कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بنگلہ دیش کی نئی حکومت اور بدلتی سیاسی سمتیں

تحریر: پروفیسرعتیق احمدفاروقی
9161484863

بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام نے پورے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ تقریباً چھتیس برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ بنگلہ دیش میں کسی مرد وزیر اعظم نے اقتدار سنبھالا ہے۔ تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کو دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل ہونے کے بعد اس کے رہنما طارق رحمان نے اس پڑوسی ملک کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ یہ انتخابی نتیجہ بڑی حد تک متوقع تھا، کیونکہ عوامی لیگ پر پابندی کے بعد بی این پی کے لیے سیاسی میدان بڑی حد تک خالی ہو گیا تھا۔البتہ جماعتِ اسلامی کی جانب سے اس بار سخت مقابلے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ اس دعوے کی بنیاد زیادہ مضبوط نہیں تھی۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو اپنی تاریخ میں اس مرتبہ سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئیں، مگر اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عوامی لیگ پر عائد پابندی بھی قرار دی جا رہی ہے۔
اس انتخاب کے ساتھ ساتھ رائے دہندگان کے درمیان ایک اہم رائے شماری بھی کرائی گئی۔ ہر ووٹر کو دو ووٹ دینے کا اختیار دیا گیا تھا۔ ایک ووٹ پارلیمان کے رکن کے انتخاب کے لیے تھا، جبکہ دوسرا ووٹ ایک نئے مجوزہ دستاویز یعنی ’جولائی چارٹر‘ کے حق یا مخالفت میں تھا۔ اس چارٹر کو بھی عوامی منظوری حاصل ہو گئی۔ نگران حکومت کے مطابق یہ چارٹر دراصل جمہوری اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔اس دستاویز میں کل چوراسی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں وزیر اعظم کے لیے زیادہ سے زیادہ دو مدتِ کار یعنی دس سال کی حد مقرر کرنا، ہندوستان کی راجیہ سبھا کی طرز پر ایوانِ بالا کا قیام، صدر کے اختیارات میں اضافہ، اور عدلیہ کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ بظاہر یہ تجاویز بنگلہ دیش کے سیاسی نظام میں توازن پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔تاہم بی این پی کی زبردست فتح اور رائے شماری کی منظوری کے باوجود یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ بنگلہ دیش کے سیاسی مسائل کا مکمل حل نکل آئے گا۔ کئی اہم سوالات اب بھی موجود ہیں، جن کے جواب مستقبل کے پردے میں پوشیدہ ہیں۔
سب سے پہلا سوال سابق مشیر اعلیٰ ڈاکٹر محمد یونس سے متعلق ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ نئی سیاسی صورت حال میں وہ کس حیثیت سے کام کریں گے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی کے اشاروں پر حکومت چلا رہے تھے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ بھی کہا جاتا رہا کہ اس حکومت کو پسِ پردہ امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ ان کے کئی مشیر، اگرچہ بنگلہ دیشی نژاد تھے، لیکن امریکی شہریت رکھتے تھے۔اسی دوران محمد یونس کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھارت سے فاصلہ اختیار کرنے اور پاکستان کے قریب جانے کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں نئی دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات اپنی نچلی ترین سطح تک پہنچ گئے تھے۔بلاشبہ محمد یونس ایک عالمی شہرت یافتہ نوبل انعام یافتہ شخصیت ہیں، لیکن بطور سیاسی منتظم ان کی کارکردگی پر کئی حلقوں میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سرکاری اداروں میں اپنے حامیوں کو جگہ دی۔ یہاں تک کہ جامعات، عدلیہ اور الیکشن کمیشن جیسے حساس اداروں میں بھی جماعت اسلامی سے قربت رکھنے والے افراد کی تقرریوں کی خبریں گردش کرتی رہیں۔اسی پس منظر میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی بعض غیر اعلانیہ مفاہمتوں کے بعد بھی انہوں نے عام انتخابات کی طرف قدم بڑھایا۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں وہ صدر کے عہدے پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ایک اور بڑا سوال اس رائے شماری سے متعلق ہے جو پارلیمانی انتخابات کے ساتھ کرائی گئی۔ اگرچہ عوام نے جولائی چارٹر کی حمایت کر دی ہے، لیکن اس کی قانونی حیثیت ابھی واضح نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے آئین میں اس قسم کی رائے شماری کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔ اب اگر عوام میں اس چارٹر پر اتفاقِ رائے پیدا بھی ہو گیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے آئینی اور قانونی طور پر کس طرح نافذ کیا جائے گا۔بی این پی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے، اس لیے یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں آئین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں بنگلہ دیش کے آئینی ڈھانچے میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستان کے ساتھ نئی حکومت کے تعلقات بھی بحث کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ بی این پی کا ماضی کا کردار ہے، جس پر بنیاد پرست حلقوں سے قربت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ تاہم ہندوستانی حکومت نے پہلے ہی مثبت اشارے دیے ہیں اور نئی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔گزشتہ دنوں جب سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کا انتقال ہوا تو ہندوستان کے وزیر خارجہ تعزیت کے لیے ڈھاکہ پہنچے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی تعزیتی پیغام بھیجا۔ اس سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں خالدہ ضیا کو بھارت مخالف رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ وہ بعض معاملات میں سخت گیر موقف رکھتی تھیں اور پاکستان کے ساتھ قربت کو ترجیح دیتی تھیں۔ سن 2001 سے 2006 کے دوران جب وہ اقتدار میں تھیں تو یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں بھارتی سرحد کے قریب دہشت گردی کے بعض کیمپ قائم کیے گئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔
تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس بار صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ بی این پی کی قیادت اب طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے اور یہ امکان کم ہی ہے کہ وہ ماضی کی وہی غلطیاں دہرانا چاہیں گے۔ اس لیے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔دوسری جانب محمد یونس اور جماعتِ اسلامی کے دور میں پاکستان کے ساتھ جس طرح کی قربت دیکھی گئی، اس نوعیت کی پالیسی شاید مستقبل میں برقرار نہ رہ سکے۔ ایک اور اہم پہلو امریکہ کا کردار بھی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی حکومت کو واشنگٹن کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ ڈھاکہ میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جس انداز میں نئی قیادت کو مبارکباد دی گئی، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر مفاہمت ضرور موجود ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تقریباً سترہ برس تک طارق رحمان جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ ان کے خلاف قائم مقدمات اچانک ختم ہونا اور سزاؤں کا کالعدم قرار پانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی کچھ نہ کچھ سفارتی معاملات طے ہوئے ہوں گے۔ بعض حلقے یہ قیاس بھی کرتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ کچھ غیر اعلانیہ سمجھوتے طے پائے ہیں، جن کے تحت محمد یونس کے دور میں ہونے والے بعض معاہدوں کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔طارق رحمان کی جیت کو جنوبی ایشیا میں خاندانی سیاست کی مضبوط روایت کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اسے محض خاندانی سیاست قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں نسبتاً مفاہمتی اور فیاضانہ رویہ اختیار کیا۔ خاص طور پر انہوں نے عوامی لیگ کی واپسی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عوام چاہیں تو اس جماعت کو بھی دوبارہ سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ حقیقی جمہوری مقابلہ تبھی ممکن ہے جب تمام بڑی جماعتیں انتخابی میدان میں موجود ہوں۔ اسی لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جا سکتی ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عوامی لیگ سے وابستگی کے الزام میں ہزاروں کارکن اور ہمدرد جیلوں میں بند ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے یہ صورتحال باعثِ تشویش سمجھی جاتی ہے۔ اگر نئی حکومت واقعی جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو اسے سیاسی انتقام کی فضا ختم کرتے ہوئے مفاہمت، رواداری اور سیاسی شمولیت کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔
بنگلہ دیش اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک مگر اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ نئی قیادت کے سامنے صرف اقتدار سنبھالنے کا چیلنج نہیں بلکہ جمہوری اداروں کی مضبوطی، علاقائی توازن، معاشی استحکام اور سیاسی مفاہمت جیسے بڑے امتحانات بھی ہیں۔ اگر نئی حکومت دانش مندی، اعتدال اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کرتی ہے تو بنگلہ دیش نہ صرف داخلی استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک مثبت اور بااثر کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں، سیاسی انتقام کو ہوا دی گئی اور بیرونی طاقتوں کے دباؤ کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی تو یہ تاریخی موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بنگلہ دیش کی قیادت جمہوریت، انصاف اور قومی وحدت کے اصولوں کو سامنے رکھ کر آگے بڑھے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم، خود مختار اور باوقار ریاست کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے