कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امریکی صدر کا دورہ مشرق وسطی اور امت مسلمہ کا نوحہ

اثر خامہ : سید آصف ندوی

جب کسی ملت کے جسم میں اتحاد کی روح دم توڑ دے، جب اس کے رہنما صرف جغرافیائی حدود میں قید ہو جائیں، جب قومیں "وطن” کے نعرے کی آڑ میں "امت” کا تصور فراموش کر بیٹھیں، تو پھر نہ بیت المقدس کی حرمت باقی رہتی ہے، نہ خون مسلم کی کوئی قیمت آج کا عالم اسلام اسی زوال اور غفلت کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں علاقائیت، قوم پرستی، اور مفاد پرستی نے اتحاد، اخوت اور ملی غیرت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ، ایک ایسا عالمی لیڈر جس کے دامن پر مسلم ممالک کی تباہی، اسرائیل کی حمایت، اور امت مسلمہ کی تضحیک کے بے شمار داغ ثبت ہیں، جب اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر آتا ہے تو خلیجی ریاستیں اس کے استقبال میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتی ہیں۔ قطر کی جانب سے اسے تحفے میں دیا جانے والا قیمتی طیارہ ۔ جس کی مالیت سینکڑوں کروڑ روپے ہے در اصل ایک زخمی امت کے سینے پر چھنے والا خنجر ہے۔ کیا یہ وہی قطر نہیں جو خود کو اسلام کا علمبردار کہتا ہے ؟ کیا یہ وہی قیادت نہیں جو فلسطین کی حمایت کے دعوے کرتی ہے ؟ پھر یہ دو عملی کیوں ؟ یہ منافقت کیوں؟
یہ کوئی انفرادی رویہ نہیں۔ آج بیشتر مسلم حکمران علاقائیت اور ذاتی مفادات میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ انہیں نہ امت کا درد محسوس ہوتا ہے، نہ مظلوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ ایک ملک فلسطین کے حق میں بیان دیتا ہے، دوسرا اسرائیل سے خفیہ معاہدے کرتا ہے۔ ایک ملک کسی مسلم ملک پر حملے میں مدد دیتا ہے، دوسرا اپنی سرزمین کو دشمنوں کے لیے اڈہ بنا دیتا ہے۔ "من حيث الامت” کوئی سوچ باقی نہیں۔ امت مسلمہ، جسے ایک جسد واحد ہونا تھا، آج قبائل، قوموں، نسلوں اور ریاستوں میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔
اسلام کا نظام قومیت، وطنیت اور جغرافیائی تقسیم سے بالاتر ہے۔ قرآن بارہا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں: "انی فلیم أمنكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنا رَبَّكُمْ فَاعْبُدُون ” ۔ مگر ہم نے اس پیغام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم نے قومی پرچموں، سفارتی مفادات، اور علاقائی سیاست کو دین کی تعلیمات پر فوقیت دے دی۔ آج ہم اپنے ہی بھائیوں کو دہشت گرد، باغی، پناہ گزین اور بوجھ سمجھتے ہیں۔ روہنگیا کے مظلوم ہوں یا شامی مہاجرین کشمیری جوان ہوں یا فلسطینی یتیم ۔ سب کو اپنانے کے بجائے دھتکار دیا جاتا ہے۔
اس المیے کی جز مسلم قیادت کے اندر وہ فکری افلاس ہے جو انہیں مغرب کے جوتے پالش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ انہیں اپنے عوام کی غربت، تعلیم کی پسماندگی، صحت کی بدحالی، اور عدل کے فقدان سے کوئی غرض نہیں۔ ان کی ترجیحات میں نہ قبلہ اول کی آزادی شامل ہے، نہ امت کی عزت و بقا۔ وہ یا تو مغرب کے کارندے بنے بیٹھے ہیں یا خود اپنے تخت و تاج کے اسیر دوسری طرف عالم اسلام کی عوام بھی غفلت کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے۔ ہم نے اپنی دعاؤں سے فلسطین کو نکال دیا، ہم نے اپنے بچوں کو امت کا درد سکھانا چھوڑ دیا، ہم نے اپنی تقریبات، مجلسوں، اور خطبات کو دنیاوی مفادات کے لیے وقف کر دیا۔ ہم صرف احتجاجی بیانات، سوش سوشل میڈیا کی پوسٹوں اور وقتی جوش پر اکتفا پر اکتفا کرنے لگے۔
یہی وقت ہے کہ ہم امت کی اس مردہ رگ میں نئی روح پھونکیں۔ ہمیں علاقائیت، وطن پرستی، اور نسلی تعصبات کے خول کو توڑ کر ایک ملت بننا ہوگا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے اداروں کو بے جان اجلاسوں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمیں مشترکہ پالیسی، مشترکہ دفاع، مشترکہ میڈیا، اور مشترکہ سفارتکاری کے خواب کو حقیقت میں بدلنا ہوگا۔
اگر ہم نے یہ موقع کھو دیا، تو تاریخ ہمیں صرف تماشائی لکھے گی ۔ وہ تماشائی جو اپنی مسجدوں، اپنے بازاروں، اپنے تہواروں اور اپنی دولت میں مگن رہے، جب ان کے بھائیوں کا خون بہتا رہا۔
آئیے ! ہم زبان، رنگ، نسل، قوم، وطن ،سب کی زنجیروں کو توڑ کر اننا المؤمنون إخوة” (بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں) کی صدا پر لبیک کہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو امت کا شعور دینا ہوگا، اپنی دعاؤں کو وسیع کرنا ہوگا، اپنے وسائل کو منظم کرنا ہوگا، اور اپنے حکمرانوں کو آئینہ دکھانا ہوگا۔ ورنہ کل ہماری خاموشی ہماری سزا بن جائے گی۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے