ اور رابعہ بصریؓ کی سچی وارث بنے گی۔ اور جب قوم کی بیٹیاں ایسی ہوں، تو قوموں کے مقدر بھی سنور جاتے ہیں۔
یہی پیغام وقت کا تقاضا ہے، اور یہی ہمارا دینی و ملی فریضہ بھی۔ ہمیں یہ فریضہ ادا کرنا ہے، دل سے، اخلاص سے، اور مسلسل محنت کے ساتھ۔ تبھی جا کے ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو وہ حق دیا جو اسلام نے ان کے لیے مقرر کیا تھا، اور ہم نے اپنے کل کو اپنے آج میں محفوظ کر لیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے