कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسماعیل ہنیہ کے بعد حماس کی قیادت کون سنبھالے گا؟

غزہ:4؍اگست:فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس آج کل اپنے نئے سربراہ کے چنا کی تیاری میں ہے۔ تاکہ بدھ کے روز تہران میں اسرائیل کے قاتلانہ حملے کا شکار ہونے والے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی جگہ پر ان کے متبادل کا تقرر ہو سکے۔اس انتہائی اہم جانشینی کے معاملے پر مختلف مفروضوں پر بات ہو رہی ہے۔ کیونکہ 10 ماہ سے جاری غزہ جنگ کا یہ ایک نیا چیلنج حماس کو درپیش ہوا ہے جس سے اس کو نمٹنا ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے قطر میں رہنے والے اپنے ماضی کے سیاسی تجربے اور فلسطینی وزارت عظمی پر فائز رہنے والے اسماعیل ہنیہ کو 2017 میں حماس کے سیاسی شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پچھلے تقریبا 7 سال سے اس عہدے پر موجود تھے کہ انہیں بدھ کے روز تہران میں بم سے نشانہ بنا دیا گیا۔ہنیہ کی اس ناگہانی موت کے بعد ہو سکتا ہے کہ ایک لمبی جنگ کے پس منظر میں حماس پر بھی اثرات مرتب ہوں اور کسی شخصیت سے زیادہ حماس کو ایک تنظیم کے طور پر ہی زیادہ اثرات سے گزرنا پڑے۔اس کے باوجود کہ عملیت پسندی کا اظہار بالواسطہ طور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کی طرف رخ کر سکتا ہے۔ لیکن حماس کے ارکان کی سوچ اور جدوجہد ایک فلسطینی ریاست کے حوالے سے غیر متزلزل اور سمجھوتے کے کسی بھی امکان سے بالاتر ہے۔ وہ اس کے لیے عسکری جدوجہد کو بھی اپنا جائز حق سمجھتے ہیں۔ کہ اپنی سرزمین کی واپسی کے لیے جدوجہد ہونا ان کے مطابق ‘یو این چارٹر’ سے متصادم نہیں ہے۔نئی لیڈرشپ کے لیے جن ناموں کو بالعموم زیر بحث لایا جا رہا ہے ان میں ایک نام خلیل الحیہ ہیں۔
خلیل الحیہ
وہ اس وقت حماس کے سیاسی بیورو کے نائب کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس ناطے غزہ کی پٹی پر حماس کے لیڈر یحیی السنوار کے زیادہ قریب اور جڑے ہوئے ہیں۔2006 میں خلیل الحیہ حماس کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ تھے۔ جس نے اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر فلسطینی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی اور حماس کو فلسطینی عوام کا مینڈیٹ ملا تھا۔حماس کی جیت کے کچھ ماہ بعد فتح اس مشترکہ حکومت کا حصہ نہ رہی جس کی بطور صدر سربراہی 2006 سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے پاس ہے۔ وہ اس وقت سے اب تک عملا تاحیات صدر کے طور پر موجود ہیں۔ جبکہ غزہ میں واضح اکثریت کا مینڈیٹ رکھنے والی حماس کے پاس انتظامی اور حکومتی اختیارات چلے آرہے ہیں۔ جنہیں اب جنگ کے دنوں میں بہرحال دھچکا لگا ہے۔خلیل الحیہ بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ہر ممکن جدوجہد کے حامی ہیں۔ ان کے خاندان کے کئے ارکان اسرائیلی فوجی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 2007 میں غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں اسرائیلی فوج نے ان کے گھر کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
موسی ابو مرزوق
موسی ابو مرزوق حماس کے سیاسی بیورو کے سینیئر اور اہم رکن سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں اسماعیل ہنیہ کی طرح اچھے مذاکرات کار اور ایک عملیت پسند فلسطینی رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔موسی ابو مرزوق 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی سرحد پر واپس جانے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ طویل مدتی جنگ بندی پر بھی بات کر چکے ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع حماس میں زیر بحث آنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔1990 میں موسی ابو مرزوق امریکہ میں تھے۔ جہاں انہیں حماس کے عسکری ونگ کے لیے فنڈز جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ اردن ، مصر اور قطر میں جلا وطنی کاٹ چکے ہیں۔وہ اس سے پہلے بھی حماس کی قیادت کے لیے زیر غور آچکے ہیں لیکن انہیں اس منصب پر ابھی تک فائز نہیں کیا گیا۔
ظاہر جبرین
یہ حماس کے بیت المال کے امور کے طویل عرصے سے سربراہ رہے ہیں اور اسماعیل ہنیہ کے قریب تر رہے ہیں۔ انہیں بعض اوقات اسماعیل ہنیہ کا دست راز بھی کہا گیا۔ وہ اسرائیلی جیل میں کئی سال گزارنے کے بعد 2011 میں اس وقت رہا کیے گئے جب اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں فلسطینی اسیران کو رہا کرنے پر اسرائیل مجبور ہوا تھا۔جبرین کے ترکیہ کے ساتھ بھی گہرے تعلقات ہیں۔ وہ ترکیہ میں رہ بھی چکے ہیں۔ 2018 میں ان سے منسلک دو افراد کو اسرائیل نے گرفتار کیا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ حماس کے مسلح ونگ کے کئی آپریشنز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔
خالد مشعل
خالد مشعل اسماعیل ہنیہ کے پیش رو رہے ہیں۔ وہ 1967 سے جلا وطنی کی زندگی میں ہیں۔ انہوں نے اردن، قطر اور شام کے علاوہ بھی کئی ملکوں میں جلا وطنی کاٹی ہے۔وہ اس وقت حماس کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے جب حماس کے بانی احمد یاسین اور پھر ان کے جانشین عبدالعزیز رنتیسی کو قتل کیا گیا۔1997 میں خالد مشعل اس وقت زہر دیے جانے کی ایک کوشش میں سلامت رہے جب وہ عمان میں مقیم تھے۔ انہیں زہر دینے کی کوشش موساد کے ایجنٹوں نے کی تھی لیکن خوش قسمتی سے وہ اس میں بچ گئے۔شام میں رہتے ہوئے خالد مشعل نے شامی حکومت کی اپنی اپوزیشن کے ساتھ رویے پر تنقید کی۔ جس کے نتیجے میں شام اور حماس کے درمیان مسائل پیدا ہوگئے۔
یحیی السنوار
یحیی السنوار فروری 2017 میں غزہ میں حماس کے لیڈر منتخب کیے گئے۔ 61 سالہ یحیی السنوار اسرائیلی جیلوں میں 23 سال گزار چکے ہیں۔ انہیں بھی 2011 میں اس وقت رہائی ملی جب اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں بہت سے فلسطینی اسیران کو رہائی دینے پر اسرائیل مجبور ہوا تھا۔یحیی السنوار کو 7 اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ خان یونس میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس کے قیام کے سال میں اس میں شامل ہوگئے۔ یہ غزہ میں پہلے انتفاضہ کا سال تھا۔وہ القسام کے اہم کمانڈر بھی رہ چکے ہیں جو کہ حماس کا عسکری ونگ ہے۔ لیکن اب وہ حماس کے عسکری ونگ کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں موجود ہونے کے باوجود کبھی منظر عام پر نہیں آئے۔ کیونکہ اسرائیلی فوج پچھلے 10 ماہ سے ان کی تلاش میں ہے کہ انہیں نشانہ بنا سکے۔ تاہم یحیی السنوار اسرائیلی فوج کی نظر میں نہ آنے میں کامیاب رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے