कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی اجتماعیت فرد کا ارتقاء معاشرے کی تعمیر

تحریر:ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل: 9960942261

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی پوری زندگی کو اپنے دائرے میں لیتا ہے۔ اس میں نہ صرف فرد کی اصلاح مقصد ہے، بلکہ ایک پاکیزہ، مربوط اور مضبوط اجتماعی نظام کی تشکیل بھی بنیادی ہدف ہے۔ شریعتِ اسلامی کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ انسان کی ذات، اس کے اخلاق، اس کے رویّوں اور اس کے معاشرتی کردار، سب کو ایک جامع نظام کے تحت نمٹاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت کو سمجھنے والا ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اسلام کی نگاہ صرف فرد پر نہیں بلکہ پوری امت پر ہے؛ صرف تنہائی میں بیٹھا ہوا انسان نہیں بلکہ وہ معاشرہ بھی اسلام کی توجہ کا مرکز ہے جس میں وہ انسان زندگی گزارتا ہے۔
اسلام کی نظر میں انسان، فرد بھی، جماعت بھی:
شریعتِ اسلامی کے احکام پر تدبّر کیا جائے تو صاف ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد صرف ایک *’’نیک فرد‘‘* تیار کرنا نہیں ہے بلکہ ایک *’’نیک معاشرہ‘‘* قائم کرنا بھی ہے۔ فرد کی اصلاح اسلام کے نزدیک پہلا مرحلہ ہے آخری نہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ *پاکیزہ اخلاق اور صاف دل رکھنے والے لوگ* ایک دوسرے سے جڑیں، مل کر ایک ایسی صالح جماعت بنائیں جو زمین میں *اللہ کی نائب* بن کر اس کی ہدایت اور *عدل کا نظام* قائم کرے۔
اسلام کے نزدیک انسان ایک *’’اجتماعی وجود‘‘* ہے۔ وہ اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اس کی زندگی کے احکام، عبادات، معاملات، اخلاقیات، سب اس حقیقت کے ایک پہلو کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مسلمان اپنی *انفرادی پاکیزگی کو اجتماعی تعمیر* کے لیے استعمال کرے۔
اجتماعی نظام*: شریعت کے مقاصد میں شامل:
اسلام میں نمازعلیحدہ پڑھنے کے بجائے جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی تاکید کیوں؟
زکوٰۃ انفرادی خیرات نہیں بلکہ اجتماعی معاشی توازن کا ذریعہ کیوں؟
حج ایک عالمی سطح کی روحانی کانفرنس کیوں؟
جمعہ کی نماز میں ’’ہفتہ وار اجتماع‘‘ کی حکمت کیا ہے؟
اسلام میں ’’امت‘‘ کا تصور کیوں ہر جگہ موجود ہے؟
یہ سب اس لیے کہ شریعت کا ہدف صرف تنہا نیکی نہیں بلکہ اجتماعی نیکی ہے۔ وہ ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتی ہے جس میں: *بھلائی* پیدا بھی ہو، پھیلے بھی، اور دوسروں تک منتقل بھی ہو۔
اسلام اجتماعیت پر اس لیے زور دیتا ہے کہ کسی قوم کی اخلاقی و سماجی طاقت اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب اس کے نیک اور صالح لوگ منتشر ہونے کے بجائے متحد ہوں۔
فرد کی تربیت، جماعت کے لیےـ:
اسلام فرد کی تربیت ضرور کرتا ہے، مگر اس مقصد کے ساتھ کہ وہ ایک بہتر سوسائٹی کا ذمہ دار عضو بنے۔ قرآن پاک میں ’’تزکیہ‘‘ کی تعلیم ہے، یعنی نفس کو پاک کرنا، اخلاق کو سنوارنا، دل کو روشن کرنا۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ انسان محض روحانی سکون لے کر بیٹھ جائے؛ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ: وہ معاشرہ بنائے، عدل قائم کرے، حق کی گواہی دے، ظلم کا مقابلہ کرے، اور انسانیت کو خیر پہنچائے۔
اسلامی شریعت کے تمام احکام، *نماز سے لے کر نکاح تک، روزے سے لے کر جہاد تک،* اس کے اسی اجتماعی مقصد کو مضبوط کرتے ہیں۔
اسلامی اجتماعیت کے مظاہر:
1. عبادات میں اجتماعیت:
﴾ نماز جماعت کی شکل میں
﴾ جمعہ اجتماعی مشاورت اور رہنمائی کا دن
﴾ حج عالمی سطح کی ایک عظیم اجتماعیت
﴾ رمضان میں روزے کی یکسانیت
﴾ یہ سب اجتماعیت کو عملی شکل دیتے ہیں۔
2. معاشرت میں اجتماعیت:
اسلام خاندان کی بنیاد پر معاشرہ بناتا ہے۔ *رشتہ داری، پڑوسی، مہمان داری، حقوق العباد،* سب اجتماعی بھلائی کے محافظ ہیں۔
3. معاشی نظام میں اجتماعیت:
اسلامی معاشی اصول *زکوٰۃ، صدقات، وقف، خیرات* اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی شخص بھوک و فاقہ کا شکار نہ رہے۔ *معاشرہ ایک جسم* کی طرح ہو، جس کے ایک عضو کے دکھ پر دوسرا تڑپ اٹھے۔
4. ریاستی نظام میں اجتماعیتـ:
اسلام’’شورٰی‘‘، ’’عدل‘‘، ’’امانت‘‘ اور ’’قیادت‘‘* کے تصور سے ایک ایسا اجتماعی نظم دیتا ہے جو *ظلم، کرپشن اور انتشار* کو روکتا ہے۔
اسلامی اجتماعیت: دنیا کے لیے ایک پیغام:
آج کا دور فردیت (Individualism) کا دور ہے۔ ہر انسان اپنے فائدے، اپنی خواہش، اپنی کامیابی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ نتیجہ سامنے ہے:
☆ ٹوٹے ہوئے رشتے
☆ بکھرا ہوا معاشرہ
☆ تنہا انسان
☆ بے مقصد زندگی
☆ بے روح ترقی
اسلام اس اندھیرے میں روشنی بن کر کھڑا ہے۔ وہ کہتا ہے: "تنہا کامیابی کامیابی نہیں بلکہ *اجتماعی خوشی، اجتماعی ترقی اور اجتماعی ذمہ داری* ہی اصل انسانیت ہے۔”
اسلام اجتماعی بہبود کا ایسا ماڈل دیتا ہے جو *انسانی فطرت کے عین مطابق* ہے۔ یہ دین انسان کو ایک دوسرے کا دست و بازو بناتا ہے، *بکھری ہوئی انسانیت کو متحد* کرتا ہے، *کمزور کو سہارا* دیتا ہے اور دنیا میں *عدل اور امن کا نظام* قائم کرتا ہے۔
اسلام کی اجتماعیت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ:
☆ فرد اپنی اصلاح کرے،
☆ مگر خود تک محدود نہ رہے،
☆ بلکہ نیکی کو پھیلانے والا بنے،
☆ معاشرے میں خیر کا ستون بنے،
☆ صالحین کی جماعت میں شامل ہو، اور اللہ کی زمین کو عدل و رحمت سے بھر دے۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو تنہائی کے خول سے نکال کر ایک *مضبوط، باوقار اور فعال امت* کا حصہ بناتا ہے۔ یہی اجتماعیت اسلام کا حسن بھی ہے اور اس کی قوت بھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے