कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام ایک فطری اور آفاقی مذہب ہے

تحریر : مولانا سید میر ذاکر علی پربھنی محمدی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

کسی دین یا مذہب میں ایسی بات نہیں ملتی کہ کسی مذہب کو مکمل اور بدرجہ اتم پیش کیا گیا ہو۔ لیکن مذہب اسلام جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج تھا۔ فرمایا میں نے تہمارے دین کو مکمل طور پر مکمل کیا ہوں اور اس سے راضی ہوا ہوں ۔ اس دین اور مذہب اسلام میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے ۔ اور یہ پوری انسانیت کے لیے دستور حیات ہے۔ اور اللہ کا ارشاد ہے۔ ہم نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے۔ اور ہم ہی اس کا تحفظ کریں گے۔ قرآن کریم کو نازل ہوکر تقریبا ١٤ سوسال سے زاید ہوچکے ہیں ہیں محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہیگا۔ اور اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کو وحی کے ذریعہ وقتا فوقتا نازل کیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں میری خواہش یا از خود کچھ نہیں کہتا ہوں ۔ بلکہ جو اللہ مجھ پر حضرت جبرائیل کے ذریعہ اتارا جاتا وہی کہتا ہوں۔ بسا اوقات تو ایسا ہوتا کہ آپ اس کا تحمل نہیں کرتے اور پریشان ہوجاتے۔ چونکہ اس آفاقی مذہب کے لیے اللہ نے آپ کا انتخاب کیا تھا۔ کائنات کی کوئ شئ اد کا تحمل نہ کرسکی۔ اسی لیے اللہ نے پورا قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٢٣ سالوں میں بقدر ضرورت نازل کیا۔ اور اللہ نے اس سے قبل بھی بہت سارے نبی مبعوث کیے۔ توریت زبور انجیل پیغمبروں پر نازل کی توریت میں بنی اسرائیل نے بہت ساری تحریفیں کی ہیں۔ جو ایک ظالم قوم تھی۔ موسی علیہ السلام پر اللہ نے توریت بیک وقت نازل کی ۔ جبکہ قرآن کریم بتدریج وقتا فوقتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائ۔ چونکہ حجت پوری کرنے کے لیے موسی علیہ السلام پڑھے لکھے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان پر بیک وقت توریت نازل کی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے ۔ اسلیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بتدریج نازل کی۔ خدا کے کلام کی یہ خاصیت ہے کہ فرمایا گیا۔ اس میں کوئ شک اور شبہ نہیں۔ اور یہ کہ علم خدا ہے۔ اور اس نے اپنے بندوں کے کامیابی اور کامرانی کے لیے سب سے پہلے علم سیکھنے کو کہا ہے۔ اسی لیے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کی معرفت علم سے ہی ہوتی ہے۔ عرفان محبت عرفان الاہی کے لیے علم درکار ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے۔ پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ اسلام دین حق ہونے کے ساتھ پوری انسانیت کے لیے کامیابی کا ضامن ہے۔ کیونکہ دنیا میں جو باطل ہے وہ چلا جائیگا۔ اور حق کو پوری دنیا پر ظاہر ہونا ہے۔ اسلام ایک فطری اور ( Sky religion) آفاقی مذہب ہے۔ جس کو جتنا دبایا جائیگا ۔ اتنا ہی ابھریگا۔ پوری انسانیت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اور آدم ایک یغمبر تھے۔ اسی نسبت سے حدیث کا مفہوم ہے کہ دنیا میں ہر پیدا ہونے والا بچہ عین ( Islamic nature) فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے والدین اسکو یہودی نصرانی یا مجسوسی بناتے ہیں۔ لیکن دین ایک ہی ہے ۔ اور وہ دین اسلام ہے۔ جس کوآپ صلی اللہ وسلم نے اللہ کی جانب سے ہم پر مکمل کیا اور محبوب ترین بنایا۔ ان الدین عند اللہ الاسلام۔ لیکن آج مسلمان اور دین اسلام کو ساری دنیا کے کی اور سے نت نیے چیلینجیس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور دنیا کی چارو سمت سے مسلمانوں اور اسلام کو ہزیمت اور پسپا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ اسلام اپنی جگہ ایک مسلم ( reality ) حقیقت اور دین حق ہے۔ اور پوری دنیا پر غالب ہے۔ لیکن ہماری طرف سے اور مسلمانان عالم کی طرف سے جو نادانیاں بلکہ کفر کو تقویت پہونچانے کا جو عمل سرزد اور اس کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یقینا یہ اللہ کے عذاب اور اسکے قہر کو دعوت دے رہے ہیں۔ ہم نے اپنی تہذیب و ثقافت اور ملی تشخص کو پامال کیا ہے۔ ہم نے ( moral values) اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائ ہیں۔ ہم نے مساجد کی تعمیر کروائ ہیں۔ لیکن آباد کرنے سے قاصر رہے۔ بقول علامہ اقبال۔ مسجد تو بناڈالی پل بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے۔ من اپنا پرانہ پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے چہ جاے کہ ہم کسی حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے ۔اللہ جو خود اپنی قوم و ملت کو نہیں بدلتا۔ یہاں تک خود کو اور اپنے ملی تشخص کو بدلنے کا اہل نہ ہو۔ اللہ بھی حالات نہیں بدلتا ۔ اگر ہم اپنے حالات کو نہ بدلیں تو صدیوں تک سزا ملتے رہیگی۔ اسلام نے مسلمانوں کے کامیابی اورکامرانی کے سارے راستہ آپ کے سامنے واضح طوررکھ دیے۔ یہ ہمارا فرض منصبی ہے کہ ہم اس کو ( follow) فالو کرکے قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کی راہیں ہموار کر یں ۔ لیکن آج ہماری آبادی کے تناسب سے ہمیں کسی حد تک ترقی کے میدان میں پیش رفت ہونا تھا۔ لیکن ایسا مشاہدہ میں نہیں آتا۔ اس تنزلی اور ترقی کی راہ میں سب سے پیچھے ہونےکا سبب کوئ اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔اور اور ہم میں سب سے بڑی ( weakness) کمزوری یہ کہ ہم دوسروں کو مورد الزام ٹھراتے ہیں۔ مانا کہ یہودی اسلام اور مسلمان کی دشمن ہے۔ اور دنیا میں انگلیوں پر شمار کیے جانے واالی قوم آج ترقی کی طرف گامزن ہے۔ وہ اپنے مذہب اور قوم کے تئیں اصولوں اور اپنی قوم کے لیے ہمدردی اور دست تعاون کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارا دین اسلام ہی سچ اور حق ہے۔ قرآن کریم (Huminity ) انسانیت اور اخوت کی دعوت سخن دیتا ہے۔ اجتماعیت اختیار کرو۔ اور متحد ہوجاو۔ ہمارا قرآن ایک ہے۔ اللہ اور پیغبر ایک ہے۔ لیکن ہم فرقوں اور نظریات میں بٹ چکے ہیں۔ ہم ایک اللہ کو مانتے ہیں۔ اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ۔اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق لائق نہیں ۔ پھر ہم ایک اللہ کے لیے متحد نہیں ہوتے۔ جبکہ دیگر قوم کئ دیوی دیوتاوں کو پوجتی ہے۔ لیکن وہ قوم وملت کے تئیں فوری متحد ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہم آج تک متحد نہیں ہوے۔ ہم نظریات میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ نظر کا ( opretion ) آپریشن کیا جاسکتا ہے۔ لیکن نظریہ کا نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایکدوسرے کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ہم نا اتفاقیوں کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے سےبغض کینہ اور حسدجلن کے شکار ہیں۔ دنیا کی محبت عہدہ شہرت خود نمائ عام ہوگئ ہے۔ یہاں تک کہ اہل علم میں بھی جھوٹی شان و شوکت کا غلبہ سر چڑ ھکر بول رہا ہے۔ آج کل تو کچھ علماء نے جلسے جلوس میں پھولوں کے پتیوں کی برسات کو خوشی اور باعث ( Proudness ) افتخار سمجھتے ہیں۔ اوراس عمل کو ایک مستقل تہذیب Cultural بنادیے ہیں۔ لیکن انہیں پتہ ہو نا چاہیے کہ وہ ایک نئ بدعت کو جنم دے رہے ہیں۔ ایسے اہل علم کی پند و نصائح کا عوام پر مثبت (possetive ) اثر قطعی نہیں ہوسکتا۔الذین یراوون و یمنع الماعون۔ ریاء کاری ایک شرک خفی ہے۔ لیکن اس دنیا میں بہت سارے خدا ترس اور قوم و ملت کا واقعی درد رکھنے والے موجود ہیں۔ جو دنیا کے عہدہ منصب شہرت سے الگ تھلک رہے کر قوم و ملت کے لیے مصروف عمل ہیں۔ ورنہ آج مسلم امت کی بے حسی اور اس کے سبب ہزیمت تمام پر آشکارہ ہے۔ بقول علامہ اقبال ۔ واے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔ اس شعر سے مراد ذمردہ ضمیر کو بیدار اور مفقود احساس کو جگانے کی کوشش کی گئ ہے۔جسکا ہم میں فقدان ہے ۔ ہمیں ہماری قوم و ملت کی بقاء اور اس کے تشخص تہذیب (Civilization ) و تمدن کی بقاء کے لیے فرض منصبی سمجھ کر سعی کرنا چاہیے۔ لیکن آج ہم ممبر پر اپنے آپ کو سچا پکا مسلمان سمجھتے ہیں۔ اور دوسروں کو کم درجہ کا۔ آفات سماوی اور دیگر قدرتی آفات پر یا یہودیوں کے بربادی کی دعا کرتے ہیں ۔ اور اپنے ہی مومن بھائیوں سے بیر اور بغض کینہ رکھتے ہیں ۔اور دعا کے شرف قبولیت کی امید رکھتے ہیں۔ علماء کا ایک دوسرے سے حسد دنیا کے حصول کی لالچ ۔ دنیا سے محبت کا سبب ہے۔ ورنہ علماء جو آخرت کی تعمیر میں ) Busy) مصروف ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، حسد نہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔ اور امن امان کی آرزو رکھتے ہیں۔ ہمارے علماء دین اقدار کے ساتھ کبھی ممبر پر(New technology ) جدید ٹیکنالوجی اور جدید سائینسی علوم کے حصول پر ) Focus ) فوکس نہیں کیا۔ اس کی ( convince) ترغیب نہیں دی ۔ جبکہ یہ بھی زندگی کا لازمی ( part) حصہ ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد سابقہ وزیر تعلیم و آزادی ہند کے مرد مجاہد اپنی کتاب غبار خاطر میں سیاسی موضوع سے الگ تھلگ رہکر رقم طراز ہیں ۔ لکھتے ہیں جب 1798 میں جب نیپولین مصر پر ( Attack) حملہ کیا تو مصر کے ) Ruler ) حکمران نے علماء کو جمع کرکے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ تب علماء نے جامع ازہر میں ختم بخاری کا ورد کرنے کا مشورہ دیا۔ اور کہا یہ تمام مشکلوں کا حل ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ ابھی دعا ختم بھی نہیں ہوئ کہ اہرام کی لڑائ نے مصری حکومت کا خاتمہ کردیا۔ جو کہ بڑا عبرت انگیز واقعہ ہے۔ اسوقت مصری حکومت اور علماء کے سروں پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ انہیں اسوقت ختم بخاری کے ورد کے بجاے میدان کارزار کو صاف کرنے اور (Defence) دفاع کی ضرورت تھی۔ اسی طرح ہلاکو خان جب منگولوں کی فوج لیکر بغداد کی طرف کوچ کررہا تھا، تب بھی یہی غلطی تب بھی یہ عالم تھا، تھا کہ حلقہ بناکر بخاری سنی جارہی تھی۔ خانخاہوں میں فتح مندی کی دعا کی جارہی تھی، بشمول افسران بھی دعا میں مصروف تھے ۔ جبکہ ان نہیں میدان جنگ کی تیاری کرنا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہلاکو خان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی بلا شبہ دعا کار ساز ہوتی ہے۔ لیکن موقع کی مناسبت سے۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق کے فتح اور جیت کے لیے خندق کھدوانے کے بجاے فتح کی دعا کرتے۔ بلکہ پہلے آپ نے خندق کھدوانے کاحکم دیا۔اور (Victory ) فتح نصیب ہوئ۔ انیسوی صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا مکمل محاصرہ کیا تھا۔ تب بھی یہی غلطی کو دہرایا گیا ۔ امیر بخارا نے تمام مدارس اور مکاتب میں ختم خواجگان پڑھایا جانے کا حکم صادر کیا ۔ ایک طرف روسیوں کی توپیں قلع قمع کررہی تھی ۔ تو دوسرے طرف خواجگاں کا ورد ہورہاتھا۔ نتیجہ Open defeat ) شکست فاش۔ یقینا دعائیں بھی کار گر ان ہی کی ہوتی ہیں۔ جو عزم و ہمت کو پست نہیں کرتے۔ اور Defence) دفاع کی بھی قوت اور طاقت رکھتے۔ یہ بتانا اس لیے مقصود ہے کہ ہمارے علماء شہرت عہدہ اور منصب کے پیچھے جانے کے بجاے ۔ قوم ملت کے تعمیری کام کو فوقیت دیں۔ اوردین کے ساتھ ساتھ جدید علوم و فنون اور علوم Modren education سائنس کے حصول کی اہمیت و افادیت کو ممبروں اور مساجد میں اس کے تئیں بیدار کرے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے