कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بچوں کی تعلیم کے مسائل پر ایک نظر

تحریر: ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)

جولائی 2021 کے خاتمہ تک دنیا کے 19 ممالک میں 150 ملین سے زائد بچے یا تو ورچول کلاسس میں شرکت کررہے تھے یا ہر قسم کی درس تدریس سے بالکل محروم تھے ۔ ہندوستان بھر میں پہلا لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے ساتھ مارچ 2020 سے اسکولس بند کردیئے گئے اور آن لائن کلاسس کی صورتحال غیر واضح رہی، والدین، ٹیچرس ، اسکول انتظامیہ، حکومتیں اور بچے غیریقینی حالات سے دوچار ہوئے۔ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے طلبہ اور سرپرستوں میں بے چینی کافی بڑھ گئی ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال اور مستقبل کے بارے میں فکر و تشویش پائی جاتی ہے نہ صرف تعلیم کا نقصان ہورہا ہے بلکہ طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ۔ بچے سابق میں ذہنی وبا سے بھی متاثر رہے ہیں لیکن بڑی عمر کے لوگوں کی بہ نسبت بچوں میں یہ مرض بہت کم دیکھا گیا نوے فیصد بچے اس بیماری سے غیر متاثر نظر آئے۔ دسمبر 2020 سے جنوری 2021 کے دوران کئے گئے سروے کے مطابق بڑی عمر کے افراد کی بہ نسبت بچوں میں انفیکشن کافی کم رہا ہے اس طرح ظاہر ہوا کہ بچوں کی بہ نسبت زیادہ خطرہ بڑی عمر کے افراد کو لاحق تھا۔ ماہرین صحت کا احساس ہے کہ انفیکشن کا خطرہ بچوں کی بہ نسبت بڑی عمر کے افراد کو تھا، دنیا بھر میں عام طور پر اور ہندوستان میں خاص طور پر کورونا وائرس کا اسکولی بچوں پر بہت کم اثرپڑا ہے ۔ کورونا کے برخلاف بچے زیادہ تر دوسری عام بیماریوں سے متاثر ہوئے ۔ کورونا کے شروع میں بڑی عمر کے افراد کو خبردار کیا گیا کہ ان کے زیادہ زد میں آنے کا اندیشہ ہے اور بڑی عمر کے افراد ہی زیادہ تعداد میں فوت ہوئے بھی، بعد کے عرصہ میں بلا تخصیص عمر کورونا کے بڑھتے مریضوں پر ماہرین طب کافی فکر مند رہے دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف سطحوں پر اسکولی تعلیم جاری رہی اور شایدہی کہیں اسکولی بچے کورونا سے متاثر ہوئے۔ جب امریکہ کے مختلف شہروں اور مضافاتی علاقوں میں اسکولی طلبہ اور ٹیچرس کی طبی جانچ کی گئی تو صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے بھی کم کیسیس کا پتہ چلا ۔ اس طرح اسکولی بچوں کو کورونا لاحق ہونے کے اندیشے پوری طرح صحیح نہیں تھے ۔ کورونا سے متاثر بڑی عمر کے افراد سے بچوں کو بیماری لاحق ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جاتے رہے تھے اس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی گئیں ۔ آسٹریلیا ، فرانس ، جرمنی ، آئرلینڈ ، سنگاپور اور امریکہ میں اس حوالے سے سروے بھی کئے گئے وسط مئی 2020 میں اسرائیل میں بچوں میں کورونا کے 15 فیصد کیسیس کی اطلاع ملی تھی جبکہ اسکولوں کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ وبا کی روک تھام کے موثر اقدامات کی کمی اس کی وجہ بتائی گئی ماہرین کا احساس ہے کہ مقامی سطح پر وبا کی روک تھام کے موثر اقدامات سے ہی وبا کے پھوٹ پڑنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملتی ہے ۔ ماہرین نے اپنی اس رائے کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اسکولوں میں تدریسی غیرتدریسی افراد عملہ اور طلباء و طالبات ماسک کی پابندی کے ساتھ ہی وبا سے محفوظ رہ سکتے ہیں اسکولوں کی عمارتیں بھی کشادہ ہونی چاہئے طلبہ کے جسمانی فاصلہ کو یقینی بنانا ضروری ہے صاف ستھرا ماحول لازمی ہے تب ہی اسکولس کو کھولا جاسکتا ہے دوسری طرف آن لائن تعلیم کی وجہ سے بچے کتب بینی سے دور ہورہے ہیں تعلیم میں استاد کا ساتھ زیادہ فیض پہونچاتا ہے لیکن آن لائن تعلیم میں استاد کی شفقت سے طلبہ محروم ہیں جو بڑا خسارہ ہے مانا گیا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے