कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانہ :خاموش قدم

از:راشدہ یاسمین ،
ہاسن (کرناٹک )
موبائل 9035972491

علینہ کی دنیا بہت چھوٹی تھی…
مگر بہت خوبصورت۔
ایک دو کمروں کا گھر،
ایک پیاری سی ماں،
ایک محنتی باپ،
اور وہ خود —
ایک خواب دیکھنے والی بچی۔
صبح امی کے ہاتھ کی روٹی،
ابو کی آواز میں دعا،
اور اسکول جاتے وقت ماتھے پر پیار کی چمی۔
علینہ سوچتی تھی: “میری زندگی سب سے خوبصورت ہے…”
بارہ سال تک
وہ واقعی خوش رہی۔
اسے معلوم نہیں تھا
کہ خوشی بھی کبھی عارضی ہوتی ہے۔ اچانک یہ ہوا کہ۔۔۔۔
آسمان ٹوٹ پڑا بادل پھٹ پڑے۔
وہ دن عام دن جیسا تھا۔
امی نے ناشتہ بنایا، ابو اخبار پڑھ رہے تھے، علینہ بستہ سنبھال رہی تھی۔
اچانک ابو نے کہا: “علینہ… ہمیں تم سے بات کرنی ہے…”
امی کی آنکھیں جھک گئیں۔
اور پھر وہ لفظ… جو علینہ کے دل میں زہر بن کر اتر گیا:
“میں دوسری شادی کر رہا ہوں…”
علینہ کو لگا جیسے آسمان اس پر گر پڑا ہو۔
وہ کچھ بول نہ سکی۔ صرف امی کی طرف دیکھا…
جہاں صرف آنسو بہہ رہے تھے۔ ایسا لگا کہ
اسی دن اس کی بچپن کی دنیا ختم ہو گئی۔
گھر اجنبی لگنے لگا
نئی ماں آئی۔
گھر میں نئے کپڑے، نئے برتن، نئی مسکراہٹیں…
مگر علینہ کے لیے
سب کچھ اجنبی تھا۔
وہ مسکرا کر بولتی: “امی…”
مگر جواب میں
صرف سرد نظریں ملتیں۔
“یہ کام ٹھیک سے نہیں کیا!” “یہ لڑکی بہت بدتمیز ہے!” “ہمیشہ شکایت کرتی رہتی ہے!”
رفتہ رفتہ علینہ خاموش ہوتی گئی۔
اب وہ بولتی نہیں تھی… اس نے سہنا سیکھ لیا تھا ۔
راتیں اس کی آنسوؤں کی نذر ہوتیں۔
دن میں وہ مضبوط بنتی، مسکراتی، اسکول جاتی۔
مگر رات…
رات اس کے لیے کٹھن تھی۔
تکیے میں منہ چھپا کر رونا، خاموشی سے دعا کرنا:
“یا اللہ… مجھے بھی کوئی اپنا دے دو…”
وہ چاہتی تھی کوئی اس سے پوچھے:
“تم ٹھیک ہو نا؟”
مگر کوئی نہیں تھا جو اس کی ڈھارس باندھتا۔۔۔۔
ٹوٹ کر بکھرنا اور ثابت قدم رہنا اس کا مقدر بن گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
علینہ بڑی ہونے لگی، سمجھدار ہونے لگی۔
اس نے جان لیا:
“رو کر کچھ نہیں ملتا… …”ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہی اصل زندگی ہے۔
اس نے پڑھائی میں دل لگایا، خود پر بھروسہ کیا، اور خوابوں کو زندہ رکھا۔
خاموشی اس کی پہچان تھی، مگر وہ اندر سے شیرنی بن چکی تھی۔

آج علینہ ایک مضبوط لڑکی ہے۔
اس کے چہرے پر سکون ہے، آنکھوں میں خواب، اور دل میں اللہ پر یقین۔
وہ اب بھی زیادہ نہیں بولتی، مگر اسکے قدم اب مضبوط ہیں ڈگمگاتے نہیں…
خاموشی سے جنگ جیتنا اس نے سیکھ لیا ہے۔
وہ جان چکی ہے:
“جس نے درد میں جینا سیکھ لیا، وہ کبھی ہارتا نہیں۔”🌙✨
*************

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے