कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایران کی جنگ بندی شرائط اور عالمی امن

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ
رابطہ نمبر8175818019

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے، جہاں طاقت، مفادات اور سلامتی کے پیچیدہ تقاضے ایک نئی کشمکش کو جنم دے رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی شرائط نہ صرف ایک فوری تنازع کے حل کی کوشش ہیں بلکہ عالمی نظام کے لیے ایک بڑے سوال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ شرائط محض سفارتی نکات نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کی عکاسی کرتی ہیں جو خودمختاری، انصاف اور مستقبل کے امن کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے۔
ایران کے مؤقف کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف وقتی خاموشی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک پائیدار اور قابلِ عمل نظام کے تحت ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں سب سے اہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور عملی ضمانت دی جائے۔ یہ شرط دراصل ماضی کے تلخ تجربات کا نتیجہ ہے، جہاں جنگ بندی کے معاہدے اکثر وقتی ثابت ہوئے اور چند سالوں بعد حالات دوبارہ بگڑ گئے۔ ایران اس بار ایک ایسا فریم ورک چاہتا ہے جو محض کاغذی نہ ہو بلکہ اس میں عالمی سطح پر جوابدہی کا نظام بھی شامل ہو۔ اس کے لیے ممکنہ طور پر بین الاقوامی نگرانی کے اداروں کی شمولیت بھی زیرِ غور آ سکتی ہے تاکہ معاہدے کی خلاف ورزی فوری طور پر سامنے آ سکے۔دوسری اہم شرط جنگی نقصانات کے ازالے سے متعلق ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جس فریق نے جارحیت کی ہے اسے نہ صرف ذمہ داری قبول کرنی چاہیے بلکہ مالی اور انسانی نقصانات کا ازالہ بھی کرنا چاہیے۔ یہ مطالبہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے، جہاں جارحیت کو ایک سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم عملی طور پر دیکھا جائے تو عالمی سیاست میں طاقتور ممالک اکثر اس قسم کی ذمہ داری سے بچ نکلتے ہیں، جو ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا واقعی عالمی نظام انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ اس تناظر میں ایران کی یہ شرط ایک اخلاقی اپیل بھی ہے اور ایک قانونی تقاضا بھی۔
تیسری اور نہایت اہم شرط ایک قابلِ اعتماد تیسرے ملک کی گارنٹی ہے۔ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ گارنٹی امریکہ سے نہیں بلکہ کسی غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ملک سے آنی چاہیے۔ یہ بیان دراصل عالمی طاقتوں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں مختلف تنازعات کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایران کی نظر میں ایک ایسا ثالث ضروری ہے جو نہ صرف سیاسی طور پر غیر جانبدار ہو بلکہ اس کے پاس اس معاہدے پر عملدرآمد کرانے کی صلاحیت بھی ہو۔ ممکنہ طور پر ایسے ممالک یا علاقائی اتحاد اس کردار کو ادا کر سکتے ہیں جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہوں۔یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے عالمی برادری کا کردار۔ ایران نے دیگر ممالک، خصوصاً ہندوستان جیسے غیر فریق ممالک کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اس تنازع میں فعال کردار ادا کریں۔ ہندوستان، جو توانائی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے اور جس کے اقتصادی مفادات خلیجی خطے سے جڑے ہوئے ہیں، اس صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے ممالک کے لیے توانائی کی ترسیل اور سمندری راستے کھلے رہیں گے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنی سفارت کاری کو اقتصادی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے ممکنہ اتحادیوں کو یقین دہانی کروا کر انہیں اپنے مؤقف کے قریب لانا چاہتا ہے۔آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی اس تنازع کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ یہ اقدام صرف دشمن ممالک کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ایک طرح سے دباؤ کی حکمت عملی بھی ہے اور دفاعی پالیسی کا حصہ بھی۔ اگرچہ یہ بیان ایک سفارتی توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے، لیکن عالمی منڈیوں میں اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں۔
مزید برآں، اس تمام صورتحال میں علاقائی سیاست کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی متعدد تنازعات جاری ہیں، اور کسی بھی نئے بحران سے پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ ایران کی کوشش ہے کہ وہ اپنے موقف کو نہ صرف دفاعی بلکہ اخلاقی بنیادوں پر بھی مضبوط بنائے، تاکہ اسے عالمی سطح پر حمایت حاصل ہو سکے۔ اسی لیے اس کے بیانات میں سفارت کاری، قانون اور انصاف کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔عالمی سطح پر اس پیش رفت کے اثرات بھی نہایت گہرے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران کی شرائط کو تسلیم کیا جاتا ہے تو یہ ایک نئی مثال قائم کرے گا جہاں ایک ملک نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کرتا ہے بلکہ عالمی نظام کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ دوسری طرف اگر ان شرائط کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ طور پر ایک بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں یا مفادات کو۔یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی نظام ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں اور پرانے نظریات کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ایران کا یہ مؤقف اسی تبدیلی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جہاں وہ ایک ایسے عالمی نظام کی بات کر رہا ہے جو زیادہ منصفانہ اور متوازن ہو۔ اس تناظر میں اس کے مطالبات محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔
ایران کی یہ حکمت عملی نہایت سوچ کے بعد تیار کی گئی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں سفارت کاری، دفاعی حکمت عملی اور معاشی مفادات کا ایک متوازن امتزاج نظر آتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کے ردعمل پر بھی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں سنجیدگی سے اس پر غور کریں تو ایک مثبت پیش رفت ممکن ہے۔ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے تیار ہے؟ ایران کی شرائط ایک آئینہ ہیں جس میں عالمی نظام کی کمزوریاں اور تضادات واضح نظر آتے ہیں۔ اگر ان شرائط کو سنجیدگی سے لیا جائے تو شاید ایک نیا باب کھل سکتا ہے، جہاں طاقت کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔ بصورت دیگر، یہ خطرہ موجود ہے کہ دنیا ایک بار پھر اسی پرانے دائرے میں گھومتی رہے گی جہاں جنگیں ختم تو ہوتی ہیں مگر ان کے اسباب اور اثرات باقی رہتے ہیں۔ یہ تنازعہ صرف ایک خطے یا ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو یہ بحران ایک نئے اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے، لیکن اگر روایتی سیاست اور طاقت کے کھیل کو ترجیح دی گئی تو آنے والے وقت میں نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا اس کے نتائج بھگت سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فیصلے تاریخ کا رخ متعین کرتے ہیں، اور یہی وہ موقع ہے جہاں انسانیت کو اپنی اجتماعی دانش اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے