कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امریکی اور ایرانی وفود کے ارکان کے نام جانیے

واشنگٹن؍تہران:11؍اپریل:ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات آج ہفتے کے روز ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات پر باہمی بے اعتمادی کے بادل منڈلا رہے ہیں، کیونکہ ان دونوں دیرینہ دشمنوں کے درمیان اپنے اہم مطالبات کے حوالے سے واضح دوری نظر آ رہی ہے۔ایرانی وفد جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، پہلے اسلام آباد پہنچا جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔اس کے بعد امریکی وفد پہنچا جس کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وینس کا شمار واشنگٹن کے ان "عقابوں میں ہوتا ہے جو "امریکہ فرسٹ” اور "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا” (MAGA) کے نعروں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ طاقت کے ذریعے جنگوں کے خاتمے اور امن کے حامی کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں تاکہ امریکی سرحدوں سے باہر طویل تنازعات اور جنگوں میں نہ الجھنا پڑے۔ذرائع نے امریکی نیٹ ورک "اے بی سی” کو بتایا کہ امریکی وفد میں وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ وزارتِ خارجہ، دفاع اور قومی سلامتی کونسل کے حکام بھی اس کا حصہ ہیں۔امریکی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ سفارتی عمل میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کی قیادت کی ایک وجہ ایرانی جانب اور ٹرمپ کے ایلچیوں (وٹکوف اور کشنر) کے درمیان پایا جانے والا تناؤ بھی ہے، جو گذشتہ سال جون اور رواں سال جنوری میں ہونے والے مذاکرات کے پچھلے دو ادوار کے بعد پیدا ہوا تھا۔دوسری جانب ایرانی وفد 70 سے زائد افراد پر مشتمل ہے جس کی سربراہی قالیباف کر رہے ہیں۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل محمد باقر ذوالقدر، کونسل برائے دفاع کے سکریٹری جنرل علی اکبر احمدیان اور مرکزی بینک کے سربراہ عبد الناصر ہمتی کے علاوہ پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاسی، سکیورٹی، عسکری، معاشی و قانونی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔وفد کے اہم ناموں میں کونسل برائے دفاع کے سکریٹری علی اکبر احمدیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن علی باقری کنی، کاظم غریب آبادی اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی شامل ہیں۔ایرانی نیوز ایجنسی "فارس” کے مطابق وفد میں اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی شعبوں کی تکنیکی و ماہرین کی کمیٹیوں کے 26 ارکان، مرکزی مذاکرات کاروں کے ہمراہ 23 میڈیا نمائندے اور پروٹوکول، کوآرڈینیشن و سکیورٹی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ امن مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تہران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں اور آبنائے ہرمز کو (تجارت کے لیے) کھولا جائے۔ انہوں نے گذشتہ روز (جمعہ کو) یہ دھمکی بھی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔دوسری طرف ایران نے براہِ راست مذاکرات کے لیے اپنی کچھ شرائط کو دہرایا ہے، جن میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں پر سے پابندی کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہے۔توقع ہے کہ ایرانی وفد آج دوپہر سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔ اگر امریکیوں نے ایرانی جانب سے پیش کردہ پیشگی شرائط تسلیم کر لیں، تو مذاکرات سہ پہر کے وقت اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں شروع ہوں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے