कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایس معشوق احمد کی”کتابیں جھانکتی ہیں“:ایک تاثر

از: واجداختر صدیقی گلبرگہ (کرناٹک)
سیل نمبر : 9739501549

ادب کی دنیا میں یوں تو کئی کتابیں دھڑا دھڑشائع ہورہی ہیں لیکن بعض کتابیں صرف تحریروں تک مکتفی نہیں ہوتیں بلکہ وہ کتابیں اپنے اندر ایک نئی دنیا کو جہانِ معنی کے ساتھ آباد رکھتی ہیں۔ ایسی ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز کتابوں میں ”کتابیں جھانکتی ہیں “ کو شامل کیا جا سکتا ہے جس کے مصنف ایس معشوق احمد ہیں،جن کا تعلق خوبصورت وادی کشمیر کے ضلع کولگام کے ایک علم پرور گاو ¿ں کیلم سے ہے۔
ایس معشوق احمد جہاں ایک اچھے انشائیہ نگار ہیں وہیں وہ ایک عمدہ ادیب، نثر نگارو مبصر بھی ہیں۔ کتابوں کے مطالعے سے انہیں گہرا شغف ہے۔ معشوق نہ صرف کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ ان کتابوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کا تجزیہ بھی بہت عمدگی سے کرتے ہیں۔” کتابیں جھانکتی ہیں“ سے قبل ان کے دو انشائیوں کے مجموعے ”میں نے دیکھا“ ، اور” کو تاہیاں“ شائع ہوکر کافی مقبول ہوچکے ہیں۔ایس معشوق احمد کا وصف خاص یہ ہے کہ وہ تحقیقی و تجزیاتی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی اہم کتاب”دبستانِ کشمیر کے درخشاں ستارے“ ہے۔ ان کی چوتھی کاوش ” کتابیں جھانکتی ہیں“ ہے۔ 188 صفحات پر مشتمل کتاب” کتابیں جھانکتی ہیں “میں فاضل مبصرنے جملہ تیس(30) کتابوں پر اپنے تبصراتی مضامین اور تجزیے شامل اشاعت کیے ہیں۔ آخر میں انھوں نے اپنی تین کتابوں پر معروف اہل قلم کے مضامین شائع کیے ہیں جس سے معشوق کی ادبی معنویت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔
اپنی بات میں ایس معشوق احمد نے بجا طورپر لکھا ہے کہ ”سنجیدہ قارئین ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کے موجودہ زمانے میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر کے پردہ پر گزر جاتا ہے اور کتابیں جھانکتی ہیں بندالماری کے شیشوں سے۔ “ایس معشوق احمد نے اپنی کتاب کا عنوان ممتاز شاعر گلزار کی نظم سے اخذ کیا ہے جس میں گلزارنے تمثیلی انداز میں کتابوں کی بے چینی کا اظہار بڑی ہی کربناکی سے کیا ہے۔
”کتابیں جھانکتی ہیں“ کے پیش لفظ میں ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری لکھتے ہیں کہ” ایس معشوق احمد کسی بھی کتاب کا سنجیدہ مطالعہ کرتے ہیں پھر بڑی عمدگی سے اس پر تبصرہ بھی لکھتے ہیں اور کتاب کی اہم چیزوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں تاکہ قارئین بھی اس کتاب کی اہمیت اور پڑھنے کی طرف مائل ہو جائیں۔ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی لازمی بن جاتی ہے جو آج کے اس مادی دور میں کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اس پرتبصرہ لکھتے ہیں۔”
یہ کتاب صرف ایک کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب ہندوستان بھرکے معروف، ممتاز اور نئے لکھنے والا شعراءو ادباءکی تیس(30) نئی کتابوں کا حوالہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ادبی تبصروں پر مشتمل ہےجن میں مصنف نے معروف وابھرتے ہوئے ادبا ءو شعر اءکی تخلیقات کو نہایت سنجیدگی ،گہرائی اور خلوص کے ساتھ نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ان کو ادب کی کسوٹی پر پرکھابھی ہے۔ یہ کتاب صرف تبصروں کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کے عصری مزاج،منہاج، تخلیقی رویوں اور فکری جہات کی جھلکیاں بھی پیش کرتی ہے۔
ایس معشوق احمد مطالعے،مشاہدے اور تجزئیے کا جنون رکھتے ہیں۔ سیکڑوں کتابیں ان کے مطالعے میں آئی ہیں۔ اکثر کتابوں پر انھوں نے تبصرے اور تجزیئے رقم کئےہیں۔ اس کتاب میں بھی انھوں نے کئی کتابوں پر عرق ریزی سے اظہار خیال کیا ہے جس میں چند قابل ذکر کتابیں یوں ہیں محمد اسد اللہ کی” ہوائیاں“ ،” کیسا ہے یہ جنون: ایک جائزہ“ ،منور عثمانی کی ”فرنٹ سیٹ“ ، انطباق : ایک مختصر جائزہ ، لا بہ لا : ایک جائزہ ، احساس و ادر اک:ایک جائزہ ، رحیم رہبر: ”حصار کے آئینے میں“، دستک سی در دل پر: ایک نظر وغیرہ۔
کتابوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ایس معشوق احمد نے اس کتاب کی مناسبت سے ایک عنوان تجویز کرکے اس کتاب کا تبصرہ پیش کیا ہے جیسے خرافات کی شائستگی، پرکالہ گفتار کی خوش گفتاری ،اماں نامہ: نشاط کی نشاط انگیزی، گلرنگ کی رنگارنگی،حسن انتخاب کی حسن بیانی وغیرہ۔ اس طرز سے ان تبصروں میں مزید جان اور دلکشی پیدا ہو گئی ہے۔
ایس معشوق احمد کا انداز و بیان نہایت شیریں ،رواں دواں، سلیس شائستہ اور تجزیاتی ہے وہ محض تعریفی جملوں پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ ہر کتاب کے پس منظر، اسکے ادبی مقام ، اسلوب اور موضوعاتی اہمیت کو وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کا تبصراتی فن صرف ادیبوں اور شعراءکو ہی آئینہ نہیں بتاتا بلکہ عام قاری کے لیے بھی ان کا طرز تخاطب ادبی رہنمائی کا درجہ رکھتا ہے۔ایس معشوق احمد جب منور عثمانی کی فرنٹ سیٹ کاجائزہ لیتے ہیں تو ان کے انشائیوں میں جہاں خوبیاں دیکھتے ہیں ان کی تعریف و تحسین میں جھجھک محسوس نہیں کرتے اور جہاں کہیں کمی اور خامی نظر آتی ہے اس کا برجستہ اظہار اور نشاندہی کرتے ہیں۔لکھتے ہیں کہ
"انشائیہ نگار واعظ بن جائے یا نصیحت آموز باتیں کرے تو انشائیے کا بہاو ¿ اور اسلوب متاثر ہوتا ہے۔انشائیہ نگار خیالات کو فلسفی کے انداز میں بھی آگے نہیں بڑھا سکتا۔ منور عثمانی بعض انشائیوں میں واعظ اور فلسفی بن کر بعض نصیحت آموز باتیں کرتے ہیں جو ایسے کھٹکتی ہیں جیسے اندھیرے میں فرنٹ سیٹ پر مخالف سمت سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی سے انسان برداشتہ خاطر ہوتا ہے۔کم زور لمحہ اور تعارف کو انشائیہ کہنا میرے لئے ذرا مشکل ہے کہ ان کے انداز بیان میں انشائیہ نگار نہیں بلکہ ناقد نظر آتا ہے۔”
ایس معشوق احمد صرف ایک نقاد یا تبصرہ نگار نہیں بلکہ وہ اردو ادب کے ایک سنجیدہ طالب علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے مطالعہ، مشاہدے اور زبان پر عبور سے یہ بات ثابت کی ہے کہ وہ تنقید کو محض فن کے طور پر نہیں بلکہ ایک ادبی ذمہ داری کے طورپر برتتے ہیں۔” کتابیں جھانکتی ہیں“ میں شامل تبصرے محض رسماً یا تعریفی نہیں بلکہ ہرتحریر میں ایک تحقیقی، تنقیدی اور فکری پہلو نمایاں ہے۔ مصنف نے ہر کتاب کو اسکے ادبی، ثقافتی اور فکری تناظر میں پرکھا ہے جس سے قاری کو اصل مواد کے علاوہ اسکے سیاق و سباق کا بھی علم ہوتا ہے۔
کتاب کا عنوان ” کتابیں جھانکتی ہیں“ اپنے اندر ایک علامتی جمالیات کی خوبی رکھتا ہے۔ گویا ہر کتاب ایک آنکھ ہے جو معاشرے کو اس کے المیوں ، رویوں ، خوشیوں اورسچائیوں کو جھانک کر بیان کرتی ہے اور ایس معشوق احمد ان آنکھوں کے ذریعہ ہمیں اس دنیا کی تفہیم عطا کرتے ہیں۔ اس کتاب میں تنقید کا مثبت ، غیر جانب دارانہ اور شائستہ انداز ملتا ہے جو ایس معشوق احمد کی خاصیت ہے۔
” کتابیں جھانکتی ہیں“ نہ صرف ادب کے طلباءکے لیے بلکہ ہر سنجیدہ قاری کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں نہ صرف کتابوں کے اسرار و رموز و سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ تبصرے کے فن سے بھی روشناس کراتی ہے۔ ایس معشوق احمد کی یہ کاوش قابل تحسین اور لائق مطالعہ ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ وہ آئندہ بھی ادب کی آبیاری میں اپناخون ِجگر صرف کرتے رہیںگے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے