कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

استاد بحیثیتِ مغربی اور ہندوستانی تعلیمی نظام

از قلم: ڈاکٹر اسما بنتِ رحمت اللہ

تعلیم کا دائرہ جہاں انسانی تمدّن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، وہیں استاد اس دائرے کا سب سے روشن محور ہے۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں تعلیمی نظام اپنی اپنی ثقافت اور سماجی ڈھانچے کے مطابق پروان چڑھتے ہیں، مگر استاد کی اہمیت ہر جگہ یکساں رہتی ہے۔ مغربی تعلیمی نظام اور ہندوستانی نظامِ تعلیم، دونوں کے اندر استاد کے کردار کا تقابلی مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تدریس کے فلسفے، طریقۂ کار، اور تعلیمی ماحول کے فرق کے باوجود استاد کا مقصد — یعنی طالب علم کی شخصیت کو سنوارنا — مشترک ہے، مگر اس تک پہنچنے کے راستے مختلف ہیں۔
مغربی تعلیمی نظام میں استاد کا کردار محض علم پہنچانے والے فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ تعلیمی سفر میں ایک سہولت کار (Facilitator) اور رہنما کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مغرب کا پورا تعلیمی ڈھانچہ بچے کی ذہنی آزادی، سوال کرنے کی جرات، تخلیقی سوچ، اور عملی مہارت پر مبنی ہے۔ یہاں استاد یہ نہیں سمجھتا کہ اس کی ذمہ داری پوری ہو گئی جب اس نے نصاب مکمل کرا دیا؛ بلکہ وہ طلبہ میں خود اعتمادی، تحقیق کا شوق، اور تنقیدی ذہنیت کو پروان چڑھانے کی مسلسل کوشش کرتا ہے۔ کلاس روم میں گفتگو، عملی سرگرمیاں، پروجیکٹ ورک اور ڈیجیٹل وسائل تعلیم کا بنیادی حصہ ہیں، اس لیے استاد بھی وقت کے ساتھ خود کو مسلسل تربیت کے مرحلوں سے گزارتا رہتا ہے۔ مغرب میں استاد کی پیشہ ورانہ حیثیت مضبوط ہے، اس کے پاس وسائل، تحقیق کے مواقع، معاون نظام، اور پیشہ ورانہ آزادی موجود ہے، جو اسے ایک مؤثر معلم بننے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں ہندوستانی تعلیمی نظام ایک وسیع اور پیچیدہ سماجی و ثقافتی تناظر رکھتا ہے۔ یہاں استاد کا کردار روایتی اور جدید دونوں جہتوں کا حامل ہے۔ ایک طرف روایت کی مضبوط گرفت ہے جہاں استاد کو معلومات کا منبع سمجھا جاتا ہے، اور تدریس کا انداز لیکچر، حفظ اور نصابی پیروی تک محدود ہو جاتا ہے۔ مگر دوسری جانب نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) نے اس کردار کو بدلنے کی کوشش کی ہے، جس نے استاد کی ذمہ داریوں کو تخلیقی تدریس، مہارتی تعلیم، انفرادی مشاورت اور لچکدار سیکھنے کی طرف موڑ دیا ہے۔ ہندوستانی کلاس روم میں اب بھی کئی عملی رکاوٹیں موجود ہیں، جیسے بڑی کلاسیں، سہولتوں کی کمی، ٹیکنالوجی تک عدم رسائی، والدین اور انتظامیہ کی غیرضروری مداخلت، اور تعلیمی دباؤ، جن کی وجہ سے استاد اپنی صلاحیتوں کا مکمل اظہار نہیں کر پاتا۔ پھر بھی ہندوستانی استاد کی قربانی، محنت اور عزم اس حقیقت کا برملا ثبوت ہیں کہ چیلنجز کے باوجود وہ تعلیمی سفر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ان دونوں نظاموں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مغرب نے استاد کو ایک خود مختار، بااختیار اور مسلسل تربیت پانے والے ماہر کی حیثیت دی ہے، جبکہ ہندوستانی نظام میں استاد کا کردار سماجی و انتظامی دباؤ، نصابی حدود اور عملی پریشانیوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ تاہم ہندوستان میں تعلیمی اصلاحات، ڈیجیٹل انڈیا، آن لائن تربیتی پلیٹ فارم، اور ٹیکنالوجی کے فروغ نے استاد کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں، جن سے مستقبل میں تدریسی فضا مزید سازگار ہو سکتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ استاد چاہے کسی بھی نظامِ تعلیم سے تعلق رکھتا ہو، اس کی اصل طاقت اس کا کردار، اس کی نیت، اور اس کا سیکھنے کا جذبہ ہے۔ اگر مغربی نظام نے اسے ایک پیشہ ور ماہر بنایا ہے تو ہندوستانی معاشرے نے اسے روحانی، اخلاقی اور سماجی رہنما کی حیثیت دی ہے۔ آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں نظاموں کی بہترین خوبیوں کو یکجا کیا جائے: مغرب کی تحقیق، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ آزادی کو ہندوستان کی جذباتی وابستگی، اخلاقی تربیت اور تعلیمی روایات کے ساتھ ملا کر ایک ایسا تعلیمی ماڈل تشکیل دیا جائے جس میں استاد نہ صرف علم بانٹے بلکہ کردار سازی، تخلیق اور انسان سازی کا حقیقی محرک ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے