कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے میں دونوں جہانوں کی کامیابی

از قلم: سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس ضلع پریشد پرائمری اردو اسکول اندرا آواس بیودہ ضلع امراؤتی مہاراشٹر

اسلام وہ کامل دین ہے جس نے انسانیت کو عزت، فلاح اور کامیابی کا راستہ دکھایا۔ اس دین کی عملی تصویر ہمیں ہمارے اسلاف کی زندگیاں دکھاتی ہیں۔ اسلاف وہ روشن ستارے ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنے عمل سے زندہ رکھا۔ ان کی زندگیاں قرآن کا عملی ترجمہ اور سنت کا زندہ نمونہ تھیں۔ جب ہم ان کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف عبادتوں میں بلکہ معاملات، اخلاق، قیادت، علم، تجارت، معاشرت اور سیاست ہر میدان میں اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ یہی وہ کامل راستہ ہے جو آج بھی دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اسلاف کی پیروی کوئی تاریخی رسم نہیں بلکہ زندگی کا ایسا جامع نظام ہے جو ہر دور کی ضرورت ہے۔
اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس دور میں مسلمان اسلاف کے طریقے پر مضبوطی سے قائم رہے، وہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بنے۔ وہ نہ صرف اخلاقی اور روحانی پہلوؤں میں اعلیٰ تھے بلکہ علمی، سائنسی، تہذیبی اور سیاسی میدانوں میں بھی قیادت کرتے تھے۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی بستیوں سے اٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو عدل، علم اور انسانیت کی طاقت سے فتح کیا۔ وہ محض فاتح نہیں تھے بلکہ اخلاق اور انصاف کا پیغام دینے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے نام احترام سے لیے جاتے ہیں۔
ہمارے اسلاف کی اولین خصوصیت مضبوط ایمان اور کامل تقویٰ تھا۔ ان کے دل اللہ کے خوف سے لبریز رہتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ ہر لمحہ آخرت کی فکر کرتے، حضرت عمرؓ اپنے دورِ خلافت میں راتوں کو گشت کر کے عوام کی ضروریات پوری کرتے، حضرت عثمانؓ اپنی سخاوت میں بے مثال تھے، اور حضرت علیؓ علم و تقویٰ میں پوری امت کے رہنما تھے۔ یہ تمام اوصاف ہمیں بتاتے ہیں کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور عمل کی پختگی کا نام ہے۔ ایمان مضبوط ہو تو کردار مضبوط ہوتا ہے، اور کردار مضبوط ہو تو دنیا و آخرت دونوں سنور جاتے ہیں۔
اسلاف نے دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھا۔ وہ تجارت کرتے تھے لیکن اللہ کی رضا کے لیے۔ وہ حکومت کرتے تھے لیکن عدل کے ساتھ۔ وہ جنگ لڑتے تھے لیکن ظلم کے خلاف۔ وہ علم پڑھاتے تھے لیکن اخلاص کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی دنیا بھی سنواری ہوئی تھی اور آخرت بھی روشن۔ آج ہمارا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ دنیا ہماری منزل بن گئی ہے۔ جب انسان دنیا کو مقصد بنا لیتا ہے تو اخلاق تباہ ہوتا ہے، دل میں اضطراب بڑھتا ہے، اور معاشرہ بے سکون ہو جاتا ہے۔ اسلاف کا طریقہ یہ ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھو، دل میں نہیں۔
اسلاف کی دوسری عظیم خصوصیت اخلاق کی بلندی تھی۔ وہ سچ بولتے، وعدہ پورا کرتے، ظلم سے نفرت کرتے، غریبوں کے خیر خواہ ہوتے، پڑوسیوں کا خیال رکھتے، اور دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کرتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے بتی بجھا دی کہ حکومتی تیل ذاتی استعمال میں نہیں آسکتا۔ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بننے کے باوجود اپنی بکریاں خود دوہتے تھے۔ حضرت علیؓ کو عدالت میں ایک عام یہودی کے برابر کھڑا کیا گیا۔ یہ کردار انسانیت کے وہ اصول ہیں جو آج بھی دنیا کو امن دے سکتے ہیں۔
اسلاف کے ہاں علم کا مقام بہت بلند تھا۔ وہ جانتے تھے کہ علم روشنی ہے، قوموں کی تقدیر بدلتا ہے، اور جہالت اندھیرا ہے جو معاشروں کو غلام بنا دیتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے مدارس قائم کیے، محدثین نے حدیث کی حفاظت کی، فقہاء نے مسائل کو مدون کیا، مفسرین نے قرآن کی روشنی پھیلائی، اور اہلِ علم نے دنیا کے سامنے اسلام کی عقلی اور روحانی برتری ثابت کی۔ اسلام کے سنہری دور میں مسلمان سائنس، طب، فلکیات، ریاضی، انجینئرنگ، جغرافیہ، کیمیا اور فلسفہ میں دنیا کے رہنما تھے۔ اسلاف کا طریقہ یہ ہے کہ علم کو زندہ رکھا جائے اور علم کا استعمال خیر، نفع، ترقی اور انسانی خدمت کے لیے کیا جائے۔
اسلاف کی ایک نمایاں خوبی ایثار اور قربانی تھی۔ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ کسی نے اپنا گھر دیا، کسی نے اپنا باغ، کسی نے اپنی کمائی کا نصف۔ یہ وہ جذبہ ہے جو دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں رکھتا۔ آج مادیت پرستی کے دور میں لوگ اپنے آرام، دولت اور مفاد سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اگر ہم اسلاف کی ایثار پسندی کو اپنائیں، تو معاشرے میں نفرت کم اور محبت بڑھ سکتی ہے۔ ایثار سے دل صاف ہوتا ہے، تعلقات بہتر ہوتے ہیں، اور معاشرت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
اسلاف کے ہاں اتحاد، باہمی محبت اور احترام کا جذبہ بہت مضبوط تھا۔ اختلاف رائے ضرور ہوتا تھا، لیکن اس اختلاف کے باوجود دلوں میں محبت، عزت اور خیر خواہی باقی رہتی تھی۔ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کا باہمی احترام اس کی بہترین مثال ہے۔ آج اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے، اور تعصب لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتا ہے۔ اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کو فساد نہ بنایا جائے بلکہ رحمت سمجھا جائے۔
اسلاف کا طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ دین کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرتے تھے۔ عبادت، تجارت، حکومت، خاندان—ہر جگہ قرآن کی روشنی شامل رہتی تھی۔ اسی لیے ان کا معاشرہ انصاف پر قائم تھا، جرائم کم تھے، غربت ناپید ہوتی تھی، اور عدل عام تھا۔ آج ہم نے دین کو چند عبادات تک محدود کر دیا ہے اور دنیاوی معاملات اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ نتیجتاً زندگیاں بے سکون اور معاشرے بے نظام ہو گئے ہیں۔ اسلاف کی پیروی یہی ہے کہ دین کو زندگی کے ہر گوشے میں شامل کیا جائے۔
اسلام میں کامیابی کا اصل معیار آخرت کی کامیابی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کو چھوڑ دیا جائے۔ اسلاف نے دنیا بھی کمائی، عزت بھی پائی، حکومتیں بھی چلائیں، قومیں بھی بنائیں، اور ترقی بھی کی۔ لیکن ان کی اصل فکر آخرت تھی۔ وہ ہر عمل میں نیت درست رکھتے تھے۔ وہ ہر عبادت میں خشوع رکھتے تھے۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کی رضا تلاش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں بھی سرخرو کیا اور آخرت میں بھی مقام بلند عطا کیا۔
ان کی راتیں اللہ کے حضور سجدوں میں گزرتیں، دن لوگوں کی خدمت میں۔ وہ کم کھاتے، کم سوتے، زیادہ کام کرتے، زیادہ صدقہ دیتے، اور زیادہ عبادت کرتے۔ وہ جانتے تھے کہ دنیا کی زندگی چند لمحوں کا سفر ہے اور آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ ان کی اس سوچ نے انہیں دنیا کی تمام آزمائشوں میں کامیاب کیا۔
آج امت مسلمہ دنیا کے کونے کونے میں بکھری ہوئی ہے، اخلاقی زوال کا شکار ہے، قیادت سے محروم ہے، اور فکری انتشار میں گرفتار ہے۔ اس صورتحال کا حل نہ سیاست میں ہے، نہ طاقت میں، نہ دولت میں—بلکہ صرف اور صرف اسلاف کی پیروی میں ہے۔ جب تک ہم اپنا تعلق قرآن سے مضبوط نہیں کریں گے، اپنے اخلاق کو درست نہیں کریں گے، علم کو بلند مقام نہیں دیں گے، اتحاد کو ترجیح نہیں دیں گے، اور دنیا کو ذریعہ نہیں بلکہ امتحان سمجھیں گے—مسلمانوں کی حالت تبدیل نہیں ہوگی۔
آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنا ہی ہماری دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ یہ راستہ ایمان کی روشنی، علم کی بصیرت، اخلاق کی پاکیزگی، کردار کی مضبوطی، اخلاصِ نیت، اور اللہ کی رضا سے عبارت ہے۔ فرد ہو یا قوم—جو بھی اس راستے کو اپناتا ہے اللہ اسے عروج دیتا ہے، کامیابی دیتا ہے، عزت دیتا ہے، اور دنیا و آخرت میں سرخرو کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے