कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اقوام متحدہ کی بے بسی، ویٹوپاور اور جنگوں کی تلخ حقیقت

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

جب دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا نے لاکھوں لاشوں کے ڈھیر دیکھے، جب ہیروشیما اور ناگاساکی کی راکھ ابھی تک آسمان میں اڑ رہی تھی، تو انسانیت نے ایک خواب دیکھا تھا کہ اب جنگوں کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اسی خواب کی تعبیر کے لیے 1945 میں اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس کا چارٹر واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنا، جارحیت کو روکنا اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔ مگر آج، مارچ 2026 کے تیسرے ہفتے میں، جب امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں نے ایران کو آگ میں جھونک دیا ہے، جب سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام راکھ ہو چکے ہیں، جب جنوبی پارس گیس فیلڈ اور نیوکلیئر سائٹس پر بمباری جاری ہے، اور ایران جواب میں اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون برسا رہا ہے، تو وہی اقوام متحدہ ایک بے بس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اسٹریٹ آف ہرموز بند ہونے کے دہانے پر ہے، اور غریب ممالک میں مہنگائی اور بھوک کا طوفان اٹھ رہا ہے۔ غزہ میں پچاس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یوکرین کی سرزمین لاکھوں لاشوں سے بھری پڑی ہے، اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس صرف بیانات جاری کر رہے ہیں کہ‘‘یہ جنگ بے قابو ہو سکتی ہے’’۔
حالانکہ اقوام متحدہ اپنے دیگر اہم امور میں کچھ نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کر رہی ہے۔ 2025 کی پائیدار ترقی کے اہداف کی رپورٹ کے مطابق، ایچ آئی وی کے نئے انفیکشنز میں 2010 کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے، ملیریا کی روک تھام سے 22 ارب کیسز روکے گئے اور 127 لاکھ جانیں بچائی گئیں، سماجی تحفظ اب دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی تک پہنچ چکا ہے، 45 ممالک میں بجلی کی رسائی یونیورسل ہو چکی ہے اور 54 ممالک میں نظر انداز کیے جانے والے ٹراپیکل امراض ختم ہو چکے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو خوراک کی امداد پہنچائی، یو این ایچ سی آر نے دو کروڑ سے زیادہ پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی مدد کی، یونیسیف نے دنیا بھر کے بچوں کی تقریباً 45 فیصد ٹیکہ کاری کی اور ڈبلیو ایچ او نے 28 بڑی صحت ایمرجنسیز کا مؤثر مقابلہ کیا۔ یہ ادارہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹس تیار کرتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی معاہدوں کی نگرانی کرتا ہے، اور لاکھوں لوگوں کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات فراہم کر رہا ہے۔ مگر جب بات جنگوں کو روکنے کی آتی ہے تو یہ ادارہ مکمل طور پر بے بس ہو جاتا ہے۔
اس بے بسی کی سب سے بڑی وجہ ہے ویٹو پاور۔ سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین—امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس—کو یہ مطلق حق دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی اہم قرارداد کو ایک ہی ووٹ سے روک سکتے ہیں، چاہے باقی چودہ اراکین متفق ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ ویٹو چارٹر کے آرٹیکل 27 (3) میں بیان کیا گیا ہے، جہاں کہا گیا ہے کہ غیر طریقہ کار (substantive) فیصلوں کے لیے نو ووٹ چاہییں، جن میں تمام مستقل اراکین کے ”متفقہ ووٹ” (concurring votes) شامل ہوں۔ 1945 میں، Dumbarton Oaks کانفرنس (1944) اور Yalta کانفرنس (1945) میں یہ طاقت اس لیے طے کی گئی تھی کہ دوسری عالمی جنگ کے فاتح ممالک (Big Four اور بعد میں چین) کو یقین دلایا جائے کہ اقوام متحدہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکے گی۔ اگر یہ ویٹو نہ دیا جاتا تو یہ بڑی طاقتیں ادارے سے الگ ہو جاتیں یا اسے قبول ہی نہ کرتیں—جیسا کہ لیگ آف نیشنز کے ساتھ ہوا تھا جہاں کوئی بھی ممبر غیر طریقہ کار معاملات پر ویٹو استعمال کر سکتا تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ بڑی طاقتیں متحد رہیں، ان کی وفاداری یقینی بنائی جائے، اور عالمی امن کو ان کی مشترکہ رضامندی سے چلایا جائے۔ فرانکلن ڈی روزویلٹ اور دیگر رہنماؤں کا خیال تھا کہ یہ ’’اتفاق رائے‘‘ (consensus) ہی جنگ روکنے کی ضمانت دے گا، کیونکہ بغیر ان کی حمایت کے کوئی فوجی کارروائی یا پابندیاں عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکتیں۔ مگر یہ تحفظ آج جارحیت کا سب سے مضبوط ڈھال بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی حالیہ ناکامیاں اس بے بسی کو اور بھی واضح کرتی ہیں۔ 2022 سے جاری یوکرین جنگ میں روس نے 15 سے زائد قراردادوں کو ویٹو کیا، جن میں روسی فوج کی واپسی، انسانی امداد کی مکمل رسائی اور جنگ جرائم کی تحقیقات شامل تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں، کروڑوں بے گھر ہیں، اور یورپ کی سب سے بڑی توانائی بحران پیدا ہو گئی ہے۔ غزہ میں 2023 سے جاری تنازع میں امریکہ نے 8 سے زائد بار ویٹو استعمال کیا، جن میں فوری سیز فائر، انسانی امداد کی محفوظ رسائی اور اسرائیلی فوج کی رفح پر پیش قدمی روکنے کی قراردادیں شامل تھیں۔ اس نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر ہیں، اور انسانی بحران کی شدت اتنی ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشنر نے اسے ”نسل کشی کا امکان” قرار دیا ہے۔ اب 2026 کی ایران جنگ میں بھی یہی منظر ہے۔ 28 فروری کے امریکہ-اسرائیل حملوں کے بعد 11 مارچ کو پاس ہونے والی ریزولوشن 2817 میں صرف ایران کے جواب کے حملوں کی مذمت کی گئی، جبکہ ابتدائی جارحیت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ خاص طور پر چین اور روس—جو ایران کے سب سے بڑے حامی ہیں—نے ویٹو کا استعمال نہیں کیا، بلکہ پرہیز کیا۔ ریزولوشن کو تقریباً 135 ممالک کی حمایت حاصل تھی اور یہ بحرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اگر چین یا روس ویٹو کرتے تو وہ عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہو جاتے اور عرب دنیا، GCC ممالک اور بہت سے غیر جانبدار ممالک سے سخت تنقید کا سامنا کرتے۔ ریزولوشن میں صرف ایران کے جواب کے حملوں کی مذمت کی گئی تھی جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ یہ متن ”غیر متوازن” ہے اور جنگ کی جڑوں کو نظر انداز کر رہا ہے، مگر ویٹو کی بجائے پرہیز کیا تاکہ سیاسی اور سفارتی دباؤ سے بچ جائیں۔ روس نے ایک الگ ریزولوشن پیش کیا تھا جو تمام فریقوں کو فوری روک تھام کا مطالبہ کرتا تھا، مگر وہ ناکام ہو گیا۔ یہ واقعہ ویٹو پاور کی ایک کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ جب عالمی دباؤ بہت زیادہ ہو تو ویٹو والے ممالک بھی اسے استعمال نہیں کرتے، کیونکہ اس کی سیاسی قیمت بہت بھاری پڑتی ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کے خیالات بھی اس ناکامی پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ انتونیو گوتریس نے بارہا کہا ہے کہ سیکیورٹی کونسل ”1945 کی دنیا کی نمائندگی کرتی ہے، آج کی نہیں” اور ویٹو پاور کی وجہ سے یہ ادارہ ”مفلوج” ہو چکا ہے، جس سے عالمی امن و سلامتی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ماہرین اور دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویٹو پاور ”جنگ روکنے کی بجائے جارحیت کا تحفظ” کرتی ہے — جیسے یوکرین میں روس اور غزہ میں امریکہ کی طرف سے استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جیمز ایم ڈورسی اور جینٹ کرشنا جیسے ماہرین نے کہا ہے کہ ”اگر یوکرین پر قرارداد آئے تو روس ویٹو کر دے گا، غزہ پر تو امریکہ” — یہ ویٹو کا نظام ادارے کی ”پیرالیسس” کا مرکز ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ویٹو کی وجہ سے UN ”غیر موثر” اور ”غیر نمائندہ” ہو چکا ہے، اور بغیر اصلاح کے یہ ”غیر متعلقہ” یا ”تباہ” ہو سکتا ہے۔
اس پورے منظر نامے میں امریکہ کی دندناتی ہوئی طاقت سب سے نمایاں ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت بن کر ابھرا۔ 1945 سے لے کر آج تک اس نے چار سو سے زائد فوجی مداخلتیں کی ہیں۔ کوریا میں جنگ لڑی، ویتنام میں لاکھوں جانیں ضائع کیں، 1953 میں ایران کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا، 2003 میں عراق پر حملہ کیا جس نے دہشت گردی کو جنم دیا، افغانستان میں بیس سال گزار کر طالبان کو واپس لایا، اور اب 2026 میں‘‘آپریشن ایپک فیوری’’کے نام سے ایران پر حملے کر رہا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام روکنا اور میزائل طاقت ختم کرنا اس کا مقصد ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حملے علاقائی جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں، تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، اور دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں تقریباً پچاس بار ویٹو استعمال کیا ہے، جبکہ روس نے یوکرین اور شام میں ویٹو کا سہارا لیا۔ یہ دندناتا طاقت کا مظاہرہ ہے کہ جو ملک امریکہ کا اتحادی ہے اسے تحفظ ملتا ہے، اور جو مخالف ہے اس پر حملہ کیا جاتا ہے—اور اقوام متحدہ اسے روک نہیں سکتی۔
جنگوں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان کے کوئی حقیقی فوائد نہیں ہوتے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، میڈیکل ایجادات، معاشی بحالی—یہ سب لاکھوں انسانی جانوں اور تباہی کی قیمت پر آتے ہیں۔ ایران میں انرجی سائٹس پر حملوں سے عالمی تیل بحران پیدا ہو رہا ہے، غریب ممالک میں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ غزہ اور یوکرین میں بھی یہی ہوا۔ مگر انسانیت نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اقوام متحدہ جنگ روکنے کے لیے نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔ ویٹو پاور نے اسے مفلوج کر دیا ہے۔ جب ایک ملک دوسرے پر حملہ کرتا ہے تو P5 میں سے کوئی ایک بھی اگر متاثر ہو تو ویٹو کر دے گا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جنگ جاری رہتی ہے، انسانی جانوں کی قربانیاں بڑھتی جاتی ہیں، اور اقوام متحدہ صرف بیانات جاری کرنے والی ایک بے جان مشین بن جاتی ہے۔
اگر اقوام متحدہ کو زندہ رکھنا ہے تو اس کی بنیادی اصلاح ضروری ہے۔ ویٹو پاور کو ختم کیا جائے یا شدید محدود کیا جائے۔ سیکیورٹی کونسل میں بھارت، جرمنی، جاپان، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی بڑھائی جائے۔ ایک مضبوط، آزاد امن فورس بنائی جائے جو واقعی جارحیت روک سکے۔ ورنہ یہ ادارہ مزید جنگیں دیکھتا رہے گا، مگر روک نہیں سکے گا۔ ایران کی آگ، غزہ کی چیخیں، یوکرین کی بربادی، اور امریکہ کی دندناتی طاقت ایک ہی سوال پوچھ رہی ہیں: کیا انسانیت کبھی سبق سیکھے گی، یا ویٹو کی زنجیروں اور بڑی طاقتوں کے مفادات میں جکڑی رہے گی؟وقت آ گیا ہے کہ دنیا الفاظ سے آگے بڑھے۔ عملی اقدامات کرے۔ اصلاح لائے۔ ورنہ تاریخ بار بار دہرائے گی، اور اقوام متحدہ ہمیشہ تماشائی ہی رہے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے