कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک دن اسپتال میں

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

پڑوسی چچی جان کی طبیعت ناساز تھی ان کی عیادت کے لیے ہم اسپتال گئے تھے۔
اسپتال سے مراد ایسی جگہ جہاں ، مریضوں اور بیماروں کو علاج معالجے کے لیے لایا جاتا ہے ۔ جہاں ڈاکٹر ہوتے ہیں جومریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔
ہمارے بھارت میں ہوٹل اور ہاسپٹل ان دونوں جگہوں پر ہمیشہ بھیڑ ہوتی ہے۔ ان جگہوں پر عوام ہمیشہ کثیر تعداد میں دکھائی دیتی ہیں ۔ ہوٹل چاہے بریانی ، مرغ مسلّم کی ہو یا ، چائے یا کافی کی ، باکل اسی طرح اسپتال سے متعلق بھی چاہے وہ کوئی معمولی سے ڈاکٹر کا کلینک ہو یا چاہے بڑی اور اونچی عمارت والا ہاسپٹل بھیڑ لازمی ہے ۔
اسپتال میں اک ادھیڑ عمر کے شخص تھے ، جو وینٹی لیٹر پر تھے، ان کی بیٹی باپ کی عمر کی دعائیں کر رہی تھی ، اور وہ ان کے گھر کا واحد سہارا تھے ،جو معاشی نظام کو سنبھالتے تھے ، وہ کہہ رہی تھی آپ آخری امید ہیں ؟ اس گھر کے واحد شجر ہیں جو پھل اور سایہ دونوں ہیں ؟
اور اسی اسپتال میں ایک ایمبولینس ہارن بجاتے اور لال بتی جلاتے ہوئے پہنچی ، لوگ انھیں راستہ دے رہے تھے ، لیکن اسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہی روح نے خدا سے ملاقات کرلی ۔
ایک جانب ایک حضرت اپنی پیاری سی بچی کو لیے آئے تھے ، اس کی عمر تیرہ برس کی ہوگی جو لنگڑ کر چل رہی تھی اس کے پیر لڑکھڑا رہے تھے ،  بچی نے ڈاکٹر صاحب سے امید بھرا اور معصومانہ سوال کیا ، آپریشن کو ٹالا جاسکتا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب میں ڈاکٹر صاحب نے نفی میں سر ہلایا ۔
اب شہزادی کے آپریشن کے لیے وہ پیسے اکٹھا کر رہے ہیں ۔ جمعہ کے دن آپریشن ہے !!!
ایک والد صاحب کو ان کا بیٹا ڈانٹ رہا تھا ، پھر سے شگر؟ ( ذیا بیطس ) ؟
یہ کیا ڈیڈ ؟؟؟  خیال رکھا کیجئے ، اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو ؟؟ (پریشانی سے کہتے ہوئے )
اچھا اب میں بھی آپ کے لیے شگر فری چائے پیؤں گا !!!  اور ڈیڈی بیٹے کی محبت پر مسکرا اٹھے ۔۔۔
اسپتال کے تمام نرسوں کو کسی نے خوشی سے پیسے دیے، دادی پورے اسپتال میں خوشیاں مناتے ہوئے ، پوتے کی آمد پر مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہیں !  دوسری جانب ایک عورت تیسری بیٹی کی پیدائش پر آنسو بہا رہی ہے ۔۔۔
ایک جانب کچھ لوگ ڈاکٹر کی بد اخلاقی اور بے توجہی کی باتیں کر رہے ہیں ، کہتے ہیں،کہ صرف پیسہ لوٹا جارہا ہے ،  ذرا سی پیٹ میں تکلیف ہو تو سونو گرافی ، معمولی سی بات پر بلڈ ٹیسٹ ، شگر ٹیسٹ ، یورین ٹیسٹ ایسا ہو تو ہم غریبوں کے لیے زہر ہی کافی ہے ۔۔ ایک بڑھیا بڑ بڑائے جارہی تھی، ہمارے دور میں تو ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور مرض پہچان لیا ۔ جڑی بوٹی سے علاج ہوجا یا کرتا تھا یہ صرف مشینوں سے کھیلتے ہیں جب کچھ سمجھ ہی نہیں آتا تو  ڈاکٹر کیسے ہوئے ؟
کم از کم اتنے پیسے لے کر یہ بات کرنے کا سلیقہ ہی سیکھ لیتے تو کیا ہی بات ہوتی؟
ایک جانب سے چیخنے چلانے اور رونے کی آوازیں آرہی تھیں ، موٹر سائیکل اور ٹرک کے حادثے کا شکار بیٹا اور بہو دونوں فوت ہوچکے تھے ، انھیں سب تسلی دے رہے تھے ۔۔۔۔۔
دوسری جانب ،ایک بچی جو ابھی صرف سات یا آٹھ مہینے کی ہوگی ، زکام اور بخار سے پریشان تھی ۔ بار بار چھینک رہی تھی ۔
ایک بچہ کے بابا اسے ڈانٹ رہے تھے اور ساتھ ساتھ سمجھا بھی رہے تھے ،دیکھا تمہارے چشمے (عینک ) کا نمبر پھر سے بڑھ گیا ،
میرا بچہ ؟ کتنی بار منع کیا موبائیل فون دیکھنے سے؟  ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا سن لیا نا ؟ اب اس عادت کو کم کرو بیٹا ؟ بات مان لو میرا بچہ ، خدا نہ خواستہ تمہاری آنکھیں اندھی نہ ہو جائیں!
ایک مریض کو کسی بڑے شہر کے ڈاکٹر صاحب سمجھا رہے تھے ، ان کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ انھوں نے جاپان سے اپنی تعلیم حاصل کی ہے ، اور مریض کو ان کی زندگی کی مشکلات کے بارے میں بتا رہے تھے ، اور مریض کی خود کشی کی کوشش پر کچھ ڈانٹ ڈپٹ بھی کر رہے تھے ،مریض کی ماں بیٹے کی جان بچنے کی خوشی میں ڈاکٹر صاحب کا آنسوؤں کے ذریعے شکریہ ادا کر رہی تھی اور اس جوان بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس سے آئندہ خود کشی نہ کرنے کی قسم دلا رہی تھی۔
ایک عورت کو جسمانی کمزوری کے سبب گلوکوز چڑھایا گیا ، اس کا معصوم بچہ ، مما کے لیے دعا کر رہا تھا ۔
ایک بچی جس کا بخار ہی نہیں اتر رہا ہے ، 103 ہے ، گولیاں ، دوائیں ، گلوکوز ، انجیکشن ۔
دیہات کے ایک حضرت کو ڈاکٹر صاحب ڈانٹ رہے تھے کہ انھوں نے سیڑھیوں سے گرنے پر اسپتال آنے کی بجائے ، پیروں پر بہت زیادہ مالش کی اور درد بڑھ گیا ۔
ایک جانب بلڈ ڈونیشن ( خون کا عطیہ) دیا جارہا تھا ۔
ایک ذہنی تناؤ کے شکار ( ڈپریشن) کے مریض کو ڈاکٹر نے ورزش کرنے ، چلنے ( واک پر جانے) ، مثبت سوچنے ،باتیں کرنے کی صلاح دی ، کچھ کاؤنسلنگ بھی کی ، اور نیند کی گولیاں بھی دیں ، ساتھ ساتھ مفت کا مشورہ دیا کہ ، آپ صدقہ دیا کیجئے ، کچھ غریبوں کو کھانا کھلائیے ، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کیجئے۔۔۔۔۔
ایک بوڑھی درد سے کراہ رہی تھی ،وہ صوفہ پر بیٹھ بھی نہیں سکتی تھی ، اس کی کمر میں درد تھا ، اس کا نمبر 71 تھا ، لیکن 32 نمبر والی خاتون نے اسے پہلے موقع دے دیا۔وہ ہر کسی سے اپنی تکلیف کا اظہار کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔
ایک خا لہ جان بھی تھی ، جو اسپتال کے انتظار کے صوفہ پر بیٹھے ہر اک سے باتیں کر رہیں تھی ، اور ان میں صبر تو بالکل نہ تھا ، ان کے آنے کے اگلے دس منٹ میں ہی پورے اسپتال میں یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ ان کے کمر میں درد ہے، پین کلر بھی لی تھی کچھ افاقہ نہ ہوا ، اسی کے ساتھ ساتھ پورے بدن میں گلاوٹ ہے ۔۔۔
وہیں انتظار کے صوفے پر ایک حضرت جی نے کسی سے پوچھا کیوں آئے ہیں ؟ انھوں نے مسلسل سر درد کہا تو ،حضرت نے کہا کہ بس اتنی سی بات پر اسپتال آئے ہیں ؟میں تو ڈاکٹر صاحب سے زیادہ معلومات رکھتا ہوں ،
سر درد ۔ پیناڈال
بدن درد۔۔۔ بروفن یا کامبی فلیم
بخار ۔ کال پول ،
زکام ۔کھانسی۔ ٹسکیو،
صفرا ( ایسی ڈیٹی)۔ رینٹیک
وغیرہ
اور حضرت جی 70 سال کی عمر میں بھی تندرست ہیں ، اپنے دوست کی عیادت کے لیے خود چل کر آئے ہیں وغیرہ۔
ہم نےپڑوسی چچی جان کی عیادت کے بعد ہم اجازت لے ہی رہے تھے کہ، وہی بچی کی آوازیں اور سسکیاں سنائی دیں ، گھر کے آخری شجر بھی سوکھ گیا ؟؟؟ ہم تو صرف اس معصوم کے آنسو ہی دیکھ پائے ، وہ اسپتال سے واپس گھر جارہی تھی ،بھیڑ بھاڑ میں وہ ایمبولینس نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔
ہم نےپڑوسی چچی جان کو الوداع کیا اور گھر آگئے اور ان سارے مناظر کو اس مضمون میں قید کرلیا ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے