कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انبیاء کی سرزمین پر بہتے ہوئے لہو کی داستان(1)

تحریر:مدثر جمیل قاسمی پربھنی
( بذریعہ ضلع نامہ نگار محمد سرور شریف پربھنی)

ماں باپ اپنے بچّوں اور بچّے اپنے ماں باپ کے جنازوں کو دیکھ کر اپنے ارمانوں اور اپنی خواہشات کو دفناتے ہوئے کیا سونچتے ہوگے؟ اِس خیال نے بے چین کردیا اور آج کچھ لکھنے پر مجبور کردیا ـ واقعی زرا غور کریں اور سونچیں کہ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کی حد انتہا سے تجاوز کرگئی ـ دیکھتے دیکھتے اسماعیل ہانیہ بھی شہید ہوگئے،. انکے بیٹے بہو اور بیٹی کے تاثرات پڑھنے میں آئے تو آنکھیں نم ہوگئی، کیا گزرتی ہوگی اُن معصوم جانوں کے دلوں پر جنکے سامنے اُن کے ماں باپ کو گولیوں سے بھونا جاتا ہے ـ کیا گزرتی ہوگی اُن والدین پر جن کی آنکھوں کے سامنے ننّھی معصوم جانوں کو قتل کردیا جاتا ہے ـ زرا سونچیں تو صحیح کیا قصور ہے اُن مظلوموں کا جو برسہا برس سے اپنے اوپر ظلم کا پہاڑ لادے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں ـ اپنی ہر خوشی کو غم میں تبدیل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اور اللہ کی رضا پر راضی رہ کر زندگی گزارتے ہیں ـ کیا قصور ہے اِن بیچاروں کا ؟ میں بتاتا ہوں کیا قصور ہے اِن کا ـ بس قصور اتنا ہے کہ یہ سارے سچّے اور پکّے مسلمان ہیں ـ قصور اتنا ہے کہ یہ سارے اپنے قبلۂ اوّل مسجدِ اقصیٰ کو بابری مسجد کی طرح غیروں، یہودیوں اور مشرکین کے ہاتھوں سونپنا نہیں چاہتے ـ یہ سب غیرت اور جرأت کا جذبہ اپنی فطرت میں رکھتے ہیں ـ اپنے گھر بار کو برباد ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں، اپنے آپ کو بے گھر کر سکتے ہیں، اپنے بچّوں کو یتیم یسیر کرسکتے ہیں، اپنا سب کچھ برباد کرسکتے ہیں، کفّار کے ظلم اور اسرائیل کے حملوں سے مر سکتے ہیں لیکن اپنے دین کو مٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، اپنی مسجد اقصیٰ کو بابری مسجد کی طرح جیتے جی غیروں کے حوالے نہیں کرسکتے، اپنے اسلامی جھنڈے کو جھُکتا نہیں دیکھ سکتے ـ یہ ہم جیسے کمزور ایمان والے نہیں ہے، یہی اِنکا سب سے بڑا قصور ہے اور ہاں جو کوئی اِسی طرح اپنا دینی شعار اپنے اندر پیدا کریگا یہ فانی دُنیا اُسکا یہی حال کرسکتی ہے لیکن ایک مسلمان اپنے رب کے انصاف پر یقین رکھتا اور یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ کل رب کی بارگاہ میں انصاف ملیگا تو یہ ظلم اور جبر کو برداشت کرنے کا بدلہ جنّت کی شکل میں ضرور ملیگا انشاءاللہ ، کل بروز قیامت اللہ ایسے مومنوں سے راضی ہوجائیگا ـ لیکن زرا ہمارے لئے سونچنے والی بات ہے کہ اِن فلسطینی مسلمانوں کو جلتا مرتا اور کٹتا ہوا دیکھ کر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے کہاں تک اِن جیسا جذبہ ہمارے اپنے اندر پیدا کیا؟ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو کہاں تک اِن کے معصوم بچّوں کی طرح دین کے شیدائی بنائے ؟ ہم نے کہاں تک اِن کے معصوم بچّوں کی طرح اپنی اولاد کو نڈر بنایا ؟ شاید ہمارا جواب نفی میں ہوگا لیکن یاد رکھنے اور سونچنے والی بات ہے کہ اج جس طرح فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے ہوسکتا ہے کل ہماری یہی خاموشی کی وجہ سے ہمیں بھی اللہ نہ کرے اِن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ـ اسلئے زرا سونچ سمجھ کر اور فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس ربّ کائنات نے ہمیں جتنی آسانیاں اور آسائشیں پیدا کی ہم اُسکا حق کس طرح ادا کررہے ہیں ـ ہم کیسے رب کے آگے سربسجود ہوں کیسے ہم اپنی زندگی میں رب کی رضا کو مقدّم رکھیں؟ ہم نے مساجد کو ویران کردیا، مدارس کو ویران کردیا، دینی تعلیم سے اپنے بچّوں کو دور کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی احادیثِ مبارکہ اور اُنکی حیاتِ مقدّسہ کی تعلیم کو چھوڑ کر مغربی تعلیم اور آسائش و فحاشی و عریانیت کی تعلیم سیکھنے اور اپنے بچّوں کو سکھانے لگے، تو پھر کہاں سے اِن فلسطینی بہادر مسلمانوں کی طرح ہماری قوم میں نوجوان پیدا ہونگے؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کی اخلاقی تعلیمات کو چھوڑا اور بد اخلاقی سے اپنی قوم کا نام بدنام کردیا، ہم نے حضرت ابوبکر کی صداقت، حضرت عمر کی شجاعت، حضرت علی کی جسارت اور حضرت عثمان کی سخاوت کو چھوڑ دیا تو کہاں سے ہماری قوم میں صلاح الدّین ایّوبی پیدا ہونگے؟ ہماری ماؤں بہنوں نے حضرت خولہ، حضرت فاطمہ، حضرت عائشہ، اور رابعہ بصریہ جیسی زندگی اپنانے کی بجائے بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی ہیروئنوں کی طرح زندگی گزارنا پسند کیا تو پھر کہاں سے اُن صحابیات کی طرح اور آج کے دور میں فلسطینی ماؤں بہنوں کی طرح بہادری اور ہمّت پیدا ہوگی ـ زرا سونچئے تو صحیح ھماری زندگی کیسی گزرنا چاہیے تھی اور آج کیسی گزررہی ہے، مساجد سے ازان کی آواز آتی ہے اور آج ہم اپنے کام کاج میں مصروف ہو کر نمازیں ترک کررہے ہیں، کیا ہم نے کبھی سونچا کہ وہ فلسطینی مسلمان جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کا جنازہ دیکھ سکتے ہیں اپنے ماں باپ کا جنازہ دیکھ سکتے ہیں لیکن اپنے دین کا جنازہ نہیں دیکھ سکتے، کیا ہم نے کبھی ایسی سونچ بنائی؟ زرا سونچئے اور سونچ کر اپنی زندگیوں کا جائزہ لیجئے، اور دعا کیجئے کہ اللہ فلسطینی مسلمانوں کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے اور انہیں کامیابی عطا فرمائے. اور ان جیسی ہمت طاقت اور ایمانی جذبہ ہمیں بھی عطا فرمائے اور امریکہ اور اسرائیل کو اللہ دنیا کے نقشے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مٹادے، آمین ثم آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے