कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

برصغیر میں نوجوانوں کو کتاب دوست بنانے کی ضرورت

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

ہمارے روبہ زوال معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ بیشتر افراد کا کتاب سے رشتہ صرف درسی کتابوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اردو داں گھروں میں برسوں گزر جاتے ہیں کوئی کتاب نہیں خریدی جاتی۔ لوگوں کی ساری توجہ جوتے کپڑوں، سبزی، گوشت، ڈاکٹر، ادویات، گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح تک محدود رہتی ہے۔ کتاب خریدنے کی نہ تو کبھی خواہش پیدا ہوتی ہے نہ ہی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ جبکہ بیس سال پہلے تک ہمارے معاشرے میں کتب بینی کا اچھا خاصا رجحان تھا۔ گھروں میں کتابوں کی ایک آدھ شیلف ضرور ہوتی تھی، دوران گفتگو کتابوں کا حوالہ دینے والے کی رائے کو معتبر اور مستند سمجھا جاتا تھا، مگر اب زمانہ بدل گیا ہے، لوگوں کے پاس کتاب سے دوستی کا وقت ہی نہیں رہا۔ سوشل میڈیا نے عوامی زندگی کو ایک ایسی شکل دے دی ہے کہ رشتے ناطے، رویے روایتیں سب ملیامیٹ ہوگئی ہیں۔ استاد، شاگرد، والدین اور اولاد، اپنی اپنی شناخت، حیثیت اور مقام و مرتبہ بھول گئے۔ رہی سہی کسر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے پوری کر دی۔ تاہم اس بات کا یقین رہے کہ تباہی اور بربادی کا یہ سفر زیادہ عرصے جاری نہیں رہے گا۔ جدید دنیا میں تبدیلی کا آغاز عموماً مغرب سے ہوتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگوں کو بڑی حد تک شعور آگیا ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو موبائل فون، ٹیب، لیپ ٹاپ اور اسی قسم کے دیگر لوازمات سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہاں کی سیلولر کمپنیوں نے بھی معاشرے سے تعاون کرکے سیلولر سروسز کے استعمال کے لئے قواعد و ضوابط کو کافی حد تک سخت کر دیا ہے۔ اب وہاں ہمارے جیسی صورت حال نہیں رہی کہ دس روپئے کا بیلنس ڈلوا کر سارا دن میسیج کرتے رہو۔ پھر یہ بھی ہے کہ مغرب نے اپنی نئی نسل کا کتاب سے رشتہ کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔ کتابوں کو دلکش بھی بنایا اور قابل حصول بھی۔ کتابوں کو ہر ممکن حد تک سستا کیا تاکہ کتاب خریدنے کی خواہش میں مالی وسائل کبھی رکاوٹ نہ بن سکیں، لیکن ہمارے ہاں صورت حال برعکس ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کتابیں لکھنے والے زیادہ ہیں اور پڑھنے والے بہت کم۔ طلب اور رسد کا قانون سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے چونکہ خریدار نہیں ہوتے، کتابوں کی اشاعت پر ہونے والے اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً کتابیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔ حقیقی لکھنے والوں کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ دوسروں کے مضامین، نظمیں، غزلیں یکجا کیں، کسی آرٹس سے اچھا سا ٹائٹل بنوایا دوچار قلم کاروں سے فلیپ لکھوایا اور صاحب کتاب ہوگئے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ کتاب پر لکھوائے جانے والے فلیپ پر ان لوگوں کا سرے سے تذکرہ نہیں ہوتا جن کی تخلیقات کو یکجا کیا جاتا ہے بلکہ ساری تعریف و توصیف تخلیقات کو منتخب کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں۔
اگر ہمیں اپنی اگلی نسلوں سے پیارے ہے اور ہم بطور رقوم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کا کتابوں سے رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ قومی سالمیت اور بقاء میں کتابیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہمارا کون دشمن، کون دوست، ہمیں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے اور کس راہ سے بچ کر گزرنا ہے، یہ سب کچھ ہمیں کتابوں ہی کے توسط سے معلوم ہوتا ہے۔ہمارا ماضی کیا تھا اور ہمارا مستقبل کیسا ہونا چاہیے، اس کا علم بھی ہمیں کتابوں سے ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان کتابوں کو لکھنے والے ہمارے اپنے مفکرین، ہمارے اپنے اہل قلم ہوں۔ امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والوں کو نہ تو ہمارے مسائل سے کوئی دلچسپی ہوسکتی ہے، نہ ہی ہمارے وسائل کا اندازہ۔ تاہم موبائل فون کو زندگی کی سب سے بڑی نعمت سمجھنے والی ہماری نئی نسل کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کے لئے مؤثر سرپرستی کی بھی اشد ضرورت ہوگی۔ اگرچہ سرکار کی طرف سے کتابوں کی اشاعت اور کتابوں کے فروغ کے لئے کچھ ادارے قائم ہیں لیکن عام شکایت یہ کہ ان اداروں کے منتظمین اپنی ہی کتابوں کو قومی اثاثہ جان کر محفوظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کتب بینی کے فروغ میں چلائی گئی مہم کی ایک مثال دوبئی میں سامنے آئی تھی، جب چند برس قبل ’عرب ریڈنگ چیلنج‘ کے عنوان سے وہاں نوجوانوں کے لئے کتابیں پڑھنے کی ایک تحریک شروع کی گئی جس کے تحت حکومت نے عرب قوم پرستی اور اسلامی تاریخ میں عربوں کی خدمات پر تحریر کی گئیں کتابوں کی طویل فہرست جاری کرکے کہا کہ جو نوجوان سب سے زیادہ کتابیں پڑھے گا اسے قیمتی انعام دیا جائے گا، کتب بینی کے اس مقابلہ کے لئے ۱۱ ملین درہم سے زیادہ کے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا، چنانچہ کثیر تعداد میں عرب نوجوان نے اس مقابلہ میں حصہ لے چکے ہیں۔
برصغیر ہند- پاک میں بھی ایسے ہی کسی منصوبے کے ذریعہ کتاب دوستی کی ترغیب کے لئے مہم چلائی جاسکتی ہے۔ اور جو نوجوان اِس میں سبقت لے اُس کو اردو دنیا کے مثالی نوجوان کی حیثیت سے پیش کیا جاسکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے