कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایمان، اعتدال اور ایپ کلچر: آج کے مسلمان کے لیے ایک سوال

تحریر:خان اجمیری زوجہ ڈاکٹرزبیر خان (خان میڈیم )
MCA, B.sc (CS & CBZ)B.ed
اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ضلع ناندیڈ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام انسان کو صرف جینے کا طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ جینے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ کیا ممکن ہے، بلکہ یہ سمجھاتا ہے کہ کیا مفید، متوازن اور اللہ کو پسند ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی محض خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، احتساب اور انجام پر نظر رکھنے کا سفر ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟” (الجاثیہ: 23)
یہ آیت دراصل ہر دور کے انسان سے سوال کرتی ہے کہ کہیں سہولت، خواہش اور آسانی اس پر اس قدر حاوی تو نہیں ہو چکی کہ وہ سوچنا، رکنا اور پرکھنا ہی بھول گیا ہو۔
آج کا دور سہولتوں کا دور کہلاتا ہے۔ موبائل، ایپس اور ڈیجیٹل نظام نے زندگی کو تیز اور بظاہر آرام دہ بنا دیا ہے۔ خاص طور پر کھانے پینے کے معاملے میں آن لائن فوڈ ڈیلیوری نے گھروں کے نظام، عادتوں اور ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چند لمحوں میں رنگین تصویریں دیکھ کر آرڈر دینا اور اجنبی ہاتھوں سے تیار شدہ کھانا گھر کی دہلیز پر پہنچ جانا اب معمول بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ چیز جو آسان ہو، وہ ہمارے دین، صحت اور خاندانی نظام کے لیے بھی مفید ہوتی ہے؟
اسلامی طرزِ زندگی محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جس میں حلال رزق، سادگی، حیا، اعتدال، نظم و ضبط اور گھریلو ماحول کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کہتا ہے:
“اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ” (البقرہ: 168)
حلال صرف ذبح تک محدود نہیں، بلکہ طریقۂ تیاری، نیت اور اثرات سب اس میں شامل ہیں۔ آن لائن فوڈ ڈیلیوری میں یہ تحقیق اکثر ممکن نہیں رہتی کہ کھانا کس ماحول میں بنا، کس معیار کا تھا اور اس میں پاکیزگی کا کتنا لحاظ رکھا گیا۔
یہاں رمضان المبارک ہمیں خاص طور پر رک کر سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ رمضان سہولت کا نہیں بلکہ ضبطِ نفس، صبر اور خواہشات پر قابو کا مہینہ ہے۔ قرآن واضح طور پر اعلان کرتا ہے:
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بنو” (البقرہ: 183)
مگر افسوس کہ اسی مہینے میں کھانے پینے کی دوڑ اور بڑھ جاتی ہے۔ افطار سے پہلے ایپس پر تصویریں دیکھنا، مختلف چیزیں آرڈر کرنا اور دسترخوان کو بوجھل بنانا روزے کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا افطار نہایت سادہ ہوا کرتا تھا — کھجور اور پانی۔ یہی سادگی جسم کو بھی فائدہ دیتی ہے اور عبادت میں یکسوئی بھی پیدا کرتی ہے، جس کی تصدیق آج جدید سائنس بھی کرتی ہے۔
اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان کا جسم اللہ کی امانت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے”
سائنس بتاتی ہے کہ بار بار باہر کا پیک شدہ، چکنائی اور نمک سے بھرپور کھانا نظامِ ہضم، دل اور دماغ سب کو متاثر کرتا ہے۔ فاسٹ فوڈ وقتی لذت تو دیتا ہے مگر آہستہ آہستہ لت، بے چینی اور چڑچڑاپن پیدا کرتا ہے۔ اسلام قناعت سکھاتا ہے، کیونکہ قناعت ہی دل کا سکون ہے۔
اس سہولت کلچر کا سب سے گہرا اثر بچوں کی تربیت پر پڑتا ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ روز دیکھتے ہیں۔ جب ان کے سامنے گھر کے کھانے کے بجائے پیکٹ، برانڈ اور باہر کی چیزیں ہوں تو سادگی، شکر اور قناعت ان کی زندگی سے نکلنے لگتی ہے۔ قرآن والدین کو متنبہ کرتا ہے:
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ” (التحریم: 6)
یہ بچاؤ صرف عقیدے کا نہیں بلکہ عادتوں، ماحول اور طرزِ زندگی کا بھی ہے۔
پردہ اور حیا کا پہلو بھی اس مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“حیا ایمان کا حصہ ہے”
آن لائن فوڈ ڈیلیوری نے گھروں کی دہلیز کو بار بار اجنبیوں کے لیے کھول دیا ہے۔ ابتدا میں یہ معمولی لگتا ہے، مگر آہستہ آہستہ حیا اور احتیاط کمزور پڑنے لگتی ہے۔ قرآن خواتین کو وقار کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے:
“اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو” (الاحزاب: 33)
یہ وقار صرف لباس تک محدود نہیں بلکہ رویّے اور فیصلوں میں بھی شامل ہے۔
اسراف اور فضول خرچی اس کلچر کا ایک اور خطرناک نتیجہ ہے۔ قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
“بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (الاعراف: 31)
ہم وہی کھانا کئی گنا قیمت دے کر منگواتے ہیں جو گھر میں کم خرچ میں بن سکتا ہے، اور پھر اکثر ضائع بھی ہو جاتا ہے۔ سائنس بھی کہتی ہے کہ غیر ضروری خرچ ذہنی دباؤ اور بے چینی کو بڑھاتا ہے۔
یہاں علماء، والدین اور خاص طور پر ماؤں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ جدید مسائل پر متوازن رہنمائی دیں، اور مائیں گھروں کو دوبارہ تربیت کا مرکز بنائیں۔ گھر کا کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دعا، محبت اور تربیت کا مجموعہ ہوتا ہے۔ سہولت کو ضرورت تک محدود رکھنا ہی حکمت ہے۔
آخر میں حقیقت یہی ہے کہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری بذاتِ خود نہ حرام ہے نہ گناہ، مگر اس کا بے سوچ، بے حد اور بے پردہ استعمال دین، صحت اور معاشرت — تینوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے، اور سائنس بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔
اب سوال یہی ہے، اور یہی ہر مسلمان کے لیے غور کا مقام ہے:
کیا ہم سہولت کو استعمال کر رہے ہیں، یا سہولت ہمیں استعمال کر رہی ہے؟
اگر ہم نے وقت رہتے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، تو سہولت ہماری زندگی کو آسان نہیں بلکہ خالی کر دے گی — اور یہی وہ خسارہ ہے جس سے قرآن بار بار خبردار کرتا ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے