कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

امام العصر مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ حیات و خدمات (1999-1913)

تحریر:سید براء عازب بن سید مرتضی (رہبر) مہاراشٹر
(متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی ہندوستان کے ایک مشہور مفکر ،عظیم محقق، بلند پایہ عالم دین،بہترین داعی ہونے کے ساتھ کئی کتابوں کے مصنف اور مخلص مربی تھے ‌۔جن کو دنیا "امام العصر” "مفکر اسلام” اور "علی میاں ندوی” جیسے القاب سے جانتی ہے۔
مفکر اسلام اتر پردیش کے ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں 5 دسمبر 1913ء کو حسنی خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام مولانا سید حکیم عبدالحی حسنی تھا جو ایک مشہور مصنف اور عالم دین تھے والدہ کا نام سیدہ خیر النساء بہتر صاحبہ تھا جو ایک نیک سیرت صالح خاتون تھی اور خود بھی کںٔی کتابوں کی مصنفہ تھی
9سال کی عمر میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا چنانچہ آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالعلی حسنی پر آگئی جو ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ڈاکٹر بھی تھے۔
بنیادی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ سے گھر ہی میں حاصل کی اور مسجد کے مکتب سے سات سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل کر لیا ۔
اردو فارسی اور انگریزی کی تعلیم اپنے برادر اکبر ڈاکٹر عبدالعلی حسنی سے حاصل کی۔ عربی تعلیم کے لیے ڈاکٹر عبدالعلی حسنی نے آپ کو شیخ خلیل بن محمد عرب یمانی کے سپرد کیا(جن کی سکونت آپ کے محلے ہی میں تھی) وہ اس وقت عربی کے کامیاب ترین استاد تھے اور عربی کا ذوق ہی نہیں بلکہ ذائقہ بھی رکھتے تھے جب انہوں نے آپ کے ذوق و شوق کو دیکھا تو اپنا دل نکال کر رکھ دیا۔
آپ نے غالبا 1929 میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا اور دارالعلوم کے علمی و روحانی ماحول میں اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا اور مختلف اساتذہ سے تفسیر،حدیث شریف اور عربی ادب کی تعلیم حاصل کی عربی ادب میں خصوصا ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے استفادہ کیا ‌ اور ساتھ ہی لکھنو یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ فاضل ادب کی ڈگری حاصل کی ۔
آپ نے اپنے طالب علمی ہی کے دور میں عربی، انگریزی ،فارسی اور اردو زبان میں مہارت پیدا کر لی تھی اور اسلامی علوم وہ فنون میں کمال پیدا کر لیا تھا۔
کچھ دن دارالعلوم دیوبند جا کر مولانا حسین احمد مدنی سے حدیث شریف اور لاہور جا کر مولانا احمد علی لاہوری سے تفسیر کا علم حاصل کیا۔ آپ نے اپنی ذات کو دین و ملت کے لیے وقف کرنے کا عزم کر لیا تھا۔
مولانا مسعود عالم ندوی نے آپ کے متعلق (بحیثیت استاد) تجویز پیش کی بالآخر علامہ سید سلیمان ندوی کی تائید اور ارکان کے اتفاق سے یہ تجویز منظور کر لی گئی اور یکم اگست 1934 کو آپ کا دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں محض 20 سال کی عمر میں بحیثیت استاد تفسیر و ادب تقرر ہو گیا ۔
مفکر اسلام رح پوری عرق ریزی و جاں فشانی کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور دوران تدریس ایسے علماء اور قائدین پیدا کردیے جو قدیم صالح اور جدید نافع کا پیکر تھے
دارالعلوم ندود العلماء لکھنو میں قیام کے بعد سے ہی مفکر اسلام رح نے ہندوستان کے کئی مختلف علمی و دعوتی سفر کیے اور ہندو پاک کے مشہور علمی دانش گاہوں میں اپنے محاضرات پیش کیے۔
اسی دوران مفکر اسلام رح نے بمبئی کا بھی سفر کیا اور ڈاکٹر امبیڈکر صاحب کو دین اسلام کی دعوت دی اور تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ مفکر اسلام نے کئی کتابیں تصنیف فرمائی جن کو صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عالم عرب میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔
مفکر اسلام ہندوستان کی پہلی ایسی شخصیت تھی جن کو عجم سے زیادہ عرب جانتا تھا مولانا پہلے ایسے عالم دین تھے جن کو سعودی خاندان نے حج کے موقع پر خانہ کعبہ کی چابی دی تھی اور کہا تھا کہ آپ جب چاہے اور جس کو چاہے خانہ کعبہ میں لے جا سکتے ہیں مولانا پہلے ایسے عالم دین تھے جن کو آکسفورڈ اسلامک سینٹر کا چیئرمین بنایا گیا تھا مولانا ہندوستان کے پہلے ایسے عالم دین تھے جن سے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ بھی ملنا ایک شرف محسوس کرتے تھے اور مولانا کی نصیحتوں کو غور سے سنا کرتے تھے مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی نے اسلامی ممالک کے حاکموں اور بادشاہوں سے کئی کئی ملاقاتیں کی اور امت کے مسائل ان کے سامنے رکھے جن میں اردن کے شاہ عبداللہ، شاہ حسین سعودی عرب کے شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد اور شاہ فہد مراکش کے کنگ ملک حسن ثانی شارجہ کے حاکم سلطان بن محمد قاسمی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق سر فہرست ہے۔ اس وقت مفکر اسلام رح کی شخصیت ایک عالمگیر شخصیت بن چکی تھی اور آپ کی شہرت عالم عرب میں عام ہو چکی تھی ۔
نومبر 1953 کو علامہ سید سلیمان ندوی رح (سابق معتمد تعلیم) کا انتقال ہو گیا تو حضرت مولانا کو معتمد تعلیم منتخب کیا گیا اس کے بعد 1961 میں برادر معظم ڈاکٹر عبدالعلی کا انتقال ہو گیا تو مجلس شوریٰ کے متفقہ فیصلے پر مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کی نظامت کے لیے منتخب کر دیا۔
اس کے بعد مفکر اسلام نے اس گلشن علم و ادب کی آبیاری اپنی آخری سانس تک کی اور ندوۃ العلماء کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا حضرت مولانا کی تصنیفات کی تعداد 50 سے زائد تک ہے جن میں سے اکثر کا ترجمہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہو چکا ہے اور بہت سی کتابیں مدارس اسلامیہ میں داخلہ نصاب ہے لیکن آپ کی ایک انقلابی تصنیف "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ” جب مصر سے شائع ہوئی تو اس نے عالم عرب کے علمی حلقوں کو متزلزل کر دیا اور دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے اور کئی ممالک میں اس کتاب پر پابندی بھی لگائی گئی۔
1980 میں آپ کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف میں "کنگ فیصل ایوارڈ” سے آپ کو نواز، مولانا نے اس ایوارڈ کی پوری رقم قوم کو عطیہ میں دے دی۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کم و بیش 30 ملکوں کا علمی دعوتی سفر کیا اور وہاں کی مشہور یونیورسٹیوں میں قیمتی محاضرات دیے ۔
مفکر اسلام نے 1974 میں”ال انڈیا پیام انسانیت فورم” کی بنیاد ڈالی جس کے ذریعے ہندوستان کی اکثریت میں انسانیت کا پیغام عام ہو ۔
1985 میں حضرت مولانا کو "ال انڈیا مسلم پرسنل بورڈ” کا صدر بنایا گیا اور آپ کی شخصیت کے زیر نگرانی ہندوستان کے مسلمانوں نے بہت سے چیلنجز کا مقابلہ کیا ۔
مفکر اسلام رح کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ مثبت سوچتے تھے مثبت بولتے تھے اور مثبت لکھتے تھے .
اسی لیے آج تک آپ کے سارے کارہائے نمایا زندہ ہے ۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے ناظم،صدر ال انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، صدر رابطہ الادب الاسلامی العالمی،صدر آکسفورڈ اسلامک سینٹر ،صدر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ،صدر مجلس انتظامی دارالمصنفین اعظم گڑھ ،رکن مجلس شور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ ،
رکن عربی اکادمی دمشق ،
رکن مجلس شور دارالعلوم دیوبند،
بنیادی رکن مجلسں رابطہ عالم اسلامی مکہ معظمہ ،
اس کے علاوہ اور بھی کہیں دینی علمی سماجی تنظیموں کے روح روا اور میرکارواں تھے
آسمان دنیا کا یہ روشن ستارہ 31 دسمبر 1999 مطابق 23 رمضان 1420 ھ کو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوا اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
تم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے
انا للہ وانا الیہ راجعون

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے