कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایپسٹین فائلز: کئی ملکوں میں سیاسی بحران،ہندوستان میں خاموشی

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری حالیہ دستاویزات نے جیفری ایپسٹین کی موت سے متعلق جاری بحث کو دوبارہ تیز کردیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آنے لگی ہیں،نئی جاری ہونے والی فائلزمیں صدا یافتہ فینانسر اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹن کی موت کے بعد کی تصاویر اور ایف بی آئی کی ایک تفصیلی رپورٹ شامل ہے،جس میں 10 اگست 2019 کو جیل میں پیش آنے والے واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں،تصاویر میں ایپیسٹین کی لاش اسٹیچر پردکھائی گئی ہے اور گردن پر زخموں کے واضح نشانات بھی بتائے گئے ہیں،دستاویز کے مطابق ایک ناکام خودکشی کی کوشش کے بعد ایپسٹین کو سخت نگرانی میں رکھا گیا تھا،تاہم ماہر نفسیات سے گفتگو میں انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی میں عدم دلچسپی ظاہر کی تھی،فائلز میں جیل کے نظام کی بعض سنگین خامیوں کا بھی ذکر ہے،جن میں قیدی ساتھی کی منتقلی، گارڈز کی نگرانی میں کوتاہی اور واقعہ کی رات کیمروں کے خراب ہونے جیسے نکات شامل ہیں،ان دستاویزات کی اشاعت کے بعد انٹرنیٹ پر مختلف سازشی نظریات دوبارہ زیر بحث آگئے ہیں،کچھ صارفین نے مبینہ لاش کی تصاویر کو پرانی تصاویر سے ملا کر جسمانی خدو خال میں فرق کے دعوے کیے ہیں۔
امریکی قانون سازوں نے بدنام زمانہ فینانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم،جیفری ایپسٹن کے اثاثوں سے حاصل کردہ ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں،جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے اور دنیا بھر کی سیاست میں ایک طوفان برپا ہے،ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ،سابق پاکستانی وزیراعظم اور کرکٹر عمران خان،ٹرمپ کے سابق مشیر سی ٹی او بینن،سابق شہزادہ اور بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈر یو،ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی،حکومت ہند کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری،امبانی،میڈیا،سیاست اور تفریح کی دنیا سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں،جوا پیسٹین کے وسیع روابط کی جھلک پیش کرتے ہیں،ٹرمپ کئی برسوں تک ایپسٹین کے دوست رہے مگر ان کا کہنا ہے کہ دونوں میں تقریبا 2004 میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے،یعنی ایپسٹن کی پہلی گرفتاری سے کئی سال پہلے ٹرمپ نے ایپسٹین کے حوالے سے کسی بھی بدعملی میں شمولیت سے مستقل طور پر انکار کیا ہے،اپیسٹن فائل سے مراد وہ عدالتی دستاویزات، گواہیاں،رپورٹس،ای میلز اور دیگر اہم شواہد ہیں،جو امریکی فینانسر جیفری ایپسٹن کے کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال،اسمنگلنگ اور عالمی اشرافیہ کے ساتھ تعلقات پر مبنی ہیں،یہ وہ فائلز ہیں،جنہوں نے صرف ایک شخص نہیں بلکہ پوری عالمی طاقت اور اس کے اخلاقی وجود کو بے نقاب کردیا ہے۔1998 میں ایپسٹن نے امریکن ورجن آئی لینڈز میں ایک نجی جزیرہ خریدا،جہاں اس نے ایک نیلے گنبد والی پرتعیش عماررت تعمیر کی،پورا جزیرہ سخت سیکورٹی کے حصار میں تھا،وہاں رسائی صرف اس کے ذاتی ہیلی کاپٹر یا نجی بحری جہاز کے ذریعے ہی ممکن تھی،یہی جزیرہ اس گھناؤنے جرائم کا اصل مرکز بن چکا تھا،جہاں کم عمر لڑکیوں کو لایا جاتا،ان پر ذہنی و جسمانی جبر کیا جاتا اور عالمی اشرافیہ کی ہوس کی آگ بجھائی جاتی تھی،ایپسٹن اپنے نجی طیاروں کے ذریعے لڑکیوں کو گھروں، محلات اور جزیرے کے درمیان منتقل کرتا،جبکہ اس کے پاس موجودویڈیوز،تصاویر،نوٹس اور ڈیجیٹل ریکارڈ اس کے پورے نیٹ ورک کو محفوظ رکھتے،بالآخر 2019 میں امریکی حکومت نے اسے بچوں کی اسمنگلنگ اور جنسی استحصال کے الزامات میں گرفتار کرلیا، مگر چند ہی دنوں بعد وہ جیل میں مردہ پایا گیا،سرکاری موقف خودکشی کا تھا مگر دنیا کے بیشتر حلقے آج تک اسے ایک منظم قتل سمجھتے ہیں،تاکہ وہ زبان ہمیشہ کے لیے بندہوجائے جو طاقت کے ایوانوں کا پول کھول سکتی تھی،ان فائلز کا کچھ حصہ سامنے آیا تو دنیا حیران نہیں بلکہ خوف زدہ ہوگئی، کیونکہ جو نام سامنے آئے وہ محض سیاسی لیڈروں یا سرمایہ داروں تک محدود نہیں تھے،بلکہ بادشاہوں،شہزادوں،حکمرانوں،پروفیسرز،سفارت کاروں،عالمی تنظیموں کے سربراہوں،ٹیکنالوجی کے شہنشاہوں اور میڈیا ٹائکونز تک پھیلے ہوئے تھے۔ایپسٹین سے متعلق خفیہ دستاویزات کے انکشاف نے دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ہے،امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ 30 جنوری کو تقریبا 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی تھی، جس کے بعد دسیوں ممالک میں 15 سے زائد اعلی حکام کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا گیا ہے،80 سے زیادہ طاقتور افراد زیر تفتیش ہیں،ان فائلوں میں سیاست دانوں،سفیروں،ارب پتیوں اور شاہی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ای میلس،فلائٹ لاگز اور رابطے کے ریکارڈ میں 700 سے ایک ہزار باثر لوگوں کا ذکر ہے،بہت سے معاملات میں نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات ہیں،ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،سابق صدر بل کلنٹن اور ہیلری کلنٹن جیسے ہائی پروفائل نام مختلف حوالوں سے ظاہر ہوتے ہیں،ایپسٹین کے انکشافات سے یورپ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اورتقریبا 10 ممالک میں استعفوں کی لہر شروع ہو گئی ہے،برطانیہ میں سب سے زیادہ تین عہدے داروں نے استعفی دیا،سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن،ایڈوائزر ایڈم پیری اور پی ایم کیئر اسٹارمرکے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی،سلو واکیہ میں سابق وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر میرو سلاف لیچک نے 300 سے زیادہ مجرمانہ ای میلز اور چیٹس کے انکشاف کے بعد استعفی دے دیا،سویڈن کی سینئر سفارت کار جوانا روبینسٹائن نے استعفی دے دیا،ناروے کی سفیر مونا جول،امریکی وزیر محنت الیکس اکوسٹا اور ایم آئی ٹی لیب کے سربراہ جو چی ایتو سمیت کئی لوگ مستعفی ہوگئے۔معروف امریکی گلو کارہ شیریل کرو نے ایپسٹین اسکینڈل تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے اجرا کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے،جس سے باثر شخصیات کے احتساب پر نئی بحث کا آغاز ہو گیاہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام اسٹوریز پر جاری بیان میں شیریل کرو نے کہا کہ ایپسٹن فائل سے متعلق مختلف ممالک میں نامزد افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے مگر امریکہ میں یا تو اس معاملے کو نظر انداز کیا جارہا ہے یا اسے جھوٹ قراردیا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر بااثر رہنماؤں کو بچوں کے استحصال سے متعلق الزامات پر جواب دہ نہ ٹھہرایا گیا تو یہ انصاف کے اصولوں کے منافی عمل ہوگا،معروف امریکی گلوکارہ نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہر وہ شخص خواہ وہ ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن،امریکی ہو یا غیر ملکی جسے اس معاملے کا علم تھا اور اس نے خاموشی اختیار کی اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
ادھراپیسٹین سے متعلق خفیہ فائلز کے انکشاف نے یورپ سمیت کئی ممالک کی حکومتوں کو ہلا کررکھ دیا ہے جس کے اثرات برطانیہ کی سیاست تک بھی پہنچے ہیں اور وہاں سیاست میں نیا بحران سامنے آگیاہے،سابق سفیر پیٹرمینڈلسن کے ایپسٹین سے روابط سامنے آنے پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا،برطانوی وزیر اعظم کے استعفی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں،سمجھا جارہاہے کہ وہ کسی بھی وقت مستعفی ہوسکتے ہیں اور موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوسکتی ہیں،اگر ایسا ہوتا ہے تو شبانہ برطانوی وزیراعظم بننے والی پہلی مسلم خاتون بننے کا اعزاز حاصل کریں گی،برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے مشیر مورگن مک سوینی کے استعفی نے سیاسی دباؤ میں اضافہ کردیا ہے،حالانکہ برطانوی کابینہ کے بیشتر وزراء نے اسٹارمر کی حمایت کی ہے لیکن اسکاٹ لینڈ لیبررہنما انس سرور نے قیادت تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے،شبانہ محمود اس وقت وزیر داخلہ ہیں،میڈیا رپورٹس میں کہاجارہا ہے کہ حالات بدلنے کی صورت میں وہ ملک کی پہلی مسلم وزیراعظم بن سکتی ہیں،برطانوی ایوانوں میں سیاسی دباؤ کی ایک بڑی وجہ امریکہ میں سامنے آنے والی اپیسٹن فائلز ہیں،ان فائلز میں پیٹر مینڈلسن کا نام آنے سے اسٹارمر پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور لیبر پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ ان سے ناراض بتائے جارہے ہیں،لیبر پارٹی اس وقت ہاؤس آف کامن میں واضح اکثریت رکھتی ہے۔
وزیراعظم برطانیہ کیئر اسٹارمر موجودہ طور پر قیادت کے بحران کا شکار ہیں،ایسے میں شبانہ محمود کو ممکنہ جانشین اور برطانیہ کی پہلی مسلم وزیراعظم کے طور پر دیکھا جارہا ہے،زیر بحث ناموں میں سب سے نمایاں نام برطانوی ہوم سکریٹری شبانہ محمود کا ہے،جو نہ صرف اسٹارمر کی قریبی حلیف ہیں بلکہ ممکنہ طور پر برطانیہ کی پہلی مسلم وزیراعظم بھی بن سکتی ہیں،لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں شبانہ محمود کو ایک مضبوط اور سنجیدہ سنجید لیڈر کے طور پردیکھا جارہا ہے اگر وہ اس منصب تک پہنچتی ہیں تو یہ برطانوی سیاسی تاریخ کا ایک غیرمعمولی اور تاریخی موقع ہوگا،شبانہ محمود پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل اور لیبر پارٹی کی سینیئر رہنما ہیں وہ ایک اچھی مقرر،نظم و ضبط کی حامل سیاستداں اور پارٹی کے دائیں بازو سے وابستہ سمجھی جاتی ہیں،انہیں طویل عرصے سے کیئر اسٹارمر کی قابل اعتماد ساتھی تصور کیا جاتا رہا ہے،شبانہ محمود 45 سالہ وکیل اور لیبر پارٹی کی مضبوط رہنما سمجھی جاتی ہیں،شبانہ محمود کا تعلق پاکستانی نزاد کشمیری خاندان سے ہے انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بنیں،2010 میں پہلی بار پارلیمنٹ پہنچی اور پہلی مسلم خواتین اراکین میں شامل ہوئیں،شبانہ محمود کی پیدائش برمنگم میں ہوئی انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک کالج سے 2002 میں قانون کی تعلیم مکمل کی،جبکہ 2003 میں انس آف کورٹ اسکول آف لا سے بار ووکیشنل کورس مکمل کیا،بعد ازاں انہوں نے بطور بیرسٹر عملی وکالت بھی کی،2025 میں انہیں وزیر داخلہ مقرر کیا گیا،ایمیگریشن کے معاملے میں ان کی پالیسیاں سخت رہی ہیں،انہوں نے مستقل رہائش کے قوانین مزید سخت کرنے کی حمایت کی ہے،شبانہ کے وزیراعظم بننے کے لیے اسٹارمر کا استعفی یا قیادت سے ہٹنا ضروری ہوگا،قیادت کے چیلنج کے لیے کم از کم 81 لیبراراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہے،آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ شبانہ محمود اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتی ہیں؟برطانوی وزیراعظم کے اس وقت اپنی کارکردگی یا کسی ذاتی غلطی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں،جس نے ان کے سیاسی مستقبل پرسوالیہ نشان لگادیا ہے،اسٹارمر کا ایک متنازع فیصلہ ان سے وزارت عظمی چھن جانے کا باعث بن سکتا ہے،اور ان کی جگہ برطانوی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون مسلمان کو وزیراعظم بنائے جانے کا امکان ہے،یہ معاملہ معروف کاروباری شخصیت اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے دوبارہ منظر عام پر آنے اور اسٹارمر کی جانب سے پیٹر مینڈلسن کو لیبر پارٹی کے پاور اسٹرکچر میں واپس لانے سے جڑا ہے،مینڈلسن کوایپسٹین کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیاجاتارہا ہے،اگرچہ اسٹارمر یا مینڈلسن پربراہ راست کسی غلط کام کا الزام نہیں ہے لیکن سیاست میں عوامی تاثر اور وقت کی نزاکت بہت اہمیت رکھتی ہے،برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اسٹارمر کے سیاسی فیصلے کی یہ چوک ان کی رخصتی کا سبب بن سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں ملک کو پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم مل سکتی ہے؟ پیٹر مینڈلسن،لیبر پارٹی کے پرانے اور بااثر کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کا نام ایلیٹ نیٹ ورک اور باثر شخصیات کے ساتھ جوڑاجاتارہا ہے،ایپسٹین طوفان کے دوبارہ اٹھنے سے برطانوی عوام میں اشرافیہ کے اثر و رسوخ کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے اور ایسے میں اسٹارمر کا میڈلسن پر بھروسہ کرنا بہت سے ارکان پارلیمنٹ کو ایک بڑی سیاسی غلطی لگ رہا ہے،لیبر پارٹی کے اندر یہ سوالات شدت سے اٹھ رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم عوامی جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ گزشتہ روز پرنس اور پرنسس آف ویلز کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ میں اس بات کی توثیق کرسکتا ہوں کہ شہزادہ اور شہزادی ایپسٹین کی جاری ہونے والی دستاویز میں ہونے والے انکشافات پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں،ترجمان کے مطابق ان کی تمام تر ہمدردیاں اور توجہ متاثرین کے ساتھ ہیں،پرنس اینڈڈریو کے جنسی مجرم سے تعلقات کے باعث یہ معاملہ شاہی خاندان تک جا پہنچا ہے،واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں انڈر یو سے شاہی اعزازات واپس لے لئے گئے تھے،اب ایپسٹن فائلز کے جاری ہونے کے بعد انکے اپیسٹن سے تعلقات بھی سامنے آئے ہیں، جسکے بعد وہ متعدد الزامات کی زد میں آچکے ہیں، شاہ چارلس کے بھائی پرنس اینڈر یو پر لگے تازہ الزامات میں یہ دعوی بھی شامل ہے کہ انہوں نے برطانیہ کے تجارتی نمائندہ کے طور پر اپنے کردار کے دوران حساس معلومات اپنے متنازعہ دوست کے ساتھ شیئر کی،جبکہ ان پر اپیسٹین کی فراہم کردہ خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف کمسن بچیوں سے زیادتی میں ملوث بدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپیسٹن کی رازداں دوست گزلین میکسوویل نے امریکی اراکین کانگریس سے کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت زبان کھولے گی،جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے معافی کا اعلان کیا جائے گا،ٹرمپ نے میکسوویل کو معافی دینے کا واضح جواب نہیں دیا، میکسو ویل کو 2021 میں سزا سنائی گئی تھی،اس پر ایپسٹین کے ساتھ مل کر جنسی مقاصد کے لیے کم عمر لڑکیوں کی انسانی اسمنگلنگ کا جرم ثابت ہو گیا تھا،وہ اس وقت ٹیکساس کی جیل میں 20 سال کی سزا کاٹ رہی ہے،واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکیوں کو جس میں فروشی پر اکسانے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی،2019 میں جیل میں مشتبہ حالت میں اس کی موت ہو گئی تھی، حکام نے اسے خودکشی قرار دیا تھا،تاہم بعض میڈیا گوشوں میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ کسی نے اسے ہلاک کردیا وہ اس وقت جنسی اسمنگلنگ کے الزامات کا سامنا کررہا تھا۔ ایپیسٹین سے منسلک تازہ امریکی دستاویزات میں متعدد بااثر اور معروف شخصیات کے نام سامنے آنے کے بعددسیوں افراد کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہوناپڑا، کئی افراد کو سرکاری تحقیقات اور عوامی سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کہا ہے کہ جو بھی متاثرہ شخص جنسی مجرم جیفری کے بارے میں سچ بولے گا میں اس کی مدد کروں گا،مسک نے ایکس پر یہ اعلان کیا ہے کہ میں ہر اس متاثرہ شخص کے دفاع کی قانونی فیس ادا کروں گا جو جیفری ایپسٹن کے بارے میں سچ بولے گا، انہوں نے یہ اعلان اس وقت کیا جب امریکی مبصر میٹ والس نے اپنی پوسٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی،جس میں خواتین یہ دعوی کرتی نظر آئیں کہ جیفری ایپسٹین اور اس کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے،میٹ والس نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ میں جعفری ایپسٹن سے متعلق محکمہ انصاف کی جانب سے تمام فائلز کو جاری کرنے کی حمایت کرتا ہوں لیکن میرا سوال ہے کہ خواتین نے جیفری ایپسٹین کے ساتھیوں کا عوامی سطح پر نام کیوں نہیں لیا،جن پر وہ زیادتی کرنے کے الزام لگا رہی ہیں،انہوں نے مزید لکھا کہ یہ خواتین کسی بھی وقت اپنے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کا نام لے سکتی ہیں،میٹ والس نے یہ بھی لکھا کہ یہ خواتین معاشرے کے سب سے طاقتور عہدوں پر بیٹھے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے نام جاننے کا دعوی کررہی ہیں لیکن ہمیں نام نہیں بتا رہی ہیں کیونکہ شاید ان خاتون کو ڈر ہے کہ ایسا کرنے پر انہیں قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ ایپسٹین فائلز میں کسی بھی شخصیت کا نام آجانے سے اس کا جرم قانونی طور پر ثابت نہیں ہوجاتا مگر یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں ہے کہ عالمی سطح کے ایک بدنام مقدمے کی ٹرائل فہرست میں شامل ہوجانا کسی بھی باوقار شخصیت کے دامن پر ایسا داغ ہے،جسے بے گناہی کے سینکڑوں دلائل بھی مکمل طور پر دھو نہیں سکتے،ایسے الزامات قانونی کم،اخلاقی اور تہذیبی سوال زیادہ کھڑے کرتے ہیں،دنیا کی نظروں میں یہ محض ایک کیس نہیں رہتا بلکہ کردار،فیصلہ سازی اور انسانی وقار پر ایک مستقل سوالیہ نشان بن کررہ جاتا ہے،ان فائلز میں بتایا جاتا ہے کہ ابھی اور کئی ہندوستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جن کی تفصیلات منظر عام پر آنا باقی ہے،سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی اتھل پتھل جاری ہے،دنیا بھر کی سیاست میں بحران ہے تو ہندوستان میں خاموشی کیوں ہے؟جبکہ یہاں وزیر اعظم سے لیکر ہردیپ سنگھ پوری کے نام اس فائل میں موجود ہیں،بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہردیپ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں قبول کیا کہ میں تین چار بار ایپسٹین سے ملاہوں،سوال یہ ہے کہ اسطرح کا اعلان فخریہ انداز میں کیوں کیا جارہا ہے؟کانگریس کا الزام ہے کہ ایپسٹین سے متعلق خبروں کو شائع کرنے سے مودی حکومت، میڈیا اداروں کو روک رہی ہے،کل پارلیمنٹ میں اپسٹین فائل کا ذکرراہل گا ندھی نے بھی زور دار انداز میں کیا تھا،پھروزیر اعظم سمیت ہردیپ سنگھ پوری کا استعفی کب لیا جائے گا؟
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے