कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امتحان

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

امتحان کے مختصر سے معنی ہیں جانچنا ، آزمائش ، یا اندازہ قدر ، یا چیک کرنا ۔۔۔
کسی بھی میدان میں آپ کی صلاحیت یا آپ کو سکھائے یا پڑھانے پر آپ کی صلاحیت کو جانچنا ۔ ایک مخصوص وقت میں آپ کو جو بھی کام دیا گیا تھا آپ اس ہر کتنے قابل ہوتے ہیں ؟ یہ بھی جانچ ہوتی ہے ۔ اس  میں آپ کی معلومات ، سمجھ بوجھ اور اس کے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی دیکھی جاتی ہے ۔۔۔
یوں تو امتحان کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں ۔ جیسے زندگی کے امتحان ، کیریر کے امتحان، کورس میں داخلہ کے امتحان، ملازمت  کے امتحان ، باورچی خانے میں خانساماں بننے کے لیے امتحان ، تیرنے ،کھیلنے کودنے ، فوج ، غرض ہر پیشہ کے لیے بھی ایک امتحان سے گزرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اسی کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت کے امتحان ، اس دور میں فلسطینیوں پر رب العالمین کا لیا جانے والا امتحان، ظالم اور مظلوم کے امتحان، قاتل مقتول کے امتحان، قبر کے امتحان ، حشر کے میدان کے امتحان ، وغیرہ ۔۔
یہ امتحان اتنے مہربان ہوتے ہیں کہ یہ ہر کسی کو موقع دیتے ہیں ، یہ تو اسکول کے ننھے منے بچوں کو بھی پر رحم نہیں فرماتے ۔ اور طلباء و طالبات کو سال میں دو مرتبہ اس پہاڑ جیسی مصیبت سے گزرنا ہوتا ہے (سالانہ اور ششماہی) ، ان میں تین قسم کے امتحان ہوتے ہیں ، تحریری ، زبانی اور عملی ۔۔
میرا موضوع ، تحریری امتحان سے متعلق ہے ۔۔
تحریری امتحان میں طلبہ کو چالیس یاپچاس نمبرات ، بڑی جماعتوں کے طلبہ اسّی نمبرات کا پرچہ  ہوتا ہے ۔۔ اور چالیس میں سے سولہ نمبرات اسی طرح اسّی میں سے بتیس نمبرات حاصل کرنے پر امتحان میں کامیابی ملتی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ زبانی امتحان اور عملی (practical exam ) کے اچھے نمبرات کے سبب طلبہ آسانی سے پاس ہو سکتے ہیں ۔۔۔
لیکن،ہمارے طلبہ اتنے بھی نمبرات حاصل کرنے کے لیے لاکھ بہانے اور ہزاروں باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔
آئیے !ناچیز آج ، آپ کو عام بچوں کا امتحانات کے دوران کی ذہنی کیفیت روشناس کرانا چاہتی ہے ۔
یوں تو طلبہ اس بات سے باخبر ہوتے ہیں کہ ان کے امتحانات لیے جانے ہیں یہ بات پتھر کی لکیر کی طرح ہے اور کہ فلاں فلاں تاریخ سے امتحان لیے جائیں گے ، اب تو ٹائیم ٹیبل بھی مل گیا !!! اب تو حشر کا سورج زمین پر آگیا ، اب یہ نیند سے بیدار ہوگئے  ، اتنے بیدار ہوئے کہ دن رات بس امتحان کی تیاری ہے ، اور کہیں کہیں والدین اور اساتذہ کی محنت ، اور ان کا احساس انھیں بے فکر ہونے نہیں دیتا، کچھ ابھی ہلکی ہلکی نیند لے رہے ہیں اور کچھ کو بے فکری اور اپنے  نالج  سے کہیں زیادہ ان کی خود اعتمادی نے پھر سے میٹھی نیند سلا دیا ہے ۔کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں نہ اساتذہ ، نہ اپنی پڑھائی نہ ہی وقت اور نہ ہی کسی اور سے رائی برابر بھی امید ہے؟اور محنت سے تو ان کا خدا واسطے کا بیر ہے ،اور وہ ناامید ہوتے  ہوئے گلیوں میں کنکوے اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔
امتحانات کی تیاری اپنے آپ میں دلچسپ بات معلوم ہوتی ہے ، کہیں طلبہ اپنے آپ کو امتحان کے لیے ٹیبل اور کرسی پر وقف کر دیتے ہیں تو کہیں زمین پر پیر پھیلا کر ، کہیں پلنگ پر تو کہیں کرسیوں پر ، اس کے علاوہ بیٹھ کر لیٹ کر ،نیم لیٹ کر بھی امتحان کی تیاری کی جاتی ہے ، اسی کے ساتھ ساتھ کچھ مقدس جگہوں پر بھی امتحان کی تیاری کی جاتی ہے جیسےلائبریری ، چھت ، بالکنی ،دوست کے گھر ، ٹیوشن ، گارڈن ، کھیل کے میدان ،اسکول کے گراؤنڈ وغیرہ۔۔۔ ان میں سبق یاد کرنے کے بہت سے مختلف مختلف اور مزاحیہ اور دلچسپ طریقے بھی ہوتے ہیں۔۔۔نوے فی صد طلبہ تو رٹو طوطے بنے پھرتے ہیں ، کچھ ہوتے ہیں جو سمجھ کر ذہن نشین کرتے بھی ہیں تو ریویجن نہ کرنے کے سبب وہ ا ن کے معصوم ذہن میں زیادہ دیر رہ نہیں پاتا ، اسی کے ساتھ ساتھ اور گھی مختلف قسم کے طلبہ ہوتی ہیں جو ، کانوں میں ایر فون ڈال کر یاد کرتے ہیں ، نہ جانے یہ کونسا نسخہ ہے ؟ اور کچھ خاموش پڑھتے ہیں کہتے ہیں کہ آنکھوں سے پڑھ رہے ہیں ۔ اور کچھ اتنی اونچی اواز میں پڑھتے ہیں کہ پورے محلے کو وہ سوال کا جواب یاد ہو جائے گا ، بلکہ تا عمر یاد رہے گا ! لیکن یہ محترم ابھی بھی چیخ چیخ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ذل سن سن کر یاد کرتے ہیں تو کچھ طلبہ لکھ لکھ کر کوئی ایک جانب گھر کے کونے یا الگ سے سٹدی روم میں بیٹھا ہے تو کوئی پورے کمرے میں گھوم پھر رہا ہے ۔
اور طلبہ ہیں جن کا شمار سست اور کاہلوں میں ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے ممی ، بابا یا بہن پر منحصر ہوتے ہیں ۔
ان میں دیدی یا بھیا کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ۔ خیر کسی کی دیدی ہونا بھی کوئی آسان بات نہیں ہوتی، ابھی حال ہی میں میری کزن( خالہ زاد بہن) نے مجھے پچھلے ایک ہفتے سے پریشان کیا ہوا ہے ، جو جماعت  ہفتم میں ہیں ،محترمہ سال بھر تو خرگوش کی طرح پھدکتی پھر رہی ہوں گی اور اب امتحان کے قریب یہ ہمارے ناک میں دم کر رہی ہیں !
محترمہ نے تقریباً سارے مضامین کے اہم سوالات  (Guess paper) کے جوابات ہم سے لکھوائے ، مزید المیہ یہ ہے کہ انھیں جوابات کا حوالہ دینا پڑا اور ساتھ ساتھ سمجھانا بھی پڑا ، واٹس ایپ پر ڈھیر سارے وائیس میسیج ، گھنٹہ بھر ویڈیو کال، اور جوابات کی تصویریں !! اوربعض اسکولوں میں اہم نکات ، important points, Guess paper , کے نام پر یہ تعلیم کا معیار گرانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ، اور یہی وجہ ہے کہ طلبہ محنت سے کی جی چرا  رہے ہیں ۔ بھلا سوالیہ پرچہ بھی امتحان سے قبل دکھایا جاتا ہے؟؟؟ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے !
ان میں وہ طلبہ بھی ہوتے ہیں کتابیں اور ڈائجیسٹ خریدتے ہیں اور کچھ جو سوشل میڈیا کے چاہتیں رکھنے والے بھی ہوتی ہیں مثال کے طور پر ، جیسے ہر کام سے پہلے کرنے  بسمہ اللہ الرحمن الرحیم کی طرح  ہر معمولی معمولی کام کے لیے موٹیویشن سننے ہیں اس کے بعد واٹس ایپ ، فیس بک، انسٹا گرام اور اسنیپ چیٹ پر کتاب ، چائے کی پیالی ، قلم کی تصویر اور اس تصویر۔ کے ساتھ میں( رٹا مار ، رٹا مار ، اووو ہووووو رٹا مار) یہ گانا چلا دیتے ہیں !!!
اور یوٹیوب سے پڑھائی ، لائیو کلاسیس ،کسی ایپ سے پڑھائی ، گوگل اور اے آئی ٹولس کا استعمال وغیرہ ۔
ان دنوں طلبہ کی بہت اور خوش دلی سے عزت کی جاتی ہے ، جو بعد میں امتحان کے نتائج (رزلٹ) پر واپس بلکہ ، منافع کے ساتھ واپس بھی کی جاتی ہے ، عزت ،احترام ، قدر ،خیال ، اور ان کے احساسات اور جذبات کی بھی قدر ہوتی ہے ، امتحانات کے وقت ، طلبہ کی خدمتوں پر خدمتیں کی جاتی ہیں ، مثال کے طور پر گھر کے مختصر سے کاموں سے بھی راحت ، اتنا کہ یہ پانی بھی خود نہیں لے سکتے کہ یہ علم کی پیاس بجھانے کے ڈھونگ کر رہے ہوتے ہیں ۔ انھیں دودھ کے بھرے پیالے پیش کیے جاتے ہیں ، کاجو بادام، کھلائے جاتے ہیں ، اور وقتاً فوقتاً شربت، جوس ، چائے ، انر جی ڈرنکس ، بھی دیے جاتے ہیں ۔۔
امتحانات کے وقت طلبہ کو ذہنی تناؤ بھی ہوتا ہے ، والدین ان پر موبائیل  فون کی پابندی ، گھومنے پھرنے کی پابندی اور صرف پڑھائی پڑھائی اور پڑھائی ۔۔۔
باوجود اتنی کاوشوں کے طلبہ امتحان گاہ میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں ، اور امتحان گاہ سے بے دخل بھی ہوتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے بہت سے امتحان گاہوں اور ممتحنوں کے مطابق میں نقل کرنا  کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا ، اور طلبہ بے جھجھک امتحان میں نقل بھی کر لیتے ہیں ۔ بصض اوقات ممتحنوں کو کہیں اور جانب سے دباؤ ہوتا ہے اور وہ تعلیم کے میدان میں دندناتی ہوئی سیاسیت کے آگے ان کی لب کشائی  فضول ثابت ہوتی ہے اسی لیے وہ طلبہ جن کے املے بھی درست نہیں ہوتے وہ امتحان میں اچھے درجات سے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں وااااااہ وااااااہ وااااااہ
ا ن جیسوں کے لیے تو ان کی قسمت پر رشک ہی کیا جاسکتا ہے ؟ اور کچھ نہیں ، کیوں کہ جب ہر چھوٹے بڑے معاملے میں ہمارے معاشرے میں ہر شر کو خیر سمجھا جا رہا ہے اور ہر شاخ پہ اُلو بیٹھے ہیں تو انجام گلستاں کی فکر اسی شر کی خیر کے مطابق رکھنی چاہیے۔
خیر ناچیز ہر محنت کش طلبہ کے امتحان میں کامیابی بلکہ عمرہ درجات سے کامیابی کی توقع  رکھتی ہے ۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے