कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُردو صحافت کے مسائل ومشکلات پر ایک نظر

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

صحافت سماج کو باخبر رکھنے کاایک ذریعہ ہے جب کہ صحافی خود باخبر ہو کر دوسروں کو باخبر کرنے کا کام انجام دیتا ہے ۔ تلاش و جستجو صحافی کی آبرو ہے، صحافت انکشافات کی پروردہ ہے، اِس کے لئے لگن جستجوضروری ہے اور صحافی کے لئے جذبہ ، ذہن اور ذوق کی ضرورت ہوتی ہے ۔ صحافت کا فن تجربہ کی بھٹی میں تپ کر نکھرتا ہے، صحافت کے لئے کتابیں راہ تو دکھاسکتی ہیں لیکن اِس راہ پر چل کر منزل تک پہونچنا صحافی کے جوش و ولولہ پر منحصر ہے۔ اِسے ہم عجلت میں لکھا ہوا ادب بھی کہہ سکتے ہی کیونکہ اِس میں وقت کی بڑی اہمیت ہے ، آج ریڈیو ٹی وی ، انٹر نیٹ کی بڑھتی مقبولیت کے باوجود اخبارات کی اہمیت اور ضرورت برقرار ہے۔ لوگ اہم خبریں ٹی وی پر دیکھ لیتے ہیں اور ریڈیو پر سُن لیتے ہیں پھر صُبح اخبارات کے صفحات پر جب تک پڑھ نہیں لیتے اُن کی سیری نہیں ہوتی ، اِسی لئے اخبارات کی اشاعت بڑھ رہی ہے۔
اخبارات کو خبریں نامہ نگاروں ، رپورٹروں یا نیوز ایجنسیوں کے ذریعہ ملتی ہیںَ ہندو ستان میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا ( پی ٹی آئی)، یو نائیٹیڈ نیوز آف انڈیا( یو این آئی) دو بڑی نیوز ایجنسیاں ہیں۔ یو این آئی کوئی۲۵ برس سے اُردو میں بھی خبر یں فراہم کر ہی ہے، جس سے اُردو اخبارات کا ایک بڑا مسئلہ انگریزی یا ہندی سے خبروں کا ترجمہ کرنا آسان ہوگیا، اِن کے علاوہ اُردو میں پی ایس آئی اور یو این این کے نام سے دو اور نیوز اور فیچر سروسیس کام کرتی رہی ہیں جو کافی سستی ہیں مگر یو این آئی کافی مہنگی ہے اِس کو اُردو کے چھوٹے اخبارات نہیں لے سکتے ، اسی لئے حکومت نے اُردو اخبارات کے لئے یو این آئی اُردو سروس لینے پر سبسڈی دینا شروع کی ہے جو ترقی اُردو کونسل ( این سی پی یو ایل) کی معاونت سے ملتی ہے اور اِس کی آدھی رقم اُردو کونسل فراہم کرتی ہے، پھر بھی یو این آئی سے اتنی خبریں نہیں ملتی کہ بڑے اخبارات کے چھ آٹھ صفحے بھر سکیں۔دیگر رسائل سے انہیں خبریں فراہم کرنا پڑتی ہیں۔
پچھلے۲۵-۳۰ سال میں ایک کام اور ہوا ہے ، جس نے اُردو اخبارات کی راہ کو کافی آسان کر دیا ہے اور وہ ہے کتابت کے بجائے خبروں کی کمپیوٹر سے کمپوزنگ اِس کے ذریعہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ خبریں اور مضامین کمپوز ہوجاتے ہیں ۔وقت کی بچت ہوتی ہے اور اخبارات کا معیار بہتر ہوگیا ہے۔
آج بیشتر بڑے اُردو اخبارات یو این آئی کی اِس اُردو سروس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں، یہ پروجیکٹ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی دین ہے۔ اِس کا نصف معاوضہ اُردو اخبارات کو ادا کرنا پڑتا ہے ، پھر بھی کئی اخبارات اِسے ادا نہیں کرپاتے اوریو۔ این ۔ این یاپی ایس آئی جیسی سستی سروسیں لے لیتے ہیںلیکن خبروں کی فراہمی میں اپنا معیار قائم نہیں رکھ پاتے۔ یو این آئی کی اس اُردو سروس نے کافی حد تک اُردو کے اخبارات کو سنبھالے رکھا ہے۔ اُردو اخبارات کا معیار بلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انگریزی و ہندی کی سروسیں بھی لی جائیں اور اُن سے بھر پور استفادہ کیا جائے، باصلاحیت مُترجمین رکھے جائیں اور اُن کو تربیت بھی دی جائے۔لیکن یہ سرکاری اور پرائیویٹ اشتہار کی آمدنی بڑھے بغیر ممکن ، اردو حلقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ادبی سیاسی اور نجی تقریبات پر خوب خرچ کرتے ہیں ان کی خبریں اردو اخباات میں شائع کرانا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن اشتہارات نہیں دیتے، یہ رویہ بدلنا چاہئے۔
اُردو صحافت کا دوسرا بڑا مسئلہ صحافیوں کی تربیت کا ہے، آج جو نوجوان مختلف عصری اداروں سے تربیت حاصل کرتے ہیں وہ اُردو اخبارات کا رُخ نہیں کرتے کیوں کہ یہاں اُن کی محنت کا بدلہ بہت کم ملتا ہے لہذا وہ ہندی و انگریزی اخبارات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اُردو اخبارات میں رات دیر تک کام نہیں ہوتا اس لئے کئی اہم خبریں اخبارات کی زینت بننے سے رہ جاتی ہیں عملہ کی کمی بھی ہوتی ہے، اُردو صحافیوںکو جو ملتا ہے اُس کے بدل کے طور پر وہ رات بھر کام نہیں کر سکتے ، پرانا زمانہ گزر گیا جب اُردو صحافت پروفیشن نہیں مشن ہوا کرتی تھی لوگ بھوکے رہ کر اخبارات نکالتے تھے اور انہیں خود قارئین تک پہونچاتے تھے۔
آج یہ زمانہ نہیں رہا،اخبارات نکالنا خدمت نہیں تجارت بن گیا ہے تو اُردو صحافت کو بھی تجارت بنانے کی ضرورت ہے، اِس کے تمام تقاضے پورے کرنے ہوں گے ۔ جیسا کہ’ راشٹریہ سہارا‘،’ انقلاب ‘اور کسی حد تک ’اخبار مشرق ‘ یا دوسرے بڑے اخبارات نے پورے کئے ہیں۔
آج غیر تربیت یافتہ عملہ اُردو صحافت کی بڑی کمزوری بن گیا ہے۔ اکثر نوجوان پروف ریڈر کی حیثیت سے اُردو اخبارات میں قدم رکھتے ہیں لیکن بغیر تربیت و تجربہ کے سب ایڈیٹر یا نامہ نگار بن جاتے یہ خود روہوتے ہیں، لہذا تربیت یافتہ نہ ہونے سے اخبار کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ اُردو اخبارات میں اسٹاف کی کمی بھی ایک دشوار ی ہے، وسائل کی کمی سے اخبارات کی انتظامیہ حسب ضرورت اسٹاف نہیں رکھتی یا رکھتی ہے تو معقول معاوضہ ادا نہیں کر پاتی۔
اشتہارات جو اخبارات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں ، تعداد اشاعت کی بنیاد پر ملتے ہیں، یہی وجہ ہے بڑی صنعتی کمپنیوں سے چھوٹے اخبارات کواشتہارات نہیں ملتے نجی اشتہارات دینے والے بھی اُردو اخبارات کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے ، اس طرح سر کاری اشتہارات ڈی اے وی پی یا ریاستی حکومت کی طرف سے سر کیولیشن پر ہی ملتے ہیںاگر اخبارات کا غذ پر اپنی اشاعت زیادہ بتاتے ہیں تو اُنہیں زیادہ اشتہارات مل جاتے لیکن اِس کے لئے بوگس سر کیولیشن شو کرنا پڑتا ہے اور رشوت بھی دینا پڑتی۔ بھوپال سے شائع ہونے والے روزنامہ ’’ ندیم‘‘کو۸۷ سال پورےہوگئے ہیں، کاغذ پر اِس کا سر کیولیشن کم ہے ، پھر بھی اِس شہر سے جتنے اُردو روزنامے شائع ہورہے ہیں اُن کے مجموعی سر کیولیشن سے ’ ندیم‘ کی اشاعت زیادہ ہے لیکن اُسے اشتہارات بہت کم مل رہے ہیں، اگر ’ ندیم‘ کے پاس دیگر وسائل نہ ہوں تو ملک کا یہ قدیم ترین اخبار کبھی کا بند ہوجائے، لہذا سر کیولیشن بتانے کے لئے انتظامیہ کی مہارت درکار ہوتی ہے،جو نہیں ہے تو اخبار زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایک اور مثال سے منیجمنٹ کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ بھوپال سے ادبی رسالہ یا ویکلی اور ماہنامہ اخبار کامیاب نہیں ہوسکا۔ لیکن’ کاروانِ ادب‘ اور فکرو آگہی‘ ایسے دو رسالے ہیں جو بیس پچیس سال سے شائع ہو رہے کیوں کہ اُن کا انتظامیہ مستعد اور وسائل یافتہ ہے۔ اس لئے اخبارات کے منجمینٹ کی بُنیادی اہمیت ہے اور اُردواخبارات اِس میں پیچھے ہیں۔
ملک کی آزادی کے بعد سے ایک نیشنل اُردو روزنامے کا خواب دیکھا جاتا رہا ہے جو ملک گیر پیمانے پر شائع ہو، ہزار کوشش کے باوجود مسلم منجمینٹ اِس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کرسکا،پندرہ بیس سال پہلے یہی کارنامہ ایک صنعتی ادارے روزنامہ’ راشٹریہ سہارا‘ نے ملک کے دس شہروں سے بیک وقت اپنا اخبار جاری کرکے انجام دیدیا، ’ دینک جاگرن‘ کے مالکان نے بھی ’ انقلاب‘ کو خرید کر اُسے قومی اخبار بنا دیا، یہ بھی سات شہروں سے کامیابی کے ساتھ منظر عام پر آرہا ہے، ’ انقلاب‘ کے سابق مالکان نے پہلے بھی یہ کوشش کی تھی مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ مذکورہ دونوں روز ناموں کی ترقی و توسیع کو دیکھ کر اکثر مبصرین اسے ہندو انتظامیہ کی صلاحیت و مہارت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں لیکن ایسا ہی کارنامہ کلکتہ کے روزنامہ’ اخبار مشرق‘ نے بھی انجام دے دیا جو مسلم انتظامیہ کے زیر اہتمام آٹھ شہروں سے نکل رہا ہے،’ اخبارمشرق‘ کے پاس ’ راشٹریہ سہارا‘ اور’ انقلاب ‘جیسے وسائل تو نہیں ہیں ، پھر بھی وہ اپنی توسیع اشاعت میں کامیاب ہے، اِس لئے یا د رکھنا چاہئے اُردو اخبارات کا بنیادی مسئلہ اُس کا انتظام و انصرام ہے۔اس کے ساتھ
اُردو صحافت قارئین کی کمی کے مسئلہ سے بھی شدید طور پر دو چار ہے، جس پر قابو پانے کا کوئی شارٹ کٹ راستہ نہیں ، یہ کمی پرائمری سے اعلیٰ درجات تک اُردو تعلیم کے نظام کو مؤثر بنائے بغیر دور نہیں ہو سکتی اور اُردو اکاڈمیاں اِس کام میں مدد گار بن سکتی ہیں کہ وہ زبان و ادب کی پوچھ پرکھ کے ساتھ اِس کی تعلیم کے لئے بھی اپنے بجٹ کا ایک حصہ مخصوص کردیں۔سب کی مشترکہ کوششوں سے ہی اُردو صحافت کے روزو شب سنور سکتے ہیں۔ یہ کام کانفرنسوں ، سیمیناروں اور مشاعروں سے نہیں ہوگا، اس کے لئے موثر عملی اقدام درکار ہیں۔ گذشتہ دو ڈھائی سال سے کووڈ ۱۹ وبا کے مہلک اثرات نے اردو اخبارات اور صحافت کے نظام کو درہم برہم کردیا ہے، کئی اخبارات ورسائل بندہوگئے ہیں یا آن لائن نکل رہے ہیں، یہ ازسر نو اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، اس کے لئے غوروفکر اور منصوبہ بندی ضروری ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے