कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو ہے جس کا نام………..!!

مضمون نگار ۔۔۔ف۔خ۔مسرت

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اردو زبان دنیا کی ان چند زبانوں میں سے ایک ہے جو اپنی فصاحت،بلاغت ، جامعیت، سلاست کی وجہ سے نہ صرف برصغیر کی ثقافتی شناخت ہے بلکہ عالمی ادب میں بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس کا نام سنتے ہی ذہن میں رنگین محفلیں، غزل کی سریلی آوازیں، داستانوں کی دل کش روایات اور شاعری کی وہ لازوال تخلیقات ابھرتی ہیں جو صدیوں سے انسانوں کے دلوں کو چھوتی چلی آ رہی ہیں۔ اردو وہ زبان ہے جو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی عکاس ہے، جہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک ہی لسانی ڈور میں پروئے گئے ہیں۔
یہ ایک ایسی بین الاقوامی مزاج کی زبان ہے جو محبت کی زبان کہلاتی ہے اور مشرق و مغرب دونوں کے لیے اجنبی نہیں۔دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اسے سمجھتے، بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں اور یہ دنیا کی بیسویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
یہ زبان فصیح، جامع، سلیس اور رواں ہے، اور اسے "لسانِ غالب” یا "زبانِ دل” کہا جاتا ہے۔
فصاحت بلاغت کا اعلیٰ معیار زبان اردو میں ہی پایا جاتا ہے
اردو اس اعتبار سے ایک ایسی زبان ہے جو اپنے الفاظ کے انتخاب اور تلفظ کی نرمی میں بے مثال ہے۔ اس کی جڑیں عربی، فارسی اور سنسکرت سے ملتی ہیں، جو اسے ایک امیر لسانی ورثہ عطا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، عربی سے آئے الفاظ جیسے "عشق”، "محبت” اردو کو ایک گہرا فلسفیانہ اور جذباتی رنگ دیتے ہیں، جبکہ فارسی کے الفاظ جیسے "دلبر”، "نگاہ” اور "سحر” اسے شاعرانہ خوبصورتی بخشتے ہیں۔ سنسکرت سے مستعار لفظ جیسے "پریم”، "سنگیت” اور "دیپ” اسے ہندوستانی ثقافت سے جوڑتے ہیں۔
اردو کی فصاحت اس کی نحوی ساخت میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کی جملہ بندی لچکدار ہے، جو مقرر کو اپنے خیالات کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
شعر و شاعری یا خوبصورت الفاظ کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لحاظ سے اردو بیشتر لوگوں کی پسندیدہ زبان ہے۔ دنیاکے ایسے افراد جو اُردو، سمجھتے، بولتے، پڑھتے یا لکھتے ہیں ، یا جنہوں نے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ اردو سنی ہو یا اس زبان پر تبادلہ خیال کیا ہو، اسے ایک پرکشش زبان قرار دیتے ہیں مقررین اپنی تقریر کو بااثر بنانے یا دوسروں سے زیادہ فصیح نظر آنے کیلئے اردو الفاظ یا اشعار کا استعمال کرتے ہیں
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جواس نے کہا۔۔۔۔۔!!
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
یہاں الفاظ کے انتخاب اور معنی کی گہرائی فصاحت کی بہترین مثال ہے۔ اردو کی فصاحت نے اسے خطابت، ادب اور صحافت کا ایک طاقتور ذریعہ بنایا ہے۔ مولانا آزاد کی تقریریں یا سرسید احمد خان کی تحریریں اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اردو میں ہر موضوع کی گنجائش ہے
جامعیت سے مراد زبان کی وہ صلاحیت ہے جو ہر قسم کے موضوعات، علوم اور فنون کو بیان کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ اردو اس میدان میں بھی سبقت لے جاتی ہے۔ یہ نہ صرف روزمرہ کی بولی ہے بلکہ سائنس، فلسفہ، تاریخ، طب اور ٹیکنالوجی جیسے پیچیدہ مضامین کو بھی بیان کر سکتی ہے۔ برصغیر میں اسلامی علوم کی ترویج اردو کے ذریعے ہوئی، جہاں فقہ، حدیث اور تفسیر جیسے موضوعات پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔
ادبی طور پر، اردو نے ناول، افسانہ، ڈرامہ اور تنقید کو پروان چڑھایا۔ پریم چند کی ناول *گوؤدان* سماجی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ قرۃ العین حیدر کی *آگ کا دریا* تاریخی جامعیت کی مثال ہے۔ سائنسی میدان میں، اردو نے تراجم کے ذریعے یورپی علوم کو عام کیا۔ آج کل کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور ماحولیاتی علوم پر اردو میں مقالات لکھے جا رہے ہیں۔ یہ جامعیت اردو کو ایک زندہ اور متحرک زبان بناتی ہے، جو وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہے۔اردو
سلاست مٹھاس اور روانی کا امتزاج ہے سلاست کا مطلب ہے زبان کی مٹھاس، جو سننے والے کو مسحور کر دے۔ اردو کی سلاست اس کی آوازوں کی نرمی میں ہے۔ اردو میں *خ*، *غ*، *ق* جیسے حروف حلقی ایک منفرد موسیقی پیدا کرتے ہیں، جو غزل اور نعت میں روح پرور اثر رکھتے ہیں
لفظوں کی سلاست دل کو چھو لیتی ہے۔ اردو فلموں کے گیت، اس کی مٹھاس کی وجہ سے امر ہو گئے ہیں ۔ یہ سلاست اردو کو محبت، درد اور جدائی کے اظہار کا بہترین ذریعہ بناتی ہے۔ اردو کی روانی میں بہاؤ کی لازوال خوبصورتی ہوتی ہے
روانی سے مراد زبان کا وہ بہاؤ ہے جو رکاوٹ کے بغیر خیالات کو ذہنوں میں پراثرانداز میں منتقل کرے۔ اردو کی روانی اس کی فعل کی ساخت اور ضمنی جملوں میں ہے۔ یہ زبان گفتگو میں بھی اتنی رواں ہے کہ گلی محلوں کی بولی سے لے کر عدالتوں کی بحث تک ہر جگہ فٹ بیٹھتی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری کی روانی ملاحظہ ہو:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔‍۔۔۔ ایک اقبالی تصور ہے جس کا مطلب ہے کہ اپنی ذات کی قدر و شناخت کو اتنا بلند کریں کہ ہر تقدیر آپ کے سامنے جھک جائے. اس تشریح میں خودی کا مطلب تکبر نہیں، بلکہ خود داری، جرأت، غیرت، اور اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہے جو انسان کو عظمت اور استحکام کی طرف لے جاتے ہے. یہ ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کا مقصد بلند کرتا ہے اور اپنے زور بازو سے اپنا مقام حاصل کرتا ہے. یہ اردو ہی کی خوبی ہیکہ یہاں خیالات کا بہاؤ اتنا قدرتی ہے کہ قاری خود کو جذبات کے دھارے میں بہہ جانے سے روک نہیں پاتا ہےاردو کی روانی نےاردو کو میڈیا کا ایک طاقتور ہتھیار بنایا، جہاں نیوز، ڈرامے اور ریڈیو پروگرامز میں یہ بلا تعطل بہتی ہے
اردو ہے جس کا نام یہ وہ زبان ہے جو فصاحت کی بلندیوں کو چھوتی ہے، جامعیت کی وسعتوں میں پھیلتی ہے، سلاست کی مٹھاس سے دل موہ لیتی ہے اور رواں بہاؤ سے روح کو تازگی بخشتی ہے۔ یہ برصغیر کی مشترکہ وراثت ہے، جو تقسیم کے باوجود پاکستان، انڈیا اور دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کو جوڑتی ہے۔ آج ڈیجیٹل دور میں بھی اردو سوشل میڈیا، بلاگز اور یوٹیوب پر زندہ ہے۔ اسے زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، کیونکہ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب، ایک ثقافت اور ایک جذبے کا نام ہے
ہراک زباں سے پیاری ، ہراک زباں سے نیاری
اردو زباں ہماری ۔۔۔۔اردو زباں ہماری۔۔۔۔۔
اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی
میں میر کی ہمراز ہوں غالب کی سہیلی

دکن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
سودا کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے میر کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا
میں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی

غالب نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
حالی نے مروت کا سبق یاد دلایا
اقبال نے آئینۂ حق مجھ کو دکھایا
مومن نے سجائی میری خوابوں کی حویلی

ہے ذوق کی عظمت کہ دئیے مجھ کو سہارے
چکبست کے الفت نے میرے خواب سنوارے
فانی نے سجائے میری پلکوں پہ ستارے
اکبر نے رچائی مری بے رنگ ہتھیلی

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کو زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
(اقبال اشعر)​

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے