कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ان کی نظر سے تھی کبھی بزم سخن روشن

عزیز دوست محب اللہ انظر کے انتقال پر تعزیتی پیغام

از قلم : مقیم احمد فہیم احمد صدیقی صاحب،
مدرس ضلع پریشد ناندیڑ

قدرت کے فیصلے اٹل ہیں رب العزت کے حکم سے ملک الموت اپنے آقا کا حکم بجا لاتی ہے۔موت کب کہاں کس جگہ ا جائے دنیا کا کوئی بشر کواس کا علم نہیں ہوتا وہ مقررہ وقت پر اس کی روح اپنے رب العزت کے پاس لوٹ جاتی ہے۔بذریعے سابقہ پروفیسر مظہر الدین صاحب میرے بڑے بھائی کا فون آیا ارے مقیم وہ انظر کون ہے میں نے کہا وہ اتوار ہے اسکول پر ٹیچر ہے کیا معاملہ ہے کہنے لگے اس کا انتقال ہو چکا ہے۔انظر کے گھرانے کا تعارف کروایا۔انظر قاضی مجیب الدین سابقہ صدر مدرس دارالعلوم حمایت نگر کے فرزند ہیں یہ ادارہ ان کے پھپا جان مولانا حضرت مظہر الحق ہاشمی صاحب کا قائم کردہ ہے۔اس گھرانے کو کون نہیں جانتا ہے پھر اب سر کا چہرہ اور اس کا خدوخال نے ان کے ذہن میں آگیا دورانہ گفتگو ہی واٹس ایپ دیکھنے پر اطلاع کی تصدیق ہو گئی۔انظر ہی کے قریبی رشتہ دار سے بعد میں نے فون پر بات کی تو تفصیل کچھ یوں ملی انظر محی الدین آج نماز فجر ادا کی اور معمول کے مطابق مشورہ میں بیٹھے رہے چیتنیہ نگر کی مسجد سے گھر واپس آئے تھوڑا آرام کرنے کے بعد سینے میں درد کی شکایت کی ۔تب ہی عزیز و اقارب ہاسپٹل لے گئے ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔
قاضی انظر محی الدین الدین کا تعلق ایک دینی مذہبی علمی ادبی گھرانے سے تھا ان کے والد محترم مرحوم قاضی مجیب الدین صدر مدرس دارالعلوم حمایت نگر میں کئی دہوں سے دینی مذہبی و دنیاوی تعلیمی ادارہ کے ذریعے خدمات انجام دے رہے تھے ان کے گزر جانے کے بعد ان ہی کے فرزند اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں یہ گھرانہ مذہبی گھرانہ ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔قاضی انظر کو درس و تدریس وراثت میں ملی ہے قاضی انظر کا پہلا تقرر غالبا حمایت نگر ہائی سکول پر ہوا ،وہ 12 ،13 سال تک وہاں پر بطور معلم کام کیے وہاں سے پروموشن پر وہ ناندیڑ ضلع پریشد پرائمری اسکول رحمت نگر اردو اسکول آگئے ان کا ایک اپنا مخصوص حلقہ تھا اس حلقے کا حصہ میں کبھی نہیں رہا لیکن پیشہ ایک ہونے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے بخوبی واقف تھے علمی گھرانے سے تعلق ہو نےکی وجہ سے میں بھی انہیں بڑی احترام ملاقات کیا کرتا تھا اور وہ بھی مجھ سے میرے گھرانے کا لحاظ رکھ کر ہی بات کیا کرتے تھے۔2016 میں میں بھی اتوارہ پرائمری سکول پر تبادلہ لے کر آگیا تھا تب ان سے میری ملاقات ہوا کرتی تھی ایک دن نماز فجر کے بعد محترم کا فون آیا مقیم بھائی آپ سے کچھ مشورہ کرنے آنا ہے اگر اپ تھوڑا وقت دیں تو بات ہو جائے گی میں نے اجازت دی آپ آ جائیں بیٹھ کر تفصیلی بات کرتے ہیں دراصل اس وقت اسکول میں کئی مسائل سے وہ دو چار تھے قاضی انظر اور ظہیر الدین انعامدار میرے گھر ائے اور تفصیل بتائی میں نے کہا اس سے کنارہ کر لیےتو بہتر ہے اور جو قانونی چارہ جوئی ہے اس کا سامنا کریں ڈٹ کر انشاءاللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔وہ تب صدر معلم کی فرائض انجام دے رہے تھے شہر میں کچھ شر پسند عناصر نے اُنہیںپریشان کر رکھا تھا۔بعد میں وہ انچار شپ بھی چھوڑ دی تھی اس کے بعد 2018 میں وہ اردھا پور ہائی سکول چلے گئے۔اکثر و بیشتر ڈاکٹر نبیل کے ساتھ وہ گاڑی پر نظر آتے تھے میں تامزہ ہائی سکول پر ہونے کی وجہ سے راستہ ایک ہی تھا میں انہیں غائبانہ جب بھی یاد کرتا اور نبیل سے پوچھتا کہ انظر منظر کا کیا حال ہے انتہائی شریف النفس انسان کم گو اپنے کام سے مطلب رکھنے کے عادی تھے۔اور نبی صاحب سے ان کی قریبی رہی ہے ویسے وہ جماعت کے ساتھیوں میں زیادہ وقت بتانا پسند کرتے تھے جماعت تبلیغ سے ان کا بڑا گہرا تعلق تھا۔
حال فلحال میں ہم تمام اساتذہ کے تبادلوں کی گہما گہمی بہت تھی اس دوران مارننگ واک میں قاضی صاحب سے ملاقات ہو گئی فرصت میں تھےچیتنہ نگرپر باتیں ہونے لگی میں نے کہاں آنے کا ارادہ ہے مقیم بھائی خاندان کے تمام بڑوں کا مشورہ ہے کہ اب حمایت نگر آ جاؤ اور ادارے کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹاؤ میں نے کہا آپ کا کیا ارادہ ہے جناب نے کہا ابھی سوچا نہیں لیکن کوئی فیصلہ ضرور لے لوگا۔شاید انہوں نے فیصلہ میں ہی رہنے کا لیا تھا پر دنیا اپنے فیصلوں پر تھوڑی چلتی ہے خدا کو کچھ اور منظور تھا وہ اتوارہ ہائی اسکول کو اسی ماہ کی چار تاریخ کو رجوع ہوئے تھے اور آج وہ اپنے وطن لوٹ گئے اطلاع کے مطابق بعد نماز مغرب مرحوم قاضی انظر کی تدفین حمایت نگر میں ہوگی اللہ اہل خانہ کو صبر اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں امین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے