कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

با ادب نوجوان مضبوط معاشرہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی
8235703061

معاشرہ کی اصلاح ہم سب کی دیرینہ تمنا ہے معاشرہ کے ہر طبقہ کے ذہن میں یہ فکر سوار رہے کے معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو اگر معاشرہ میں سدھار لانا ہو تو سب سے پہلے اس کی شروعات اپنے گھر سے ہونی چاہئے ، منقول ہے کہ خیرات گھر سے بٹتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گھر اور خاندان کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، حتی کہ زکوۃ و خیرات دینا ہو تو اپنے قریبی لوگوں سے اس کی ابتدا کریں ، یہی حال دعوت دین اور اصلاح معاشرہ کا بھی ہے، اگر ہر انسان اپنے گھر سے اصلاح معاشرہ کی فکر کرے تو اصلاح معاشرہ کی اس سے بہتر شکل نہیں ہو سکتی ، اپنے گھر کی اصلاح سے غافل رہ کر معاشرہ کے بگاڑ کا رونا رونا معاشرہ کا سب سے بڑا بگاڑ ہے۔
معاشرہ انسانی زندگی کا بنیادی جزو ہے، اور اس کی مضبوطی کا انحصار اس کے افراد پر ہوتا ہے۔ اگر معاشرے کے افراد بااخلاق، باکردار اور باادب ہوں تو وہ معاشرہ ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، اس لیے اگر نوجوان باادب اور بااخلاق ہوں تو ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے کی تشکیل ممکن ہو جاتی ہے۔
ادب دراصل انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہے بلکہ اس کے رویے، گفتگو اور طرزِ زندگی کو بھی مہذب بناتا ہے۔ ایک باادب نوجوان اپنے والدین، اساتذہ، بزرگوں اور معاشرے کے دیگر افراد کا احترام کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور معاشرتی اصولوں کی پابندی کرتا ہے۔ ایسے نوجوان معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔
نوجوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں انسان کے خیالات، عادات اور شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ اگر اس عمر میں نوجوانوں کو ادب، اخلاق اور اچھے رویوں کی تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ تعلیم اس حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو صرف کتابی علم ہی نہیں دیتے بلکہ انہیں اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داریوں سے بھی روشناس کراتے ہیں۔
باادب نوجوان معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار ہوتے ہیں۔ وہ برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور اچھائی کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بنتے ہیں۔ ایسے نوجوان معاشرے میں انصاف، مساوات اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں، جس سے معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اگر نوجوان بدتمیز، بے ادب اور غیر ذمہ دار ہوں تو وہ معاشرے میں انتشار، بدامنی اور بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں ادب و اخلاق کی تعلیم دیں۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک باادب نوجوان ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کی تربیت پر توجہ دیں اور انہیں اچھے اخلاق اور ادب کا درس دیں تو ہم ایک مثالی، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔
اکثر یہ دیکھنے میں آیا کہ معاشرہ کی بگاڑ کی بنیادی وجہ گھر کا ماحول ہے، اگر گھر کے افراد صحیح ہوں تو معاشرہ کا صحیح ہونا ممکن ہے ، قرآن کریم نے معاشرہ کی اصلاح کے لئے بنیاد گھر کو بتایا ہے ، قرآن نے ایک مسلمان پر صرف اپنی اصلاح کی ذمہ داری عائد نہیں کی ؟ بلکہ اپنے گھر والوں ، اپنی اولاد اپنے عزیز واقارب اور اپنے اہل خاندان کو راہ راست پر لانے کی کوشش بھی اس پر ڈالی ہے اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے ۔ وانذر عشیر تک الاقربين (اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ قریبی اہل خاندان کو عذاب الٰہی سے ڈرائے ) حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاء کرام کی سنت یہی رہی ہے کہ انھوں نے تبلیغ کا کام اپنے گھر والوں سے کیا ، آج جس تیزی کے ساتھ نئی نسل بے راہ روی کی طرف بڑھ رہی ہے اس کا مؤثر علاج ہمارے گھروں میں ہونا چاہئے۔
آج ہمارے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو زمانے کے بہاؤ پر چھوڑ چکے ہیں ، اگر مسلمانوں میں اپنے گھر کی اصلاح کا خاطر خواہ جذبہ پیدا ہو جائے تو ان شاء اللہ بہت سارے گھر سدھر جائیں گے اور نئی نسل کی بھاری اکثریت راہ راست پر آجائے گی۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو توفیق عطا فرمائے دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے