कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

الوداع اے پیارے رمضان آنکھ نم ہے مگر امید زندہ ہے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

رمضان المبارک کی وہ حسین گھڑیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں جس میں یہ مہینہ اپنے اندر ایسی روحانی مٹھاس اور سکون سموئے ہوتا ہے جو سال کے باقی دنوں میں کہیں کم محسوس ہوتا ہے جب رمضان رخصت ہوتا ہے تو اس کی یادیں دل میں ایک نرم سی کسک اور میٹھی سی اداسی چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ افطاری کا وقت دن بھر کی بھوک اور پیاس کے بعد جب اذان کی آواز کانوں میں رس گھولتی تھی تو دل بے اختیار شکر سے بھر جاتا تھا دسترخوان پر سادہ سی چیزیں بھی نعمت محسوس ہوتی تھیں اور ہر لقمہ ایک خاص لطف دیتا تھا یہ صرف کھانے کا مزہ نہیں تھا بلکہ اس میں شکر صبر اور اللہ کی نعمتوں کا احساس شامل ہوتا تھا پھر وہ سحری کا لمحہ رات کی خاموشی میں بیدار ہونا نیند کی مٹھاس کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کے لیے اٹھنا ایک الگ ہی کیفیت پیدا کرتا تھا سحری میں کھایا جانے والا ہر نوالہ جیسے پورے دن کی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک روحانی توانائی بھی دیتا تھا اس وقت کی دعائیں اور ذکر دل کو عجیب سکون عطا کرتے تھے اور تراویح کی وہ بابرکت رکعتیں مسجد کی فضا قرآن کی تلاوت کی گونج اور نمازیوں کا خشوع و خضوع یہ سب مل کر ایک ایسا روحانی منظر پیش کرتے تھے جو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ہر رکعت میں دل یہ محسوس کرتا تھا کہ وہ اپنے رب کے اور قریب ہو رہا ہے قرآن پاک کی تلاوت کا مزہ بھی کچھ اور ہی ہوتا تھا عام دنوں میں جو تلاوت معمول کا حصہ ہوتی ہے رمضان میں وہی تلاوت دل کی گہرائیوں میں اترتی محسوس ہوتی تھی ہر آیت جیسے براہِ راست دل سے مخاطب ہوتی تھی اور انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی تھی اور سب سے بڑھ کر اللہ ربّ العزت کو منانے کا وہ انداز کبھی دعا میں آنکھیں نم ہو جاتیں کبھی دل سے توبہ نکلتی کبھی امید کے ساتھ ہاتھ اٹھتے رمضان میں بندہ اپنے رب کے سامنے جس عاجزی اور محبت کے ساتھ جھکتا ہے وہ کیفیت واقعی بے مثال ہوتی ہے۔ یہ سب باتیں مل کر رمضان کو ایک ایسا مہینہ بنا دیتی ہیں جو صرف عبادت کا نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والا ایک مکمل تجربہ ہوتا ہے جب یہ مہینہ گزر جاتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی ایک خوبصورت بہار ختم ہو گئی ہو مگر اس کی خوشبو دل میں باقی رہتی ہے۔ رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں جیسے جیسے اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہیں دل میں ایک عجیب سی اداسی اور خلا پیدا ہونے لگتا ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں روح کو سکون دل کو روشنی اور زندگی کو ایک نئی سمت ملتی ہے جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بہت عزیز مہمان ہمیں چھوڑ کر جا رہا ہو۔ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ صبر شکر عبادت اور خود احتسابی کا مہینہ ہے اس مہینے میں ہم اپنے رب کے قریب ہوتے ہیں اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا عہد کرتے ہیں جب آخری عشرہ آتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا اور شاید ہم وہ سب کچھ نہ کر سکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا آخری رمضان ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں کیا ہم نے واقعی اس مہینے کا حق ادا کیا؟ کیا ہماری نمازوں میں وہ خشوع و خضوع تھا؟ کیا ہم نے قرآن کو سمجھ کر پڑھا؟ کیا ہم نے دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ اپنایا؟ یہ سوالات دل میں ایک کسک پیدا کرتے ہیں اور آنکھوں کو نم کر دیتے ہیں۔
لیکن یہ اداسی مایوسی نہیں بلکہ ایک امید کا پیغام بھی ساتھ لاتی ہے اللہ ربّ العزت کی رحمت بے حد وسیع ہے اگر ہم نے کوتاہی کی بھی ہے تو ابھی وقت باقی ہے آخری دن اور راتیں ہمیں موقع دیتی ہیں کہ ہم اپنے رب سے لو لگائیں دل کی گہرائیوں سے دعا کریں اور اپنی زندگی کو بدلنے کا پختہ ارادہ کریں
رمضان کی جدائی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہمیں صرف اس مہینے تک محدود نہیں رہنا بلکہ اس کی برکتوں کو سارا سال اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے نماز صبر صدقہ اور اچھے اخلاق کو اپنی عادت بنانا ہی اصل کامیابی ہے
آخر میں جب رمضان ہم سے رخصت ہوتا ہے تو دل میں ایک دعا ہوتی ہے اے اللہ ربّ العزت جس طرح تو نے ہمیں اس رمضان تک پہنچایا اسی طرح آئندہ رمضان تک بھی ہمیں سلامت رکھ اور ہمارے اعمال کو قبول فرما یہ جدائی اگرچہ دل کو اداس کرتی ہے مگر ساتھ ہی ہمیں ایک نئی شروعات کا حوصلہ بھی دیتی ہے رمضان جاتا ہے مگر اس کی روشنی ہمارے دلوں میں ہمیشہ باقی رہنی چاہیے۔
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان یادوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق دے اور آئندہ رمضان تک ہمیں سلامت رکھے آمین یارب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے