कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسان کے اندر کا شیر

تحریر:سید معز الرحمن، ناندیڑ

کہتے ہیں ایک بادشاہ کے دربار میں ایک شخص کو لایا گیا جسے سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔ اس نے جان کی امان مانگی، مگر بادشاہ نے انکار کر دیا۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ رحم کی درخواست منظور نہیں ہوئی اس نے بھرے دربار میں بادشاہ کو گالیاں دینی شروع کردی. سارے وزیر اور درباری سہم کر رہ گئے، اتفاق سے بادشاہ ان گالیوں کو نہیں سن سکا، وہ درباریوں سے پوچھتا رہا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ بادشاہ سلامت کو بتا سکیں..
سوال یہ ہے:
اتنی ہمت اس میں کہاں سے آگئی؟
حقیقت یہ ہے کہ وہ جرات اس کے اندر پہلے سے موجود تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے وہ امید اورخوف کی وجہ سے دبی ہوئی تھی۔ جیسے ہی جان کا خوف اور امید ختم ہوئی، اس کے اندر کا چھپا ہوئا “بہادر انسان” باہر آگیا۔
اصل سبق کیا ہے؟
ہم سب کے اندر بہت سی طاقتیں موجود ہیں:
شیر کی طرح بہادری
بھیڑیئےکی طرح چالاکی
چیتے کی طرح پھرتیلا پن
لیکن شک، خوف، کم اعتمادی اور سیلف ڈاؤٹ ان صلاحیتوں کو دبا دیتے ہیں۔
ایک اور مثال سے سمجھئے
فرض کریں دو افراد دوڑ کی ریس میں حصہ لیتے ہیں:
١.پہلا شخص باقاعدہ ٹریننگ یافتہ ہے۔
٢.دوسرا کبھی ٹریننگ نہیں لے سکا۔
ان دونوں میں مقابلہ ہوگا تو کون جیتے گا؟؟
ظاہر ہے، ٹرینڈ شخص جیتے گا۔
️لیکن اب منظر بدلتے ہیں…
دونوں دوڑ رہے ہیں، اور دوسرے شخص کے پیچھے ایک کتا لگا ہو؛ ہے!
اب کون جیتے گا؟
اب وہ شخص جس نے ٹریننگ نہیں لی ہے جیت جائے گا کیونکہ اس کے پیچھے کتا لگا ہوا ہے۔.
اس کام مطلب کیا ہے؟؟
دوڑنے کی صلاحیت اس کے اندر پہلے سے موجود تھی، مگر اس نے کبھی پوری شدت شے اس صلاحیت کو استعمال ہی نہیں کیا۔ جیسے ہی خطرہ آیا، اس کے اندر سے تیز رفتار چیتا باہر آگیا.
یہی ہماری زندگی کی حقیقت ہے
ہم اپنی پوری طاقت استعمال ہی نہیں کرتے۔
ہم خود کو بچا بچا کر رکھتے ہیں۔
ہم رسک لینے سے ڈرتے ہیں۔
ہم ناکامی کے خوف سے رک جاتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
ہمارے اندر بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں،
سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
“اگر میں ناکام ہوگیا تو؟”
“لوگ کیا کہیں گے؟”
“میں اتنا قابل نہیں ہوں…”
یہی محدود سوچ ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔
آپ سے ایک سوال👇
کیا آپ واقعی اپنی پوری طاقت استعمال کر رہے ہیں؟
یاخود کو بچا بچا کر کھیل رہے ہیں؟
زندگی میں “کتا پیچھے لگنے” کا انتظار نہ کریں۔
خود ہی فیصلہ کریں کہ اب پوری رفتار سے دوڑنا ہے۔
کیونکہ:
آپ کے اندرصلاحیت اور طاقت پہلے سے موجود ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے