कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام: نعرہ سے نظام تک:شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ

تحریر:ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل: 9960942261

آج کے اس دور میں جہاں سیاست جذبات کی لہروں پر سوار ہو کر اقتدار کی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، اسلام کا نام اکثر ایک نعرے کی طرح گونجتا ہے۔ جلسوں میں بلند ہونے والے شعار، جھنڈوں کی لہراتی ہوئیں اور جذباتی تقریریں – یہ سب کچھ دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیونکہ اسلام صرف ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے کو روشن کرتی ہے: عدل، مساوات، فلاح، تعلیم، صحت، معیشت اور اخلاق۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو غلامی سے نکال کر آزادی کی طرف لے جاتا ہے، جہاں حاکم خادم ہوتا ہے اور ریاست ماں کی طرح اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ لیکن افسوس، آج یہ نظام ایک سیاسی آلہ بن کر رہ گیا ہے، جہاں اسلام کو ووٹوں کی فصل اگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک فلاحی ریاست قائم کرنے کے لیے۔تصور کیجیے اس مدینہ کی ریاست کو، جہاں نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا تھا کہ نہ صرف مسلمان بلکہ یہودی، عیسائی، غلام اور مسافر بھی انصاف کی چھتری تلے محفوظ تھے۔ وہاں طاقت کمزوروں کے لیے تھی، سیاست عبادت کا روپ دھارتی تھی اور ریاست سوداگر نہیں بلکہ ماں کی طرح پرورش کرنے والی تھی۔ وہ مدینہ کی گلیاں جہاں کوئی بھوکا نہیں سویا، کوئی مظلوم نہیں رویا، اور ہر شخص کی عزت محفوظ تھی۔ یہ اسلام کا حقیقی چہرہ ہے – ایک زندہ، متحرک نظام جو انسانی درد کو محسوس کرتا ہے اور اسے دور کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
لیکن آج کی سیاست میں یہ مدینہ کہاں ہے؟ کیا ہمارے جلسوں میں گونجنے والے نعرے اس مدینہ کی یاد دلاتے ہیں، یا صرف جذباتی لہروں کو ابھارتے ہیں جو اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے کے کام آتی ہیں؟افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کچھ سیاسی جماعتیں، خاص طور پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM)، اسلام کو صرف ایک سیاسی شناخت بنا کر پیش کر رہی ہیں۔ وہ اسلام کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہیں، لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں – عدل، خدمت اور قربانی – سے کوسوں دور ہیں۔ تصور کیجیے ایک ایسے لیڈر کا جو مسجد میں کھڑے ہو کر اسلام کی بات کرے، لیکن جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھے تو غریبوں کی آہوں کو نظر انداز کر دے۔ یہ کیسی سیاست ہے جو اسلام کو نعرہ تو بناتی ہے، لیکن نظام نہیں؟ یہ وہی روش ہے جو محمد علی جناح نے اپنائی تھی۔ جناح نے اسلام کو ایک قومی شناخت کے طور پر استعمال کیا، پاکستان کی بنیاد رکھی، لیکن ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کا عملی نمونہ پیش نہ کر سکے۔ نتیجہ کیا ہوا؟ ایک قوم جو خواب دیکھتی رہی، لیکن حقیقت میں انتشار اور ناانصافی کا شکار ہو گئی۔ آج بھی وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ اسلام کو جلسوں میں بلند کیا جاتا ہے، لیکن جب حکمرانی کی بات آتی ہے تو یہ اصول پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ یہ فرق ہی ہے جو قوموں کو اٹھاتا بھی ہے اور گراتا بھی ہے۔ اگر اسلام صرف شناخت رہا تو مسلمان ایک ووٹر بن کر رہ جائیں گے – ایک ایسا ووٹر جو ہر الیکشن میں استعمال ہوتا رہے گا اور پھر فراموش کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر اسلام نظام یا اصول بنا تو مسلمان ایک باوقار شہری بنے گا، جو نہ صرف اپنے حقوق جانتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت بھی کرتا ہے۔دل کو چھو لینے والا یہ سوال ہے کہ اسلام کیا چاہتا ہے؟ اسلام چاہتا ہے کہ حاکم خادم ہو، جو راتوں کو جاگ کر عوام کی فلاح کے لیے سوچے۔ اسلام چاہتا ہے کہ طاقت کمزوروں کے لیے ہو، نہ کہ طاقتوروں کی لوٹ مار کا ذریعہ۔ اسلام چاہتا ہے کہ سیاست عبادت ہو، جہاں ہر فیصلہ اللہ کی رضا کے لیے ہو نہ کہ ذاتی مفادات کے لیے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ریاست ماں بنے، جو اپنے بچوں کو تعلیم دے، صحت دے، روزگار دے اور ان کی حفاظت کرے. نہ کہ ایک سوداگر جو صرف ٹیکس وصول کرے اور بدلے میں کچھ نہ دے۔ یہ وہ اسلام ہے جو مدینہ کی ریاست میں زندہ تھا، جہاں پیغمبر ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ بنایا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ وہاں غریب اور امیر میں فرق نہیں تھا، مساوات کی ہوا چلتی تھی اور ہر شخص کی آواز سنی جاتی تھی۔ لیکن آج کی سیاست ہمیں کیا دے رہی ہے؟ صرف جلسوں میں جذباتی نعرے، جو الیکشن ختم ہوتے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسی قیادت ہے جو اسلام کا نام لے کر اقتدار تو حاصل کر لیتی ہے، لیکن اسلام کے اصولوں کو نافذ کرنے سے گریزاں رہتی ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی قیادت سے سوال کریں۔ پوچھیں کہ کیا آپ اسلام کو صرف ووٹوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یا واقعی ایک عدل و فلاح کے نظام کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ پوچھیں کہ کیا آپ مدینہ کی ریاست کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے تیار ہیں، یا صرف جھنڈے لہرا کر مطمئن ہو جائیں گے؟ یہ سوال نہ صرف قیادت سے ہیں بلکہ ہم سب سے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو اسلام ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا، اور ہماری نسلیں اس کی برکتوں سے محروم رہیں گی۔ یہ وقت جذبات سے نکل کر شعور کی سیاست کرنے کا ہے۔ یہ وقت چہروں سے نہیں، نظام سے وفاداری کا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسلام کو نعرہ نہیں، نظام بنائیں۔ اسلام کو شناخت نہیں، خدمت بنائیں۔ اسلام کو سیاست نہیں، ریاست بنائیں۔ کیونکہ اسلام صرف دین نہیں، بلکہ الدین ہے – ایک مکمل نظامِ حیات جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔آئیے، اس جذبے کو جگائیں۔
آئیے، ایک ایسی قوم بنیں جو اسلام کو زندہ کرے، نہ کہ صرف اس کا نام لے کر استعمال کرے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہماری کامیابی کا راز ہے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا تو کل کی تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
سرفراز بزمی نے بہت خوب فرمایا۔۔۔
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا، نعرہ تکبیر بھی فتنہ

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے