कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام میں آزادی کا تصور اور ہماری آزادی

تحریر:سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹرا
848588417

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات میں رکھا ہے ، اور آزاد دائرہ میں تنفس کے لئے انتظام کیا ہے ،
، آزاد دائرۃ خیال کیا ہوتا ہے ، ؟ آزادی کسے کہتے ہیں؟اور اسے ہم کس طرح سے گذاریں ، ؟ زندگی کو صحیح جینا سب سے اہم مقصد ہے ، پابندی اور بندش انسان سہہ نہیں سکتا ، دوسرے کی زبردستی لادی ہوئی مرضی برداشت نہیں کر سکتا ،
سوال یہ ہے کہ آزادی اور غلامی کا مفہوم کیا ہے ، ؟ ۔۔۔۔ غلامی وہ ہے جو طاقتور ، کمزور پر جبر و ظلم کرکے اپنی راحت و آسائش کے لئے دوسرے کو استعمال کرتا ہے ، کمزور کے حقوق کی پامالی کرتا ہے ، اس کے آواز اٹھانے پر اس کی آواز کو سلب کرتا ہے ، اسے کھانے ، پینے ، پہنے ، اوڑھنے ، چلنے پھرنے پر پابندی عائد کرتا ہے ، اسے تعلیم کے حق سے محروم کر دیتا ہے ، مکمل غلام بنا کر زیادتی کی جاتی ہے ، پورے کمزور طبقات کو اپنے زیر اثر رکھ کر خود عیش و عشرت کرتا ہے ، سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس چیز کا خاتمہ کیسے کریں ، انھیں اس چنگل سے باہر کس طرح نکالیں ، ان کے حقوق کیسے دلائیں ، دیکھا جاتا ہے کہ یہ آزادیاں سلب کون کرتا ہے ، اصل مسئلہ آزادی چھیننے پر قابو پانے کا ہے ، آزادی تو پیدائش سے ملی ہوتی ہے جو کسی کے ہاتھوں سلب ہوجاتی ہے ، کسی بھی بیماری کا صرف علاج نہیں ڈھونڈا جاتا بلکہ اس کے بننے کے اسباب دیکھے جاتے ہیں ، اس پر قابو پانے کے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں ، ہر دور میں انسانوں کو اس بات سے گذرنا پڑا ہے اور ہر دور میں مالک حقیقی نے رہبری بھی کی ہے ، وہ مسبب الاسباب ہے ، اللّٰہ کے احکام کو ماننا بے حد ضروری ہے ، جدو جہد اور کوشش انسان کا کام ہے ، اللّٰہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بندوں کے لئے ایک رسول بھیجا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رہبری کے لئے ہدایات پیش کی ہے ، جو زمانہ رہا تب رہبری بھی اسی انداز میں پیش کی گئی ہے ، اور وقت کے حساب سے ایک ایک کر کے وقت واحد میں ایک ہی ہدایات نامہ پیش کیا ہے ، ہمارے آخری نبی ، رسول اکرم ، پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنا محبوب بنا کر دنیا کو زندگی کی صحیح اہمیت واضح کروائی ، اور وقفے وقفے سے ہدایات پہنچائی ، ان ہدایات کوایک مکمل شکل میں ضابطہ اخلاق کی صورت میں ہم تک پہنچایا گیا ، قرآن ایک مکمل دستور حیات ہے ، قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، جس میں ہمارے لئے دنیا کے طور طریقوں کو واضح طور پر پیش کیا گیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ خدا نے اس کے حفاظت کی ذمہ داری بھی فرمائی ہے ، ۔۔۔۔۔ سورہ بقرہ : 257 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ,, دین میں کوئی جبر نہیں ،، ۔۔۔۔۔۔ سیرت کی کتب پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقصد میں یہ خاص ہے کہ مذہبی آزادی کی حفاظت کی جائے ، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لئے ، ہجرت کے بعد ، مدینہ کی یہودی آبادی کے ساتھ جو سب سے پہلے معاہدہ ہوا جو میثاقِ مدینہ کے نام سے مشہور ہے اس میں مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کے اصول پر ہی قائم کیا گیا تھا ، ( سیرت ابنِ ہشام ) ۔۔۔۔۔۔ ان باتوں سے ہی ہمیں اسلام میں آزادی کے تصور کو سمجھنے میں رہنمائی ملتی ہے ، حقیقت میں جب انسان اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو وہ آزاد ہوتا ہے ، جب وہ آزاد ہے تو دوسرے انسان کو بنیادی طور پر حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی آزادی سلب کرے ، انسان ماں کے پیٹ سے تو آزاد پیدا ہوتا ہے ، لیکن انسان ہی انسان کا دشمن ہوتا ہے ، کسی کی جسمانی طاقت کو اپنے لئے استعمال کرنے کا نام ہی غلامی ہے ، اسلام سے پہلے غلامی کا رواج عام تھا ، جس کا سکہ چلتا ، جس کا دبدبہ ہوتا وہ کمزور کو غلام بنا لیتا ، بے دردی اور بے راہ روی کے سلوک کو اپنا شعار سمجھتا تھا ، جذبات و احساسات سے عاری ، خود کو زمین کا آقا سمجھنے والا ( توبہ) اس سے اتنی غلامی کرواتا کہ بندہ کی عاجزی و انکساری کے معنی ہی باقی نہ رہتے ، غلاموں کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی تھی ، اس کے لئے مشکل ترین قانون ہوتے ، ان سے نفرت کی جاتی ، چھوٹی سی غلطی پر سخت سزا دی جاتی ، وہ تمام سہولیات سے محروم ہوتے تھے ، ساری دنیا میں اسی طرح کا رواج عام تھا ، ظالم فاتح اور غالب قوم کی سرکشی کو ختم کرانے کے لئے اللّہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے ایک راہنماء بھیجا ، جن کا پیغام امن اور سلامتی سے شروع تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد باعثِ سعادت قرار پائی ، دین اسلام کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت بن کر آئے ، اسلام نے کبھی کسی مذہب کو برا کہنے کی اِجازت نہیں دی ہے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مدینہ ریاست ترتیب دینے کے بعد ایمان والوں کے ساتھ ساتھ ، مشرکین کو بھی سہولیات مہیا کی گئی تھی ، اسی سے اسلام کی خوبی ظاہر ہوتی ہے، اسلام کی ترغیب میں یہ بات تھی کہ غلاموں کو آزاد کرنے پر اجر و ثواب رکھا گیا ، ان سے صلہ رحمی کا سلوک بتایا گیا ، جنگ کے علاوہ کسی کو زبردستی غلام بنانے کے رواج کو اسلام نے اجازت نہیں دی تھی ، جنگ میں بھی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا تو فدیہ لے کر رہا کردیا جاتا ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ہمیشہ غلاموں کی فکر لگی رہتی تھی کہ کوئی انھیں نہ اذیت پہنچائے نہ حق تلفی کرے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت میں فرد کی آزادی ، بولنے اور لکھنے کی آزادی کے بنیادی اصول ملتے ہیں ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عملی زندگی سے ایسے نمونے ملتے ہیں کہ بلا وجہ کسی بھی آزادی کو سلب نہ کیا جائے ، دیکھا گیا ہے کہ ہمیشہ طاقتور ہی کمزور کی آزادی سلب کرتا ہے ، ۔۔۔۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک اچھی ریاست ، اچھے معاشرے کی بنیادی خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں کوئی کمزور اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھے اور کوئی طاقتور کمزور کو اپنا غلام نہ سمجھے ،
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ ہر وقت حسن سلوک کرنے کی تاکید فرماتے ، یہاں تک کہ مرض الموت کے وقت بھی صحابہ کرام کو نصیحت کی کہ نماز کو لازم پکڑو اور جو غلام یا باندی تمھارے قبضے میں ہے ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں اللّہ سے ڈرتے رہو ، ۔۔۔۔۔۔ اسلام اپنے خادموں کو بھی گھر کا ایک فرد شمار کراتا ہے ، غلاموں کی غلطی کو معاف کرانے کا حکم دیتا ہے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رض کی شادی اپنی پھوپی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش رض سے کروائی تاکہ ان کی معاونت سے کتاب وسنت کی تعلیمات عام ہو سکے ، ( تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ، ان کے نکاح کردو اگر وہ غریب ہوں تو اللّہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ۔۔۔۔ النور : 32 ) ، ۔۔۔۔۔۔ قرآن وحدیث سے ہمیں غلامی اور آزادی کی اہمیت اور سلوک بتایا گیا ہے ، آج کے دور میں جدید سے جدید ٹیکنالوجی آچکی ہے ، قرآن کو ہر زبان میں تفصیل سے پہنچایا گیا ہے ، جس نے سمجھ کر عمل کرلیا وہ دونوں جہانوں کو پالیا ہے ، غلامی کا فرق واضح کیا گیا ہے ، غلامی کس قدر بد ترین چیز ہے ، دنیا کے کئی ممالک میں غلامی کا رواج تھا ، کئی ممالک کو آزادی بھی ملی ہے ، مگر ان آزادیوں کی تاریخ ہی کچھ اور ہے ، ہم جس ملک میں رہتے ہیں ، اس پر قبضہ کرنے والوں نے بہت ہی دھیرے دھیرے منصوبے بنا کر اپنا قبضہ جماتے چلے گئے ، اور سب ہی ذات پات ، سب ہی مذہب کے لوگ اس چکی میں پستے چلے گئے ، جس غفلت میں ملک غلام بن چکا تھا ، اسی غفلت سے بیدار ہو کر ہر مذہب کے لوگوں نے اپنا اپنا فرض نبھایا ، جس میں ہر وہ نام شامل ہے ، جو کسی مذہب کا نہیں تھا بلکہ ہر نام صرف ہندوستانی کا تھا ، ان ہی ہندوستانیوں نے کیا کیا قربانیاں نہیں دی ، ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے ، اللّہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں آزادی کی نعمت سے نوازا ہے ، اللّہ تعالیٰ کی کوئی نعمت اگر چھن جاتی ہے تو وہ گناہوں کی وجہہ سے ۔۔۔۔۔ اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سر کشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا ، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی ، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی ، ( الطلاق : آیت نمبر 8 ) ۔۔۔۔ امن و سکون اور ہدایات خالص ایمان ہی سے حاصل ہوتے ہیں جس میں توحید کے ساتھ کسی قسم کے شرک کی آمیزش نہ ہو ، جو قوم خالص ایمان اور خالص توحید سے محروم اور کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو اسے کسی صورت امن و چین و ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی ، اپنے آپ کو ہر زاویہ سے کھرا ثابت کرنا ضروری ہے ، ہر میدان میں انصاف قائم رہے ، عدل و انصاف کے پیمانے اتنے کڑے اور مضبوط ہوں کہ کسی عزت والے کی عزت یا کسی کمتر کی کمی انھیں متزلزل نہ کرسکے ،
آزاد ہونے کے بعد من حیث القوم اپنے آپ کو تہذیب اغیار سے بھی محفوظ رکھا جائے ، جہالت کے اندھیروں سے نکل کر شعور کی روشنی کو اپنانا چاہیے ، مغرب کے جال میں الجھ کر دجالی فتنوں سے محفوظ رہنا بھی ضروری ہے ، ہماری ایمان کی کمزوری ، ہماری بے راہ روی ، ہمارے اوپر ظالم حکومت کو مسلط کر رہی ہے ، ہمارے اپنے اندرونی معاملات کی توڑ پھوڑ کا اثر آزادی پر ہورہا ہے ، بھائی بھائی کی دشمنی کا اثر ، خاندانی اختلافات کا اثر ، گھریلو مسائل ، طلاق کے مسائل ، جائداد کے مسائل ، مقابلہ جاتی دوڑ ، صنف نازک کی نمائش ، حقوق کی پامالیاں ، حقوق العباد میں کمی ، حقوق اللّٰہ سے دوری ، اس کے علاوہ صرف اور صرف آپسی اختلافات اور فرقوں نے آزادی کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ، ان تمام باتوں کا ریموٹ کنٹرول جس میں صرف کھلا چھوڑنے کے بٹن ہیں ، نئی ٹیکنالوجی میں ملوث قوم انجانے میں دجال کی پیروی کر رہی ہے ، جس کے مضر اثرات نے ہر میدان میں تباہی مچا رکھی ہے ، نفس پر کنٹرول ہی ان باتوں سے دور رکھ سکتا ہے ، اب بھی وقت ہے ، سنبھل جاؤ ، سدھر جاؤ ، صفیں درست کرلیں اور آزادی کے پرچم کو بلند رکھیں ، جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لہراتا رہے ، آمین
اللہ ہمارے نیتوں کو اور فیصلوں کو قبول فرمائے اللہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، آمین
مت کر خاک کے پتلے پہ غرور و بے نیازی اتنی
خود کو خودی میں جھانک کر دیکھ تجھ میں رکھا کیا ہے

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے