कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

الامن اتی اللہ بقلب سلیم

تحریر: ڈاکٹر نعمان برلاسنیوکاسل

محفل دوستاں میں جونہی اعضا کے عطیہ سے متعلق بات شروع ہوئی تو حسب عادت میں نے سوال کر دیا۔ سنا ہے دل کی پیوند کاری کے بعد بہت سے لوگوں کے میلانات ، برتاو اور عادات میں تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔ اس سوال کی وجہ ہمارے گروپ میں دل کی پیوند کاری کے ایک نہیں بلکہ دو دو ماہر سرجن حضرات کی موجودگی تھی ۔ ڈاکٹر تنویر بٹ اور ڈاکٹر آصف شاہ۔ اس شعبہ میں دونوں کا شمار برطانیہ کے صف اول کے ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جو نہ صرف یہ سر جری کامیابی سے کر رہے ہیں بلکہ ایسے مریضوں کا بعد از آپریشن سال ہا سال معائنہ بھی کرتے ہیں۔ میں نے سن رکھا تھا کہ یہ تبدلیاں دل عطیہ کرنے والے کے عادات و اطوار سے مشابہ ہوتی ہیں جبکہ گردوں اور دوسرے اعضا کی پیوند کاری میں ایسا نہیں ہے۔ دونوں حضرات اس بات پر متفق تھے کہ بعض ایسی تبدیلیاں تو آتی ہیں تاہم ان کے متعلق معلومات کی ابھی کمی ہے۔ ایک سرجن کی حیثیت سے ان کی تمام تر توجہ پیوند کردہ دل کی صحت کو یقینی بنانے پر ہوتی ہے۔قرآن کریم میں نیکی کرنا، نیکی کی طرف متوجہ ہونااور طہارت تزکیہ اختیار کرنے کی نسبت سے قلب یا دل کا ذکر کم و بیش141جگہوں پر ملتا ہے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دماغ کا تذکرہ صرف 25 مقامات پر ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقی مقالہ اور مریضوں کی لکھی ہوئی کتب کے اقتباسات ڈھونڈتے ہوئے یونیورسٹی آف کالوراڈو کے شعبہ نفسیات کے مچل بی لسٹر کا ایک مقالہ دستیاب ہو گیا۔ اس کے مطابق مریض میں چار قسم کی تبدیلیوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کھانے کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی ، مزاج اور جذبات کی تبدیلی،شخصیت کی شناخت میں ترمیم، عطیہ کرنے والے کی شخصیت کی جھلک ۔ اس نے اس سلسلے میں نفسیاتی وجوہات اور خلیاتی سطح پر عطیہ کرنے والے کی جنیاتی یادداشت کا مفروضہ بیان کیا ہے۔اس تحقیق میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ عطیہ کرنے والے کی شناخت کو قانون کے مطابق صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر عطیہ کنندگان حادثاتی اور ناگہانی موت کا شکار صحتمند دل والے اشخاص ہوتے ہیں۔ سائنسی طور پر اب تک ثابت شدہ حقیقت تو یہی ہے کہ ہم دماغ سے ہی سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ تو پھر دل کی کیا حیثیت ہے۔ قرآنی معلومات کے مطابق انسانی شخصیت کے دو پہلو ہیں ایک انسانی جسم اور دوسرے اس کی روح- اس کا حیوانی جسم اس مٹی سے اٹھا ہے اور اسی مٹی میں واپس چلا جائے گا جبکہ اس کی روح جس کی تخلیق مادے کی تخلیق یا بگ بینگ سیبہت پہلے نور سے ہوئی تھی اور یہ عالم امر یا عام فہم میں عالم بالا کی شے ہے اسی لئے یہ واپس وہیں لوٹتی ہے۔ روح کا مرکز اور محور دل ہے۔ اسی طرح فرشتے بھی عالم امر سے متعلق ہیں ۔اسی لئے شاعر نے کہا ہے نغمہ وہی ہے نغمہ جسے روح سنائے اور روح سنے نغمہ سے مراد کلام پاک ، پہلی روح سے مراد روح الامین یعنی حضرت جبرائیل علیہ سلام اور دوسری روح سے مراد روح محمدی یا قلب محمدی ہے ۔ یعنی کلام اللہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر براہ راست وحی ہوتا تھا۔سورہ التین کے مطابق انسانی تخلیق روح کی وجہ سے بہت اعلی سطح پر کی گئی ہے ۔ انہیں ارواح سے عہد الست لیا گیا ہے اور نیکی ، بدی کی ابدی پہچان ودیعت کی گئی ہے۔ یہی روح اپنی پاکیزگی کی وجہ سے بد سے بدتر انسان کو بھی ابتدا برے کام کرنے پر کچوکے لگاتی ہے۔تاہم اس دنیاوی جسم میں آ کر حیوانی جبلتیں اس کو پراگندہ کر دیتی ہیں۔ اگر نیک اعمال سے اس کی آبیاری کی جائے تو اسے ان آلائشوں سے پاک کیا جا سکتا ہے ۔ورنہ یہ کمزور سے کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔روح اور جان کو ایک ہی سمجھنا غلطی ہے۔ روح کی مکمل طور پر علیحدہ شناخت ہے۔ جان تو دوسرے حیوانات میں بھی ہوتی ہے۔ روح ہی ہمیں خود شعوری عطا کرتی ہے جبکہ جانور اس سے عاری ہیں ۔ جب اسی روح کو یوم حساب ایک اور طرح کے جسم میں لوٹایا جائے گا تو دنیاوی اعمال و اطوار کی تمام تر یاداشت تازہ ہو جائے گی۔ سائنس کے لئے روح کا ادراک ممکن نہیں کیونکہ سائنس کا واسطہ مادے سے ہے اور یہ صرف حواس خمسہ سے تصدیق کردہ معلومات تک ہی محدود ہے۔مغربی ادب میں بھی ڈیوائن سپارک یا شعلہ ملاقوتی کا ذکر ملتا ہے۔ جدید دنیا میں زائد دماغی ادراک یا ایکسٹرا سنسری پرسپشن پربھی تحقیق کی جا ری ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہہ سکتے تاہم کیونکہ روح دل کی مکین ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ بعد از موت اگرچہ روح اس دنیا سے پرواز کر جاتی ہے مگر اس مکین ( روح)کے کچھ اثرات نشانات گھر یعنی دل پر رہنا اور وصول کنندہ مریض میں منتقل ہونا قابل فہم ہیں۔ جبکہ دوسرے اعضا کی پیوند کاری میں ایسا نہیں ہوتا۔قرآن میں دل کی نسبت سے زیادہ آیات کی موجودگی اور بعد از پیوند کاری دل ، میلانات اور عادات کی تبدیلی دونوں اس بات کے حق میں دلالت کرتی ہیں کہ انسانی دل کا مقام دوسرے اعضا سے جدا ہے۔ اگرچہ اسلام میں علم کے حصول کو جا بجا اجاگر کیا گیا ہے مگر قرآن دل کی اہمیت اور کیفیت پر بے پناہ زور دیتا ہے کہ یہ انسانی اعمال کی نیت کا مرکز ہے۔نیک نیت دل ہی علم سے روشن دماغ اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے اعمال کیاخلاص کا تعین کرتا ہے۔اس لئے نیک اعمال سے اس کی آبیاری جو درا صل روح کی آبیاری ہے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنی چاہیے تا کہ اللہ کو بے عیب دل پیش کیا جا سکے۔ جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللہ تعالی کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے