कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ میں ’’مسدس حالیؔ‘‘ کا حصہ

تحریر: عارف عزیز(بھوپال)

مولانا الطاف حسین حالیؔ ایک ہمہ رنگ اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ صاحبِ طرز ادیب، صاحبِ نظر ناقد اور مصلحِ قوم کی حیثیت سے جہاں اُن کا بڑا مقام ہے، وہیں اُن کی شاعری ، خاص طور پر طویل نظم ’’مدوجزرِ اسلام‘‘ المعروف ’مسدسِ حالی‘ اُن کی شاعرانہ عظمت کا ثبوت ہے، میری دادی صاحبہ ’’مسدس حالی‘‘ کو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتی تھیں ، بچپن کے زمانہ میں اِس کے اشعار کو میں نے سنا تو یہ میرے ذہن پر نقش ہوگئے، والد صاحب نے مسدس کے بارے میں ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا‘‘ جیسی والہانہ جذبہ سے سرشار نعت اردو میں دوبارہ نہ لکھی گئی، نہ لکھی جائے گی۔ کیونکہ یہ قرآنِ کریم کی آیت ’وما ارسلناک اِلّارحمۃ اللعالمین‘ کی تفسیر ہے۔۱۸۵۷؁ء کے بعد کے ہندوستان میں رونما ہونے والے جاں کُسل حالات سے متاثر ہوکر اور سرسید کی فرمائش پر حالیؔ نے اِس مسدس کو لکھا تھا، اُس وقت مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوگیا تھا، جو مسلمانوں کی زندگی کا مرکز و محور رہی تھی، قوم میں اتحاد و اتفاق کا فقدان تھا، نفسانفسی کا عالم طاری تھا جس سے متاثر ہوکر حالیؔ نے اِسے قلم بند کیا اور اِس کے ذریعہ مسلم قوم کی گزشتہ اور موجودہ حالت کا نقشہ بڑی خوبی سے کھینچا ہے، خود روئے ہیں اور دوسروں کو رُلایا ہے، زمانہ جاہلیت کی اصنام پرستی، ظلم و بربریت، جنگ و جدال، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کی رسم کا نہایت دردناک انداز میں بیان کیا ہے ؎
جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر
تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر
پھرے دیکھتی، جب تھے شوہر کے تیور
کہیں زندہ گاڑ آتی تھی، اُس کو جاکر
وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی
جنے سانپ، جیسے کوئی جننے والی
حالیؔ زمانہ جاہلیت میں آپسی دشمنی، قتل و غارتگری اور بے رحمی کے مظاہروں کو اِس طرح بیان کرتے ہیں ؎
چلن اُن کے جتنے تھے، سب وحشیانہ
ہر اک لوٹ مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کتنا تھا، اُن کا زمانہ
نہ تھا کوئی، قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں، جنگل میں بے باک جیسے
ظلم و جہالت کے اِس ظلمت کدہ کو مٹانے کے لئے ماہتابِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اس کا نقشہ حالیؔ کے الفاظ میں ؎
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولا
خطا کار سے درگزر کرنے والا
بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کو زیر و زبر کرنے والا
قبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اُتر کر حِرا سے سوئے قوم آیا
وہ اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
آمد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ظہور اسلام کے ساتھ دنیا کی ساری تاریکی چھٹ گئی، حق باطل پر غالب آگیا اور باطل کا رُخ حق کی طرف موڑ دیا اِس کی تصویر کشی حالیؔ کی زبانی ملاحظہ ہو ؎
مسِ خام کو جس نے کندن بنایا
کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں کایا
نہ رہا ڈر، نہ بیڑے کو موجِ بلا کا
اِدھر سے اُدھر پھر گیا رُخ ہوا کا
مسدس حالیؔ کا کمال یہ ہے کہ اِس طویل نظم میں دریا جیسا بہاؤ ہے، شروع سے آخر تک ایسا تسلسل ہے کہ جیسے آبشار سے پانی رواں دواں ہو، زبان کی سادگی اور الفاظ کی سلاست نے ایک زمانہ میں اِسے ہر خاص و عوام کا پسندیدہ بنا دیا تھا۔ اِسے بچوں کو یاد کرایا جاتا اور عوامی تقریبات کے موقع پر لوگ مسحور ہوکر اِسے سنتے اور سر دُھنتے تھے، خاص طور پر مسلم قوم کے عروج و زوال کا مرثیہ اور اندلس کا نوحہ سن کر آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے تھے۔
حالیؔ نے مسدس میں ملت کے زوال پر ماتم ہی نہیں کیا، قوم کو غیرت و بہادری کا سبق بھی پڑھایا ہے ؎
بہت ہیں ابھی جن میں غیرت ہے باقی
دلیری نہیں پر حمیّت ہے باقی
فقیری میں بھی بوئے ثروت ہے باقی
تہی دست ہیں پر مروّت ہے باقی
مِٹے پر بھی پندار ہستی وہی ہے
مکاں گرم ہے، آگ بجھ گئی ہے
انہوں نے قوم میں اپنی مدد آپ کرنے کے جذبہ کو بھی بیدار کیا ہے ؎
بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے
جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے
خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے
کہ ہیں عارضی زور کم، زور سارے
اڑے وقت تم دائیں بائیں نہ جھانکو
سدا اپنی گاڑی کو تم آپ ہانکو
اِس درس و ہدایت کے بعد حالیؔ اپنی مسدس کا اختتام ذیل کے دعائیہ اشعار پر کرتے ہیں ؎
اُنہیں کل کی فکر آج کرنی سکھادے
ذرا اُن کی آنکھوں سے پردہ ہٹادے
مکیں گاہِ بازیٔ دوراں دکھادے
جو ہونا ہے کل، آج اُن کو سُجھادے
چھتیں پاٹ لیں تاکہ باراں سے پہلے
سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے
مسدس حالیؔ کے بارے میں ’’مخزن‘‘ کے ایڈیٹر سرعبدالقادر نے صحیح کہا ہے کہ:
’’ اسلامی تہذیب کی حفاظت و فروغ میں اِس مسدس کا بڑا حصہ ہے، حالیؔ نے اس مسدس کو لکھ کر ملت میں ایک ایسا جوش و جذبہ پیدا کردیا جس کے اثرات زمانہ طالب علمی سے لیکر بڑے ہونے تک کروڑوں انسانوں نے اپنے دل میں محسوس کئے ، میں نے بذاتِ خود دیکھا ہے کہ قوم و ملت کے درد سے بیگانہ ایسے لوگ جن کا کوئی اصول ہے، نہ مذہب اور نہ ملت کا احساس، جب کسی مجلس میں ’مسدس حالیؔ‘ کو سنتے ہیں تو اُن کی آنکھوں سے قوم کی سوگواری میں اشکوں کا سیلاب جاری ہوجاتا ہے اور ہمارے ملک کے غیر مسلم بھائی بھی اِس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے‘‘۔
ممتاز ادیب و شاعر رفعت سروشؔ کے خیال میں ’’مسدس حالی‘‘ کا موضوع اگرچہ اسلام کا عروج و زوال ہے، مگر اِس کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ یہ نظم محض ملتِ اسلامیہ کے لئے نہیں بلکہ پوری عالمِ انسانیت کے لئے ہے، حالیؔ نے اپنے اشعار کے ذریعہ بنی نوع انسان کو اپنی حالت کا جائزہ لے کر اصلاحِ حال کا درس دیا ہے‘‘۔
یوں تو مولانا حالیؔ کی پوری شاعری اصلاحی و مقصدی شاعری ہے، اُنہوں نے اپنی نگارشات کے ذریعہ قوم و ملت کی اصلاح کا اہم کام انجام دیا ہے لیکن ’’مسدس حالی‘‘ اِس میں ایک اہم مقام کی حامل ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے