कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امت مسلمہ کی اصل حیثیت اور اس کی داعیانہ ذمہ داریاں

از قلم : مولانا سید آصف ندوی (امام و خطیب مسجد غنی پورہ، ناندیڑ)۔
موبائل : 9892794952

دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو انسانیت مختلف قوموں اور امتوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ کوئی قوم اپنے رنگ و نسل پر فخر کرتی رہی، کوئی اپنے جغرافیہ اور سرزمین کے حصار میں قید ہو گئی، کوئی اپنے مفاد اور اقتدار کے گرد گھومتی رہی۔ ان کی زندگیوں کا محور زیادہ تر اپنی ذات، اپنی قوم اور اپنے مفادات تک محدود رہا ، انسانیت کی رہنمائی اور عالمگیر بھلائی کا بوجھ کسی نے اپنے سر نہ لیا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ایک آفاقی امت بنایا ہے ، اس کو محض ایک نام کی امت نہیں بنایاِ، یہ امت نہ کسی ایک خطے کی پابند ہے، نہ کسی ایک نسل کی غلام، یہ امت ایک آفاقی و عالمی امت ہے، جسے ایک آفاقی نبی ﷺ کی امتی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ (البقرہ: 143)”اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہوں”۔
یہی امت مسلمہ کی اصل حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے خیر امت بنایا، قیادت و ہدایت کی ذمہ داری دی اور انسانیت کے لیے نیکی اور بھلائی کا ذریعہ مقرر فرمایا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: )خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ) "سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔” اس ذمہ داری کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی اصل حیثیت کو جانیں اور ان فرائض اور ذمہ داریوں کو سامنے رکھیں جو ہم پر بطور امت عائد کیے گئے ہیں۔

امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داریاں

1. امر بالمعروف و نہی عن المنکر
اسلام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین اپنے ماننے والوں کو محض ذاتی نجات یا فرد واحد کی دینداری تک محدود نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی امت کی تعمیر کرتا ہے جو زمین پر خیر اور بھلائی کا چراغ بن کر انسانیت کے راستوں کو روشن کرے۔ قرآن نے اس امت کو اسی صفت سے نوازا ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ﴾ (آل عمران: 110) یعنی تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے فائدے کے لیے اٹھائی گئی ہے؛ نیکی کا حکم دیتی ہو اور برائی سے روکتی ہو۔
یہ فریضہ امت کے وجود کا مقصد ہے۔ نبی کریم ﷺ کی پوری سیرت اسی حقیقت کی زندہ تصویر ہے۔ ابتدائے بعثت ہی میں مکہ مکرمہ کے ماحول کو دیکھ لیجیے۔ خانہ کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایستادہ تھے، شرک کا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ ایسے وقت میں اللہ کے رسول ﷺ نے توحید کی صدا بلند کی: “قولوا لا إله إلا الله تفلحوا”۔ یہ وہ دعوت تھی جس نے نہ صرف اہلِ مکہ کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ پورے عرب کی جڑوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ مشرکین نے مخالفت کی، ایذائیں دیں، معاشرتی بائیکاٹ کیا، مگر آپ ﷺ اس فریضے سے ایک لمحہ کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹے۔ یہ استقامت دراصل امت کے لیے ایک سبق ہے کہ نیکی کے حکم اور برائی کے رد میں مصیبتیں آتی ہیں، مگر داعی کی زبان خاموش نہیں ہونی چاہیے۔
مدینہ منورہ میں یہ فریضہ اجتماعی سطح پر قائم ہوا۔ اسلامی ریاست کا سب سے پہلا مقصد یہی تھا کہ نیکی کو عام کیا جائے اور منکرات کا قلع قمع کیا جائے۔ مسجد نبوی اس دعوت کا مرکز تھی جہاں ایک طرف قرآن کی تلاوت اور تعلیم ہوتی، دوسری طرف لوگوں کے اخلاق و عادات کی اصلاح کا عمل جاری رہتا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ اسی فریضے کی تفسیر ہے۔ ایک بار آپ نے بازار میں دیکھا کہ ایک شخص غلہ بیچ رہا ہے، اوپر خشک گندم تھی اور نیچے گیلی۔ آپ نے ہاتھ ڈالا، جب حقیقت ظاہر ہوئی تو فرمایا: “من غشنا فليس منا” (جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں)۔ یہ دراصل نہی عن المنکر کی عملی شکل تھی، کہ برائی چاہے تجارت میں ہو یا عبادات میں، امت کو اس سے روکنا فرض ہے۔
پھر خلفائے راشدین کا دور دیکھیے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالتے ہی اپنے پہلے خطبے میں فرمایا: “تم میں سب سے نیک وہی ہوگا جو میرے نزدیک سب سے قوی ہے، یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلواؤں۔ اور سب سے کمزور وہ ہوگا جو میرے نزدیک کمزور ہے، یہاں تک کہ میں اس کے حق کو دلوا دوں۔” یہ اعلان دراصل اس حقیقت کا اعلان تھا کہ خلافت کا مقصد عدل اور حق کو قائم کرنا اور ہر قسم کی منکر روش کا سدباب ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا انداز اور بھی جلال آفریں تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے بازار میں حد سے زیادہ قیمتیں بڑھا دیں۔ آپ نے فرمایا: “قیمتوں کو بڑھانا چھوڑ دو، یا مدینہ چھوڑ دو۔” یہ حکم نہ صرف معاشی عدل کے قیام کی علامت تھا بلکہ یہ نہی عن المنکر کی عین تعبیر تھی۔ اسی طرح جب ایک عورت نے آپ کو خط لکھا کہ آپ کے گورنر نے ظلم کیا ہے تو آپ نے گورنر کو فوراً معزول کیا اور کہا: “اگر امت کسی منکر پر خاموش ہو جائے تو اللہ کا عذاب سب پر آتا ہے“۔ اسلاف کا طرز بھی یہی تھا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے خلقِ قرآن کے فتنے میں سختیاں برداشت کیں، کوڑے کھائے مگر حق بات پر ڈٹے رہے۔ یہ دراصل اس بات کی عملی مثال ہے کہ برائی خواہ کتنا ہی زور پکڑ لے، اہلِ ایمان اس کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
ان تمام واقعات کا مرکزی پیغام ایک ہی ہے: توحید پر استقامت، شرک و باطل کی نفی اورنیکی کو عام کرنے اور برائی کو ختم کرنے میں کسی مصلحت کی پروا نہ کرنا۔ یہی امت کی اصل پہچان ہے، اور یہی فریضہ قیامت تک باقی ہے۔ آج کے دور میں اگر امت یہ ذمہ داری چھوڑ دے، تو وہ اپنے وجود کی غرض ہی کھو بیٹھے گی۔

۲۔ عدل و انصاف
اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کی بنیاد نہ کسی قومیت پر ہے، نہ رنگ و نسل پر، اور نہ ہی کسی ذاتی مفاد پر؛ بلکہ یہ خالصتاً اللہ کی رضا اور حق کی پاسداری پر قائم ہے۔ قرآن کریم نے اس امت کو مخاطب کر کے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى﴾ (المائدہ: 8) ترجمہ: “اے ایمان والو! اللہ کے لیے ہمیشہ انصاف پر قائم رہو اور انصاف کی گواہی دیتے رہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔”
یہ وہ عظیم تصور ہے جس نے اسلامی معاشرے کو دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ متوازن اور پرامن معاشرہ بنایا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی عدل کی عملی تفسیر ہے۔ ایک یہودی نے آپ ﷺ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس سے ادھار لیا ہے۔ آپ ﷺ نے اس الزام کو برداشت کیا اور معاملہ قضاۃ کے سامنے پیش کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے دفاع میں بھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑا۔ اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب قریش کی ایک عورت نے چوری کی، تو کچھ لوگ چاہتے تھے کہ اس پر حد جاری نہ ہو کیونکہ وہ قریش کے معزز خاندان سے تھی۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے سفارش کی، تو نبی کریم ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا: “تم سے پہلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں کہ وہ کمزور پر حد جاری کرتے تھے اور طاقتور کو چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دے گا۔” یہ اعلان دراصل قیامت تک آنے والی امتوں کے لیے ایک روشن مینار ہے کہ عدل میں کوئی مصلحت یا رشتہ داری حائل نہیں ہو سکتی۔
خلفائے راشدین نے بھی اسی اصول کو اپنے نظام کی بنیاد بنایا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک قبطی نوجوان نے حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے کی شکایت کی کہ اس نے مجھے ناحق مارا ہے۔ معاملہ حضرت عمرؓ کے دربار میں پہنچا۔ آپؓ نے اس قبطی کو کوڑا دیا اور فرمایا: “مارو! تم ابن العاص کے بیٹے کو اسی طرح مارو جس طرح اس نے تمہیں مارا تھا۔” پھر فرمایا: “لوگو! تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنالیا حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟”۔ یہ وہ جملہ تھا جو تاریخ کے اوراق پر عدل کی ایسی لکیر کھینچ گیا جو قیامت تک مٹنے والی نہیں۔ ہمارے اسلاف کے واقعات بھی عدل کی روشنی سے جگمگا رہے ہیں۔ خلیفہ منصور کے دربار میں امام مالکؒ کھڑے ہو کر دین کی سچائی بیان کرتے تھے اور خلیفہ کو تنبیہ کرتے تھے کہ عدل کے بغیر حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ امام ابو حنیفہؒ نے قاضی القضاۃ بننے کی پیشکش اس لیے ٹھکرا دی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر عدل قائم نہ کر پائے تو یہ منصب قیامت کے دن وبالِ جان بن جائے گا۔
یہی عدل جب عملی معاشروں میں قائم ہوتا ہے تو نہ صرف مظلوم کو سکون ملتا ہے بلکہ دشمن بھی سلامتی محسوس کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی سلطنتوں کے زیر سایہ غیر مسلم بھی اطمینان اور انصاف کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے ہندو، شام کے عیسائی اور ایران کے مجوسی مسلمان حکمرانوں کے دور کو یاد کر کے آج بھی انصاف کی مثالیں دیتے ہیں۔
اگر امت آج عدل کو اپنے نظام کی بنیاد بنا لے تو دنیا کے بکھرتے ہوئے معاشرے، بڑھتی ہوئی ناانصافیاں اور معاشی ظلم خود بخود ختم ہو جائیں۔ عدل وہ ستون ہے جس پر نہ صرف امت کی عظمت قائم ہے بلکہ انسانیت کی بھلائی کا انحصار بھی اسی پر ہے۔

۳۔ اخلاق و رحمت
اسلام کے پیغام کی بنیاد محض احکام و قوانین پر نہیں بلکہ اخلاق و رحمت پر ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک طرف فرد کے دل کو نرم کرتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کو خیر و عافیت کا گہوارہ بناتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی یہ بیان کیا گیا ہے: “إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ” “مجھے بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ میں اخلاق کی بلندیوں کو مکمل کروں۔” یہ اخلاق ہی تھے جنہوں نے دشمنوں کو دوست بنایا، ظالموں کو رحم دل بنایا، اور اجڑے ہوئے دلوں کو آباد کر دیا۔
مکہ کے ابتدائی دنوں کو یاد کیجیے۔ رسول اللہ ﷺ پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے گئے۔ طائف میں پتھر برسائے گئے، یہاں تک کہ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے۔ اس وقت جب فرشتہ حاضر ہوا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ان بستیوں کو الٹ دیا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں، مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں سے وہ لوگ نکلیں گے جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور شرک سے پاک رہیں گے۔” یہ وہ رحمت ہے جو انسانیت کو نئی زندگی بخشتی ہے۔
مدینہ منورہ میں بھی آپ ﷺ کا طرز یہی رہا۔ ایک بدوی آیا اور مسجد نبوی میں کھڑا ہو کر پیشاب کر دیا۔ صحابہؓ طبعی غیرت کی وجہ سے اس پر ٹوٹ پڑے، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: “اسے چھوڑ دو، اور وہاں پانی بہا دو۔ تم آسانی پیدا کرنے والے بنو، مشکل کھڑی کرنے والے نہ بنو۔” یہ اس اخلاق کا عملی منظر تھا جو دلوں کو جیت لیتا ہے اور دین کو انسانوں کے قریب کر دیتا ہے۔ فتح مکہ کا منظر بھی اسی حقیقت کی عظیم مثال ہے۔ وہی مکہ جہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کو ستایا، ایذائیں دیں، قتل کی سازشیں کیں، آج آپ ان پر غالب کھڑے ہیں۔ مگر آپ ﷺ نے اعلان کیا: “اذهبوا فأنتم الطلقاء” “جاؤ! آج تم سب آزاد ہو۔” یہ اعلان انسانی تاریخ میں رحمت و عفو کی سب سے بڑی مثال ہے۔
خلفائے راشدین نے بھی اسی راہ کو اپنایا۔ حضرت عمر فاروقؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گھومتے اور بھوکے بچوں کی صدائیں سنتے۔ ایک بار دیکھا کہ ایک عورت دیگچی میں پانی ڈال کر ابال رہی ہے تاکہ بچے سمجھیں کھانا پک رہا ہے اور وہ سو جائیں۔ حضرت عمرؓ کا دل کانپ گیا، فوراً بیت المال گئے، بوری پر کھجوریں اور گھی رکھا، اپنے کندھوں پر لاد کر اس عورت کے گھر پہنچے، خود آگ جلا کر کھانا پکایا اور بچوں کو کھلایا۔ یہ اخلاق و رحمت کا وہ منظر ہے جس نے امت کی اصل شان دنیا کو دکھائی۔ ہمارے اسلاف نے بھی اسی ورثے کو آگے بڑھایا۔ امام ابو یوسفؒ قاضی القضاۃ تھے۔ ایک دن راستے میں دیکھا کہ ایک بچہ کیچڑ میں کھیل رہا ہے۔ بچہ ڈر گیا کہ کہیں قاضی سزا نہ دے۔ امام ابو یوسفؒ نے مسکرا کر کہا: “بیٹا! ڈر مت، کھیلتا رہ۔ میرا کام سزا دینا نہیں بلکہ لوگوں کو آسانی دینا ہے۔ یہی وہ اخلاق ہیں جن کی وجہ سے اسلام نے دلوں کو مسخر کیا۔ اگر تلوار نے فتح دی ہوتی تو آج اسلام ان خطوں میں باقی نہ رہتا جہاں تلوار کبھی نہیں پہنچی، مگر مسلمانوں کے اخلاق و رحمت کی خوشبو پہنچی۔
آج کی دنیا بھی اسی اخلاق اور رحمت کی پیاسی ہے۔ نفرتیں بڑھ رہی ہیں، انتقامی سیاست نے انسانیت کو زخم دیے ہیں، اور معاشرتی رشتے کمزور پڑ گئے ہیں۔ امت مسلمہ اگر اپنے نبی ﷺ کے اخلاق کو پھر سے زندہ کر دے تو دنیا خود بخود امن و سکون کی وادی میں داخل ہو جائے گی۔

۴۔ علم و بصیرت
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بنیاد محض جذبات پر نہیں رکھی جا سکتی، بلکہ اس کی جڑیں علم و بصیرت میں پیوست ہونا لازمی ہیں۔ اگر داعی خود جہالت میں مبتلا ہو، اور صحیح و غلط کے فرق کو نہ جانتا ہو تو اس کی دعوت الٹی اثر انداز ہوگی۔ اسی لیے قرآن کریم نے جہاں توحید کی دعوت دی وہاں ساتھ ہی یہ تاکید فرمائی: قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّٰهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (یوسف: 108) "کہہ دیجیے یہ میرا راستہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت پر، میں بھی اور وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی۔” یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ دعوت صرف جذباتی پکار نہیں بلکہ بصیرت، علم اور حکمت پر مبنی عمل ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی پوری زندگی اس حقیقت کی تفسیر ہے۔ آپ نے کبھی اندھی تقلید یا محض جوش و خروش کی بنیاد پر دین پیش نہیں کیا، بلکہ عقلی دلائل، فطری برہان اور تاریخی شواہد کے ساتھ بات کو اس انداز میں رکھا کہ دل اور دماغ دونوں مطمئن ہو جاتے۔ جب مشرکین نے لات و عزیٰ کے جھوٹے خداؤں کے بارے میں دلیل پیش کی، تو آپ ﷺ نے ان کے معبودوں کی بے بسی کو نہایت حکمت سے واضح فرمایا۔ اسی طرح جب ایک بدوی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ "آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟” تو آپ نے فرمایا: "اللہ نے۔” اس نے کہا: "تو پھر ہم اسی کی عبادت کریں گے۔” یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کی عقل کو جھنجھوڑ کر حق کی طرف متوجہ فرمایا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اسی روش کو اپنایا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو "ترجمان القرآن” کہا جاتا ہے کیونکہ وہ مسائل کو صرف الفاظ میں نہیں سمجھاتے تھے بلکہ اس کے پس منظر اور حکمت کو بھی اجاگر کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کی مجلسیں علم و بصیرت کا گہوارہ تھیں، جہاں فیصلے کرتے وقت وہ قرآن، سنت، عقل اور حالات کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فیصلے آج بھی فقہی بصیرت کی اعلیٰ مثال سمجھے جاتے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے بھی یہی وراثت سنبھالی۔ امام ابو حنیفہؒ نے ہزاروں مسائل کو عقل و نصوص کی روشنی میں سلجھایا، اور امام غزالیؒ نے فلسفے اور منطق کے میدان میں اسلام کی حقانیت کو بصیرت کے ساتھ واضح کیا۔ یہ سب اس بات کا درس دیتے ہیں کہ بغیر علم اور بصیرت کے امر بالمعروف کا عمل سطحی اور نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
لہٰذا ایک داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت میں راسخ علم رکھتا ہو، تاریخ سے واقفیت رکھتا ہو، اور حالاتِ زمانہ کا گہرا ادراک رکھتا ہو۔ اسی بصیرت کی روشنی میں وہ برائی کو برائی اور نیکی کو نیکی کہہ سکے گا، ورنہ اندھیرے میں تیر چلانے جیسا عمل معاشرے میں مزید انتشار پیدا کردے گا۔
موجودہ دور کی رکاوٹیں
تاریخ کے مختلف ادوار میں امت مسلمہ نے بڑے بڑے طوفانوں اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے۔ کبھی تاتاریوں کی یلغار، کبھی صلیبی جنگیں، کبھی اندرونی کمزوریاں اور کبھی بیرونی حملے ۔ مگر ایمان کی پختگی، قیادت کی بصیرت اور اتحاد کی طاقت نے ان تمام مشکلات کو عارضی ثابت کر دیا۔ مگر آج کے دور کی صورتحال کچھ مختلف ہے۔ آج امت کے سامنے جو رکاوٹیں ہیں وہ صرف بیرونی دشمن کی یلغار نہیں، بلکہ اندرونی زوال اور فکری کمزوریوں کی پیداوار ہیں۔ یہ رکاوٹیں خاموشی سے ہماری قوت کو چاٹ رہی ہیں اور ہمارے عزم کو کمزور کر رہی ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کا سب سے بڑا خطرہ تلواروں اور توپوں کا نہیں بلکہ نظریات، غفلت اور انتشار کا ہے۔ یہ خطرہ اس قدر مہلک ہے کہ بظاہر ہم آزاد ہیں لیکن حقیقت میں فکری اور تہذیبی غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو سمجھے بغیر امت کے احیاء اور اس کے منصبِ امامت کی بحالی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسی پس منظر میں چند بنیادی رکاوٹیں ایسی ہیں جن پر نگاہ ڈالنا اور ان کا علاج تلاش کرنا ناگزیر ہے:
1. غفلت اور کمزوری ایمان
آج امت کی سب سے بڑی بیماری ایمان کی کمزوری اور دینی غفلت ہے۔ دلوں میں دنیا کی محبت اور آخرت کی فکر کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ انسان اپنی پوری توانائیاں صرف دنیا کے آرام و آسائش کے حصول پر لگا دیتا ہے، لیکن دین کی خدمت، دعوت کے پیغام یا امت کی اصلاح کے لیے وقت نکالنے کو بوجھ سمجھتا ہے۔ مسجدیں آباد ہیں مگر دل و دماغ دین سے غافل ہیں۔ قرآن گھروں میں موجود ہے مگر تلاوت اور تدبر سے محروم ہے۔ یہ غفلت امت کو ایسے مقام پر لے آئی ہے جہاں ایمان ایک رسمی شناخت بن کر رہ گیا ہے، نہ کہ زندگی کو سنوارنے والا حقیقی سرمایہ۔
2. فرقہ واریت و انتشار
ایک اور بڑی رکاوٹ فرقہ واریت اور باہمی انتشار ہے۔ امت مسلمہ جسے اللہ نے "واحد امت” بنایا تھا، وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک مسلک دوسرے پر طعن کرتا ہے، ایک جماعت دوسری کو کافر یا گمراہ قرار دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہو رہی ہیں، دشمن کے مقابلے میں صف آرا ہونے کے بجائے ہم آپس میں دست و گریباں ہیں۔ قرآن مجید کی یہ تنبیہ آج ہمارے حال پر صادق آتی ہے: "وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُم” (الأنفال: 46) "آپس میں جھگڑو گے تو کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔” یقیناً آج یہی کیفیت ہے کہ امت کی اجتماعی طاقت اختلافات کی نذر ہو چکی ہے۔
3. سیاسی محکومی
مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری سیاسی محکومی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمان دنیا کی قیادت کرتے تھے، انصاف پر مبنی حکومتیں قائم کرتے تھے، اور دنیا ان کے عدل کی گواہ تھی۔ مگر آج بیشتر مسلم ممالک دوسروں کی پالیسیوں کے تابع ہیں۔ عالمی طاقتیں ہمارے وسائل کو لوٹتی ہیں، ہمارے فیصلوں کو کنٹرول کرتی ہیں، اور امت کے رہنما اقتدار کے نشے میں اپنی قوم کی حقیقی آزادی کو بھول بیٹھے ہیں۔ یہ محکومی امت کے حوصلوں کو توڑ رہی ہے اور دعوت و اصلاح کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
4. تعلیمی پسماندگی
جہاں ایک طرف جدید دنیا علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہاں امت مسلمہ تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں تحقیق کے بجائے ڈگری فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ ہم نے نہ دینی علوم میں گہرائی اختیار کی اور نہ دنیاوی علوم میں امت کی رہنمائی کا حق ادا کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل یا تو مغرب کی اندھی تقلید میں کھو رہی ہے یا پھر دین کی صحیح بصیرت سے محروم ہو رہی ہے۔ یہ پسماندگی ہمیں دنیا کی قیادت اور انسانیت کی رہنمائی کے منصب سے دور کر رہی ہے۔
5. میڈیا اور فکری یلغار
آج کے دور کی سب سے بڑی رکاوٹ میڈیا اور فکری یلغار ہے۔ ذرائع ابلاغ نے پوری دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے۔ مغربی تہذیب اپنے افکار، نظریات اور طرزِ زندگی کو فلموں، ڈراموں، سوشل میڈیا اور تعلیمی نظام کے ذریعے ہم پر مسلط کر رہی ہے۔ ہماری نوجوان نسل اپنی تہذیب و اقدار سے شرمندہ اور مغرب کے انداز و اطوار پر فخر محسوس کرنے لگی ہے۔ یہ فکری یلغار دراصل ایمان، اخلاق اور اسلامی تہذیب پر ایک ایسا حملہ ہے جو تلوار سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ انسان کے دل و دماغ کو مسخر کر کے اسے اپنی جڑوں سے کاٹ دیتا ہے۔
عصرِ حاضر میں امت کی ذمہ داریوں اور ان کے ادا کرنے کے عملی طریقے
آج امت مسلمہ ایک نیا چیلنج پیشِ نظر رکھتی ہے۔ دنیا کی تیز رفتار تبدیلیاں، معاشرتی انتشار، فکری یلغار، اور دینی شعور کی کمی کے باوجود، امت پر اللہ کے نبی ﷺ کی وصیت اور عہد باقی
ہے: دین کی روشنی کو قائم رکھنا، نیکی کو فروغ دینا اور برائی سے روکنا۔ اس عہد کو پورا کرنا محض جذبات اور نعرہ بازی سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ایک منظم اور سوچ سمجھ کر کیے جانے والے عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں امت کی ذمہ داریاں درج ذیل پہلوؤں میں واضح ہوتی ہیں:
1. تعلیمی میدان میں کوششیں
علم و تربیت پر توجہ دینا آج کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ امت کو چاہیے کہ دینی و دنیاوی دونوں علوم میں مہارت حاصل کرے۔ جدید تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جو نوجوانوں کو نہ صرف دنیاوی ہنر سکھائیں بلکہ دین کی بصیرت بھی عطا کریں۔ مدارس و یونیورسٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق مضبوط کریں تاکہ نوجوان معاشرتی، اقتصادی اور دینی مسائل کے حل میں ماہر بنیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں علم کا فروغ امت کو اپنے معیار اور کردار کو بلند کرنے کی طاقت دیتا ہے۔
2. میڈیا اور ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال
آج میڈیا، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ایک طاقتور ذریعہ ہیں جو یا تو امت کو ہلاک کر سکتے ہیں یا اس کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ امت کو چاہیے کہ اس طاقت کو دین کی خدمت میں استعمال کرے: دعوتی ویڈیوز، اخلاقی و تربیتی پروگرام، آن لائن لیکچرز اور مثبت مواد کی تخلیق کے ذریعے نیکی کی تبلیغ کی جائے۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سوچ اور معلومات کے لیے معتبر ذرائع استعمال کریں اور فکری یلغار سے بچیں۔
3. اصلاحی اداروں اور انجمنوں کا قیام
امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ معاشرتی، فکری اور اقتصادی اصلاح کے لیے ادارے قائم کرے۔ یہ ادارے برائی کے خاتمے، تعلیم و تربیت، غربت اور بے روزگاری کے مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔ زکوٰۃ، صدقات، اور خیراتی منصوبے صرف مالی امداد نہیں بلکہ ایک منظم ذمہ داری اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔ اس کے ذریعے امت اپنے اصول عدل، اخلاق اور رحمت کو عملی طور پر مظاہرہ کرتی ہے۔
4. نوجوانوں اور طلبہ کی تربیت
امت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور رہنماوں پر لازم ہے کہ نوجوانوں کو صحیح تربیت دیں، انہیں دینی شعور عطا کریں، اور اخلاقی اصولوں پر مستحکم کریں۔ یہ تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی مثال، مشاہدہ اور رہنمائی کے ذریعے ممکن ہے۔ نوجوانوں میں خوداعتمادی، اجتماعی شعور اور دعوت کے جذبے کو فروغ دینا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
5. حکمت و تدبر کے ساتھ اجتماعی جدوجہد
امت کی ذمہ داری کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اجتماعی مسائل کو فرداً فرداً حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اختلافات کے باوجود امت کو متحد ہو کر برائی اور ظلم کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا۔ اس کے لیے حکمت، تدبر اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ اقدامات مؤثر اور نتائج مثبت ہوں۔ تاریخی مثالیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین نے اجتماعی جدوجہد میں ہمیشہ منصوبہ بندی، حکمت عملی اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، اور اسی کی بنیاد پر معاشرے میں اصلاح ممکن ہوئی۔
6. اخلاق اور بصیرت کے ساتھ دعوت
یاد رکھیں کہ دعوت صرف دلائل اور فکری مباحثہ تک محدود نہیں، بلکہ اخلاق، رحمت اور بصیرت کے ساتھ پیش کی جائے۔ آج کے دور میں، جہاں لوگ معلومات کی بھرمار اور تضاد کا شکار ہیں، ایک شخص جو نرم دل، پراثر کلام اور بصیرت کا حامل ہو، وہ معاشرتی اصلاح اور دعوت کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
آج امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ علم، عدل، اخلاق، بصیرت اور حکمت کے ستونوں پر اپنی زندگی، معاشرت اور تنظیموں کو استوار کرے۔ عصری چیلنجز ،فکری یلغار، تعلیمی پسماندگی، سیاسی محکومی، اور فرقہ واریت کو سمجھ کر ان کا حل تلاش کیا جائے۔ جب امت مسلمہ اس عہد کو سمجھ کر اس پر عمل کرے گی، تو نبی ﷺ کی دعوت کا پیغام دنیا تک پہنچے گا، اور امت کی حقیقی حیثیت اور ذمہ داریاں بحال ہوں گی۔
امت مسلمہ کی اصل حیثیت ایک عالمی اور آفاقی امت کی ہے۔ یہ امت محض اپنی بقا کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے بنی ہے۔ اس کی عظمت اسی وقت بحال ہو گی جب یہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچان کر ان پر عمل کرے۔ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، عدل و انصاف قائم کرنا، اخلاق و رحمت اپنانا اور علم و بصیرت کے میدان میں آگے بڑھنا یہی وہ ستون ہیں جن پر امت کی عظمت قائم ہے۔ آج کی رکاوٹیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر امت اخلاص اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرے تو ایک بار پھر دنیا اسلام کے عدل، امن اور رحمت سے منور ہو جائے گی۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے