कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانہ :زندگی پھر مسکرائی

از: راشدہ یاسمین، سکلیشپور (ہاسن، کرناٹک)
9035972491

سنم غیر معمولی حسن و وقار کی حامل ایک ایسی باوقار خاتون تھی جسے دیکھنے والا ٹھہر سا جاتا۔ اس کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی—سادگی میں لپٹی ہوئی دلکشی، اور آنکھوں میں چھپی ہوئی ایک خاموش کہانی۔ لوگ اسے کبھی کسی فلمی اداکارہ سے تشبیہ دیتے، تو کبھی اس کے حسن کی مثالیں دیتے نہ تھکتے۔
مگر اس ظاہری خوبصورتی کے پیچھے ایک طویل صبر، قربانی اور آزمائشوں سے بھری زندگی پوشیدہ تھی۔
ایک دن ایک نجی تقریب میں اس کی ملاقات عامر سے ہوئی—ایک وجیہہ، سنجیدہ اور پرکشش نوجوان۔ محفل کی ہلچل کے درمیان جب دونوں کی نظریں ملیں، تو جیسے وقت ایک لمحے کو ٹھہر گیا۔ سنم کے دل میں ایک مدھم سی خواہش نے سر اٹھایا:
"کاش، میری زندگی میں بھی کوئی ایسا ہوتا…”
دوسری طرف عامر بھی اس غیر معمولی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
"یہ لڑکی سب سے مختلف ہے…”
تقریب اختتام پذیر ہوئی اور دونوں اپنی اپنی دنیا میں لوٹ گئے، مگر تقدیر نے ان کے لیے ایک اور ملاقات محفوظ کر رکھی تھی۔
چند دن بعد ایک سرکاری میٹنگ میں دونوں کا دوبارہ سامنا ہوا۔ اس بار رسمی تعارف نے خاموش کشش کو لفظوں کا سہارا دیا۔ گفتگو کا آغاز ہوا اور دلوں میں ایک انجانی سی اپنائیت نے جنم لیا۔
پھر ایک دن سنم اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ عامر کے دفتر جا پہنچی۔ ملاقات نے شناسائی کو مزید گہرا کیا اور بالآخر رابطہ نمبروں کا تبادلہ ہو گیا۔
گھر لوٹ کر سنم نے پہل کرتے ہوئے ایک مختصر پیغام بھیجا، مگر جواب نہ آیا۔ تین دن کی بے چینی کے بعد ایک سادہ سا "السلام علیکم” اس کے موبائل کی اسکرین پر نمودار ہوا—اور یہیں سے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔
گفتگو کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ پسند، ناپسند، خیالات اور جذبات—سب کچھ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹا جانے لگا۔
سنم کی زندگی کا ماضی ایک کربناک داستان تھا۔ محض سولہ برس کی عمر میں شادی، اور بیس برس کی عمر میں بیوگی کا صدمہ۔ دو کمسن بچوں کی ذمہ داری نے اس کے خوابوں کو وقت سے پہلے ہی دفن کر دیا تھا۔ اس نے اپنی ہر خواہش، ہر آرزو کو قربان کر کے خود کو صرف ماں کے کردار تک محدود کر لیا۔
وقت گزرتا گیا، بچے جوان ہو گئے، اور سنم ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار عورت کے طور پر ابھری—مگر دل کے کسی گوشے میں ایک خلا ہمیشہ باقی رہا۔
عامر کی رفاقت نے اس خلا کو آہستہ آہستہ بھرنا شروع کیا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اب تنہا نہیں رہی۔
مگر دوستی کب محبت میں ڈھل گئی، اسے خود بھی خبر نہ ہوئی۔ ایک دن اس نے حوصلہ کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر ہی دیا:
"عامر… میں تم سے محبت کرتی ہوں۔”
یہ الفاظ سن کر عامر ساکت رہ گیا۔ اس کے چہرے پر حیرت، الجھن اور خاموشی ایک ساتھ اتر آئے۔ وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
چند دن تک وہ سنم سے دور رہا۔ اس کے دل میں ایک شدید کشمکش برپا تھی۔ ایک طرف سنم کی سچی محبت، اور دوسری طرف اس کی ازدواجی ذمہ داریاں۔
عامر اپنی شادی شدہ زندگی میں کبھی حقیقی سکون حاصل نہ کر سکا تھا۔ گھریلو ناچاقیاں اور تلخیاں اس کی زندگی کا مستقل حصہ بن چکی تھیں۔ اس کے باوجود وہ ایک ذمہ دار انسان تھا، جو اپنے فرائض سے چشم پوشی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مگر کچھ رشتے صرف نبھائے جاتے ہیں، جئے نہیں جاتے۔
برسوں کے صبر کے بعد، دل کی تھکن اس پر غالب آ گئی۔ ایک دن وہ ٹوٹے ہوئے دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ سنم کے پاس پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی اور لہجے میں سچائی۔
"سنم، میں نے بہت کوشش کی… مگر اب مزید نہیں کر سکتا۔ میں کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا، مگر خود کو بھی اس اذیت میں نہیں رکھ سکتا۔”
سنم خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
عامر نے ہمت جمع کر کے کہا:
"اگر تم چاہو… تو میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں—ایک سچے اور باعزت رشتے کے ساتھ۔”
یہ الفاظ سن کر سنم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا اس نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے آہستہ سے کہا:
"اگر یہ رشتہ سچائی اور عزت پر قائم ہوگا… تو میں راضی ہوں۔”
کچھ ہی عرصے بعد نہایت سادگی کے ساتھ نکاح انجام پایا۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی نمود و نمائش—صرف دو تھکے ہوئے دلوں کا باوقار ملاپ۔
عامر کو سنم میں وہ سکون ملا جس کی وہ مدتوں سے تلاش میں تھا، اور سنم کو عامر میں وہ سہارا نصیب ہوا جس کی وہ برسوں سے متلاشی تھی۔
گھر کی فضا، جو کبھی تلخیوں سے بوجھل تھی، اب مسکراہٹوں سے مہکنے لگی۔ زندگی، جو کبھی ایک بوجھ محسوس ہوتی تھی، اب ایک خوبصورت احساس میں ڈھل گئی۔
ایک رات سنم نے آسمان کی وسعتوں کی طرف نگاہ اٹھائی، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور دل ہی دل میں کہا:
"اے زندگی! تو نے مجھے بہت آزمایا، بہت رلایا… مگر آخرکار میرے صبر کا صلہ دے دیا۔”
اور یوں…
زندگی پھر مسکرائی۔ 💫

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے