कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بابری مسجد — تعمیر سے خاتمہ تک ایک تاریخ

از قلم :رازق حُسین،اورنگ آباد۔
موبائیل نمبر 8149588808

بابری مسجد، ہندوستان کی تاریخی و مذہبی علامت رہی ہے۔ یہ صرف ایک مسجد نہیں بلکہ برصغیر کی سیاست، مذہبی ہم آہنگی، اور اختلافات کی پوری تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔ اس مسجد کی تعمیر سے اس کے انہدام تک کا سفر ایک ایسے المیے کی مثال ہے جو کسی بھی قوم کے لیے دردناک یادگار کی حیثیت رکھتا ہے۔
1526ء میں بابر نے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اقتدار کے استحکام کے دوران اس نے متعدد مساجد قائم کروائیں جن میں بابری مسجد بھی شامل ہے، جو 1528ء میں اس کے ایک جرنیل میر باقی نے ایودھیا میں تعمیر کروائی تھی۔
یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔ بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے تھے، جن میں سے درمیانی گنبد بڑا اور اس کے دونوں طرف دو چھوٹے گنبد تھے۔ گنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا، جس میں صحن بھی شامل تھا۔ صحن میں وضو کے لیے پانی مہیا کرنے کی غرض سے ایک کنواں بھی کھودا گیا تھا۔ گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونے کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا تھا، روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی معمولی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں بآسانی سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار تھی۔
ہندو دھرم کے ماننے والوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مسجد بھگوان رام کی جنم بھومی یعنی پیدائش کی جگہ پر تعمیر کی گئی۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہاں پہلے ایک مندر تھا جسے منہدم کرکے مسجد بنائی گئی۔
تاریخی دستاویزات، نقشہ جات اور ابتدائی تحریری شواہد میں کہیں بھی کسی مندر کے انہدام کا واضح ذکر موجود نہیں۔ تاہم ایک نظریہ صدیوں تک موجود رہا اور یہ تنازعہ وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔
1949ء میں مسجد کو بند کرا دیا گیا۔ حکومت نے انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے: اندرونی حصہ مسجد کے لیے بیرونی چبوترہ ہندو پوجا کے لیے مختص کیا اور بیچ میں باڑ لگادی۔ حکومت نے مسجد کو بند کروا کر متنازع مقام قرار دے دیا۔ مسلمان نماز ادا کرنے سے محروم ہوگئے جبکہ ہندو پوجا جاری رہی۔
اس کے باوجود مذہبی کشمکش چلتی رہی۔
22 دسمبر 1949 کو کچھ افراد نے مسجد کے اندر مورتی رکھ دی اور اعلان کیا کہ رام لالہ ظاہر ہوگئے ہیں۔ اس واقعہ نے ماحول شدید کشیدہ کر دیا۔
آزادی کے بعد سے یہ معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت تھا، مگر 1980 کی دہائی میں سیاست نے اس معاملے کو اور زیادہ بھڑکا دیا۔
1984 میں وشو ہندو پریشد نے رام جنم بھومی تحریک شروع کی۔
1986 میں عدالت نے ہندوؤں کے لیے متنازع دروازہ کھولنے کا حکم دیا۔
1990 میں ایل کے اڈوانی کی رَتھ یاترا نے ملک گیر انتشار پیدا کیا۔
یہ تمام اقدامات مذہبی جذبات کو خوب بڑھا چکے تھے۔
اس طرح 40 سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی۔
6 دسمبر 1992 کو ہزاروں شدت پسند کارکنوں نے مسجد پر حملہ کردیا۔ پولیس اور حکومت تماشائی بنی رہی۔ چند گھنٹوں کے اندر مسجد شہید کردی گئی۔
پورے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں بے گناہ مارے گئے۔ یہ لمحہ ہندوستان کی سیکولر تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔
عدالت نے 2003 میں ASI کو کھدائی کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹ میں مندر نما ڈھانچے کے آثار دکھائے گئے لیکن:
ماہرین اور بین الاقوامی آرکیالوجسٹ نے اسے ناقابلِ قبول و غیر حتمی قرار دیا، لیکن سیاسی اور سماجی بیانات نے رپورٹ کو ایک بنیاد بنادیا۔
9 نومبر 2019 کو ایک طویل انتظار کے بعدیہ فیصلہ سنایا گیا: پوری زمین ہندو فریق کو دیدی گئی۔ مسلمانوں کے لیے 5 ایکڑ زمین ایودھیا میں دوسری جگہ فراہم کرنے کا حکم، مسجد کے انہدام کو غیر قانونی قرار دیا گیا مگر زمین پھر بھی واپس نہ کی گئی یہ فیصلہ بھی دنیا بھر میں بحث کا مرکز رہا۔
ہندو فریق وہاں رام مندر تعمیر کر رہا ہے جس کا سنگِ بنیاد 2020 میں رکھا گیا اور مندر ابھی مکمل بھی ہو چکا ہے۔
مسلمانوں کو دی گئی زمین پر مسجد محمد بن عبداللہ کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری ہے، جس میں مسجد، اسلامی تحقیقاتی مرکز، اسپتال و کچن شامل ہوں گے۔
بابری مسجد کا معاملہ ، مذہبی شناخت کے ٹکراؤ، ریاستی غیرجانبداری پر سوالات سیکولر ہندوستان کے اصول سیاست اور مذہب کے اشتراک کا ایک نقد آئینہ ہے۔
یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ مذہبی تنازعات صرف عبادت گاہیں نہیں گراتے بلکہ قوموں کی یکجہتی، اعتماد اور انسانیت کو بھی مسمار کر دیتے ہیں۔
بابری مسجد کی تاریخ امن، عبادت، سیاست، انصاف اور صبر کے ایک طویل سفر کی داستان ہے۔ اسے سمجھنا، یاد رکھنا اور آئندہ نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جاسکے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے