कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’اے آئی، روبوٹکس اور خلائی سائنس: مادری زبان( اردو) میں تعلیم کی نئی جہت‘‘

تحریر: پٹھان شریف خان
9422409471

دنیا اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب سے گزر رہی ہے۔مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، روبوٹکس، نینو ٹیکنالوجی اور خلائی سائنس جیسے علوم نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انسان چاند پر پہنچنے کے بعد اب مریخ کی بستیاں بسانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ مگر ایک اہم سوال آج بھی ہمارے تعلیمی اور فکری نظام کے سامنے موجود ہے
*کیا جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم صرف انگریزی یا غیر ملکی زبانوں میں ہی ممکن ہے؟*
*”کیا علم کا دروازہ صرف اُن زبانوں پر کھلتا ہے جو ہماری نہیں بلکہ دوسروں کی ہیں؟”*
اس کا واضح جواب ہے: نہیں۔
ترقی کا حقیقی راز زبان نہیں، علم کی تفہیم ہے اور علم کی گہری تفہیم صرف مادری زبان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق، بچہ اپنی مادری زبان میں جو بات سمجھتا ہے، وہ اس کے ذہن پر مستقل اثر چھوڑتی ہے۔ زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے اور دریافت کرنے کا آلہ بھی ہے۔
معروف ماہرِ لسانیات نوام چامسکی کے الفاظ میں “زبان انسان کی شناخت اور علم کی بنیاد ہے۔”
اگر کسی بچے کو ابتدائی تعلیم ایسی زبان میں دی جائے جو اس کی اپنی نہ ہو، تو وہ الفاظ تو رٹ لیتا ہے مگر مفہوم سے ناواقف رہتا ہے۔ یہی وہ رکاوٹ ہے جو تخلیقی اور تحقیقی سوچ کے راستے میں سب سے بڑی دیوار بن جاتی ہے۔
اردو ہماری تہذیبی، ادبی اور علمی روایت کی زبان ہے۔ اس میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی جدید زبان میں علم و سائنس کی تفہیم کے لیے ضروری ہیں۔اردو زبان میں سائنسی اور فکری علوم کی روایت کوئی نئی نہیں۔انیسویں صدی میں سرسید احمد خان نے "Scientific Society” کے ذریعے انگریزی علمی ذخیرے کو اردو میں منتقل کیا، تاکہ علم عوام کی زبان میں پہنچ سکے۔
شبلی نعمانی، علامہ اقبال اور مولانا آزاد نے بھی اردو کے ذریعے جدید فکر کو عام کیا۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی قومی زبانوں کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں۔جاپان، چین، فرانس اور جرمنی نے انگریزی پر انحصار نہیں کیا، بلکہ اپنی زبان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو ترجیح دی اور آج وہ دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔
آٹھویں سے تیرہویں صدی عیسوی تک عربی زبان دنیا کی علمی و سائنسی زبان تھی۔
الخوارزمی، ابنِ سینا، ابن الہیثم، البیرونی اور جابر بن حیان جیسے عظیم سائنس دانوں نے عربی زبان میں تحقیق و تصنیف کے ذریعے انسانی علم کے افق روشن کیے۔
ان کی کتابیں بعد میں لاطینی اور یورپی زبانوں میں منتقل ہوئیں اور جدید سائنس کی بنیاد بنیں۔یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ علم کی ترقی زبان سے نہیں بلکہ زبان کے اندر تحقیق کے جذبے سے ہوتی ہے۔
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (A.I)، روبوٹکس اور خلائی سائنس جیسے مضامین نئی نسل کے لیے فکری اور تخلیقی امکانات کے دروازے کھول رہے ہیں۔
اگر یہ مضامین اردو جیسی مادری زبان میں متعارف ہوں تو سیکھنے کا عمل آسان، بامعنی اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔
اردو میں اے آئی اور روبوٹکس کے بنیادی تصورات کو متعارف کرانے سے طلبہ ان مشکل مضامین کو اپنی ثقافت اور فہم کے مطابق سمجھ سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک اپنی زبانوں میں ان مضامین کو شاملِ نصاب کر رہے ہیں، تاکہ ٹیکنالوجی ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی بن سکے۔
خلائی سائنس ماضی میں صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود تھی، مگر آج روبوٹک مشینری اور مصنوعی ذہانت کی بدولت یہ میدان ہر قوم کے لیے کھل چکا ہے۔
جب طلبہ کو اپنی مادری زبان میں سائنسی علوم پڑھائے جاتے ہیں تو ان کے اندر تحقیق اور جستجو کا جذبہ بیدار ہوتا ہے یہی جذبہ مستقبل کی سائنسی قیادت کی بنیاد بنتا ہے۔
اردو زبان عربی، فارسی اور سنسکرت تہذیبوں کی وارث ہے۔اس میں سائنسی اصطلاحات کے اظہار، تخلیقی سوچ کے فروغ، اور سائنسی تحقیق کی وسعت کے تمام امکانات موجود ہیں۔
اگر ہم اپنی نئی نسل کو اردو میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دیں، تو وہ نہ صرف بہتر سمجھ سکیں گے بلکہ علم کو آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی حاصل کریں گے۔
اے آئی، روبوٹکس اور خلائی سائنس جیسے جدید مضامین جب اردو میں پڑھائے جائیں،
تو وہ صرف تعلیم نہیں، بلکہ تحقیق، تخلیق اور ترقی کا راستہ بن جاتے ہیں۔اگر عربی زبان میں سائنس نے جنم لیا تھا، تو اردو زبان میں اس کی نشوونما یقیناً ممکن ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اردو کو جدید علوم کی زبان بنائیں، نہ کہ محض ادب و مشاعروں کی !
اردو زبان جو کبھی علم، تہذیب اور دانش کی علامت تھی، آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صرف مشاعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ماضی میں یہی زبان درس و تدریس، فلسفہ، سائنس اور ادب کی زبان تھی، مگر آج تعلیمی اداروں اور تحقیقی میدانوں سے اسے منظم طور پر دور کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل اردو کو محض جذباتی اظہار کا وسیلہ سمجھتی ہے، نہ کہ علمی و فکری ترقی کا ذریعہ۔ اگر ہم نے اردو کو صرف شاعری تک محدود رکھا تو یہ زبان رفتہ رفتہ علمی دنیا سے مٹ جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کو دوبارہ علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کی زبان بنایا جائے تاکہ یہ صرف مشاعرہ گاہوں میں نہیں، بلکہ تجربہ گاہوں اور درسگاہوں میں بھی زندہ رہے۔اپنی مادری زبان کے ذریعے علم کو عام کرنا ہی جدید دور کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے