कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو صحافت میں، ادبِ اطفال اور بچوں کے رسائل کا حصّہ

تحریر:ڈاکٹر مرضیہ عارف

اُردو زبان و صحافت کی تاریخ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد اِس زبان میں بچوں کے ادب پر توجہ دی گئی اور سب سے پہلے مرزا غالبؔ، مولانا محمد حسین آزادؔ اور ڈپٹی نذیر احمد نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے قلم اُٹھایا۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ، نظیرؔ اکبرآبادی نے بھی بچوں کے لیے نظمیں لکھیں، جن میں بہادری و بلندکرداری اور اتحاد واتفاق کی تلقین کی گئی تھی، جہاں تک بچوں کے لیے مستقل لکھنے کا سوال ہے تو مولوی اسماعیل میرٹھی پہلا نام ہے، جنھوں نے بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا اور اُن کی نظمیں بچوںمیں کافی مقبول ہوئیں۔ صوبہ پنجاب میں یہ خدمت مولانا محمد حسین آزاد نے انجام دی، مولوی ذکاء اللہ نے زبان و ادب کی خدمت کے ساتھ خود کو طلباء کی نصابی کتابیں مرتب کرنے کے لیے وقف کر رکھا تھا، جب کہ مولانا حالیؔ، علامہ شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کا شمار قوم کے مصلحوں میں ہوتا ہے۔ لہٰذا فطری طور پر اُن کی توجہ بھی بچوںکے اخلاق سدھارنے کے لیے کارآمد پندونصائح پر مشتمل ادبِ اطفال کی تخلیق کی طرف مبذول ہوئی۔
جہاں تک بچوںکے ادب کی ابتداء کا تعلق ہے تو ’’خالق باری‘‘ اور اُس سے ملتی جلتی کتابوں کے علاوہ مرزا غالبؔ کے ’’قادرنامہ‘‘ کا ذکر کیا جاسکتا ہے، لیکن واقعتاً سب سے پہلے محمد حسین آزاد اور ڈپٹی نذیراحمد کے نام ذہن میں آتے ہیں، گو انھوں نے چھوٹے بچوں کے لیے کسی مخصوص اُصول کے تحت کتابیں نہیں لکھیں لیکن آزاد کی ریڈریں ’’قصصِ ہند‘‘ اور ’’نصیحت کا کرن پھول‘‘ اپنے دلکش زورِ بیان کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں، بچوںکے ادب کے ذیل میں اور بھی نام آتے لیں جن میں غلام احمد فروغی کا ’’قادرنامہ فروغی‘‘، عباس رفعت بھوپالی کا ’’عباس نامہ‘‘، عبدالصمد بیدل کا ’’احمدباری‘‘، محمد صابر کا ’’چراغِ فوائد‘‘، میر تقی میرؔ کی ’’موہنی بلی‘‘ اور راشدالخیری کی’’ قلمی دلگدازی‘‘ آج بھی ضرب المثال کی طرح مشہور اور چھوٹے بڑے دونوں کے لیے سبق آموز ہیں۔
اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ اردو زبان میں بھی بچوں کا ادب تین صدیوں پر محیط ہوگیا ہے کیونکہ ۱۹ویں صدی کے آخر میںاِس کی ابتداء ہوئی، بیسویں صدی میں اِس ادب کو فروغ حاصل ہوا اور آج اکیسویں صدی میں اِس کا تسلسل جاری ہے، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مغرب کے معیار کا ادبِ اطفال ہمارے یہاں تخلیق نہیں ہوسکا، بیسویں صدی میں تعلیم کا دائرہ وسیع ہوا تو تعلیم گھروں اور مدرسوں کے بجائے سرکاری اسکولوں سے دی جانے لگی، اخبار و رسائل پڑھنے کی طرف عام لوگوں کے ساتھ نئی نسل کا رُجحان بڑھا تو بچوں کے لیے بڑے ادیبوں نے بھی لکھنا شروع کردیا، امتیاز علی تاجؔ کے ’’چچاچھکن‘‘ کے کردار، ڈرامے اور انشایئے، حفیظ جالندھری کی ’’عمروعیار‘‘، خواجہ حسن نظامی کے انشایئے اِس سلسلے کی کڑیاں ہیں، بیسویں صدی میں بچوںکے لیے جن اہلِ قلم نے تحریر کیا اُن کی فہرست کافی طویل ہے ، ڈاکٹر ذاکر حسین، علامہ محوی صدیقی، حامداللہ افسر، کرشن چندر، صالحہ عابد حسین، احمد ندیم قاسمی، سراج انور، ایس ایم یوسف انصاری، امین حُزیں، فراغ روہلوی چند نام ہیں جنھوں نے بچوںکے لیے نثر کی محفل آراستہ کی، جن شعراء نے بچوںکے لیے قلم اُٹھایا اُن میں حفیظ جالندھری، تلوک چند محرومؔ، راجہ مہدی علی خاں، شفیع الدین نیر، ظفر گورکھپوری، مظفر حنفی، ڈاکٹر محبوب راہی، حافظ شکارپوری، متین نیاز، انجم مظفرپوری وغیرہ شامل ہیں، جب کہ خواتین قلم کاروں میں لیلیٰ خواجہ بانو، حجاب امتیاز علی، صالحہ عابد حسین، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، اے۔آر۔خاتون، عفت موہانی، شفیقہ فرحت، عطیہ حُزیں، صادقہ نواب سحر، کشور ناہید، بانو سرتاج، مہر رحمان، رضیہ سجاد ظہیر، مسعودہ حیات، رفیعہ منظورالامین، جیلانی بانو کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ جہاں تک بچوںکے رسائل کے اجرأ کا سوال ہے تو آزادی سے قبل چند رسائل ہی بچوں کے لیے نکالے گئے جن میں حیدرآباد سے منظرِ عام پر آنے والا ’’اتالیق‘‘۱۹۰۸ء میں مولوی عبدالرب کوکبؔ نے جاری کیا، اِس کے بعد ’’ادیب الاطفال‘‘ ۱۹۱۱ء میں، ’’المعلم‘‘ ۱۹۱۴ء میں اور ’’نونہال‘‘ ۱۹۲۱ء میں جاری ہوئے۔ عروزنامہ ’’میزان‘‘ حیدرآباد اِس لحاظ سے کافی اہم اخبار ہے کہ اُس نے سب سے ؛پہلے ’’بچوں کی لیگ‘‘ قائم کی، اِس لیگ کی شاخیں حیدرآباد سے ریاست کے اضلاع تک پھیل گئیں اور اِس کے زیرِ اہتمام ماہانہ ادبی جلسے ہوتے تو اُن کی روئیداد اہتمام کے ساتھ ’’میزان‘‘ میں شائع کی جاتی، ’’میزان‘‘ کی طرح روزنامہ’’رہبرِ دکن‘‘ اور آگے چل کر ’’رہنمائے دکن‘‘ میں ہر دو شنبہ کو بچوں کا صفحہ شائع ہوا کرتا تھا، اِس کی بھی ’’ہماری لیگ‘‘ کے نام سے انجمن تھی، جس میں بچوںکے خطوط شائع ہوتے، اُن کی تحریروں کے بارے میں رائے دی جاتی اور لکھنے پڑھنے کے تعلق سے مشورے دیئے جاتے، یہ صفحہ حیدرآباد میں اِتنا مقبول ہوا کہ بچے ہفتے بھر اِس کا انتظار کرتے تھے۔
حیدرآباد کے مقابلہ بھوپال میں بچوںکے رسالے کم شائع ہوئے، آزادی سے قبل ۱۹۴۶ء میں سلیمان آرزو نے ’’معصوم‘‘ نکالا، اِس کے بعد ’’طفلستان‘‘ عباس انصاری نے ، ’’بچوں کا پاکستان‘‘ گوہر جلالی اور سلمان الارشد نے، گوہر جلالی نے ہی ’’معصوم‘‘ کا اجراء کیا، یہ تینوں رسالے ایک کے بعد ایک ۱۹۴۷ء میں جاری ہوئے اور جلد ہی بند ہوگئے، بعد میں ’’بچوں کی دنیا‘‘ جاوید محمود نے اور ’’جگنو‘‘ نعیم کوثر نے نکالے، بھوپال کے روزناموں میں بچوں کے لیے مخصوص صفحہ ’’آفتابِ جدید‘‘ نے شروع کیا، اِس کے بند ہونے کے بعد روزنامہ ’’افکار‘‘، روزنامہ ’’ندیم‘‘ اور بھوپال ٹائمز‘‘ نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا، ’’ندیم‘‘ میں آج بھی اتوار کو بچوں کی دلچسپی کے لیے ایک صفحہ پر مضامین شائع ہورہے ہیں۔ حیدرآباد میں آزادی کے بعد بحرانی دَور میں جو اخبارات نکلتے بند ہوتے رہے انھوں نے اپنی مختصر زندگی میں بچوں کو فراموش نہیں کیا، روزنامہ’’سیاست‘‘ اِس حیثیت سے کافی نمایاں ہے کہ اُس میں بچوں کے لیے مضامین ہفتہ میں کئی دن جب کہ روزنامہ ’’منصف‘‘ میں بچوں کا یہ صفحہ پیر کو ’’گلدستہ‘‘ کے عنوان سے باہتمام شائع ہوتا ہے، روزنامہ ’’ملاپ‘‘ حیدرآباد کی ’’بال سبھا‘‘ کو ایک زمانہ میں وقار خلیل مرتب کرتے تھے، ممبئی کے روزنامہ’’انقلاب‘‘ میں بچوں کے صفحہ کا نام ’’پھلواری‘‘ اور اُردو ٹائمز‘‘ میں ’’گلدستہ‘‘ ہے جو بڑے اہتمام سے ہر ہفتہ نکلتے ہیں، روزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘جس کے ملک میں نو ایڈیشن نکل رہے ہیں، اُس کے سبھی ایڈیشنوں میں بچوں کے لیے مواد زینت بن رہا ہے، کلکتہ، دہلی اور رانچی سے بیک وقت نکلنے والے روزنامہ’’اخبارِ مشرق‘‘ اور پٹنہ و رانچی سے شائع ہونے والے ’’قومی تنظیم‘‘ میں بھی بچوں کے لیے ہر ہفتہ مضامین اور شعری تخلیقات دی جاتی ہیں۔ جب کہ روزنامہ ’’اورنگ آباد ٹائمز‘‘ میں بچوں کے لیے مخصوص صفحہ کا عنوان ’’تتلیاں‘‘ ہے، ممبئی اور اورنگ آباد سے نکلنے والے روزنامہ’’ ہندوستان‘‘ اور روزنامہ ’’ہند سماچار‘‘ ، جالندھر میں بچوں کے صفحے شائع ہوتے ہیں۔ ترقی اردو کونسل کے ترجمان’’ اردو دنیا‘‘ نئی دہلی میں پہلے ہر ماہ بچوں کا ایک مضمون دیا جاتا تھا، لیکن دس سال سے اُردو کونسل کا اپنا رسالہ شائع ہونے لگا ہے۔ اِسے سرکاری وسائل کا بہتر استعمال کرکے کم قیمت پر نہایت اعلیٰ پیمانہ پر شائع کیا جارہا ہے، اِن دنوں شاہنواز محمد خرم اِسے ایڈٹ کررہے ہیں۔
آزادی کے بعد بچوں کے جو رسائل ملک کے مختلف شہروں سے نکلے اُن میں جموں سے ۱۹۴۷ء میں منظرِ عام پر آنے والا اوم صراف اور کندن لال کا ماہنامہ ’’کندن‘‘ پورے ملک میں پڑھا جانے والا رسالہ تھا، جو کافی عرصہ شائع ہوتا رہا، ’’بچوں کی دنیا‘‘ ۱۹۴۹ء میں، ’’نوخیز‘‘ ۱۹۵۴ء میں، ’’میرا رسالہ‘‘ ۱۹۶۰ء میں حیدرآباد سے جاری ہوئے، ’’اتالیق‘‘ کے بعد جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے، جس رسالہ کو حیدرآباد کے بچوں میں مقبولیت حاصل ہوئی، وہ ’’نونہال‘‘ تھا، محمود انصاری نے اِسی زمانہ مین ’’گلشن‘‘ جاری کیا تو اِس میں کہانیوں اور نظموں کے علاوہ ڈرامے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ یہ کتابی سائز میں رنگین سرِورق کے ساتھ نکلتا تھا۔ حیدرآباد میں اِسے بچوں کی صحافت کے عروج کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، بعد میں ۱۹۵۹ء میں ماہنامہ ’’ننھا‘‘مسعود انصاری نے نکالا، یہ بھی اپنے زمانہ کا معیاری پرچہ تھا مگر زیادہ دن جاری نہ رہ سکا، ’’میرا رسالہ‘‘ کا حیدرآباد سے اجراء ۱۹۶۰ء میں ہوا، آ ج کل حیدرآباد سے بچوں کے لیے جو واحد رسالہ نکل رہا ہے اُس کا نام ’’ہمارے نونہال‘‘ ہے۔ ابوالفہیم اور حیدرعلی اِس کے مدیر ہیں، یہ مسلسل تیئیس سال سے شائع ہورہا ہے۔
آزادی کے بعد بچوں کے جن رسائل نے پورے ملک میں دھوم مچادی اُن میں دہلی کے دو رسالے’’کھلونا‘‘ اور ’’پیامِ تعلیم‘‘ سرفہرست ہیں، اِسی زمانہ میں ’’ٹافی‘‘، ’’پھول‘‘، ’’مسرت‘‘، ’’غنچہ‘‘، ’’شریر‘‘، ’’درس‘‘، ’’کلیاں‘‘ اور ’’نور‘‘ بھی نکلے، جن کو پڑھ کر کئی نسلیں جوان ہوئیں، یہ رسالے بچوں کے لیے تفریح کے ساتھ اُن کی ذہنی تربیت کا کام بھی انجام دے رہے تھے، لہٰذا اُنھیں بڑوں کی توجہ بھی حاصل ہوئی، ماہنامہ ’’کلیاں‘‘ لکھنؤ سے شمیم انہونوی کی ادارت میں نکلتا تھا، اپنے زمانہ میں بچوں کا مقبول پرچہ تھا، لیکن ماہنامہ ’’کھلونا‘‘ نئی دہلی نے اُردو میں بچوں کے ادب کو ایک نئے رجحان سے آشنا کیا، یہ ۱۹۴۰ء کی دہائی میں شروع ہوا اور پچاس برس نکل کر ۱۹۹۰ء میں بند ہوگیا۔ اِس کے مدیر الیاس دہلوی نے اپنے زمانہ کے تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں سے بچوں کے لیے لکھوایا، ’’کھلونا‘‘ شمع کے اشاعتی ادارہ کا رسالہ تھا اور اُس زمانہ میں پورے ملک پر اخبارات کا یہ گروپ چھایا ہوا تھا، ’’کھلونا‘‘ میں ایک سطر شائع ہوتی تھی کہ ۸ سے ۸۰ سال کے بچوں کا رسالہ، یہ دعویٰ بڑی حد تک صحیح تھا، کیونکہ ’’کھلونا‘‘ کے دیوانوں میں بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے، اِس لیے جس دن یہ بند ہوا، بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی اپنی کسی قیمتی شئے کے چھن جانے کا احساس ہوا، ’’کھلونا‘‘ بند ہونے کے بعد اُس روایت کو برقرار رکھنے کا کام ’’اُمنگ‘‘، ’’نرالی دنیا‘‘، ’’گل بوٹے‘‘ اور ’’پیامِ تعلیم‘‘ نے کسی حد تک کیا، لیکن ’’کھلونا‘‘ جیسی بات نہیں آسکی۔ ’’نرالی دنیا‘‘ کی اشاعت تو بند ہوگئی۔ ’’گل بوٹے‘‘ اور ’’پیغامِ تعلیم‘‘ نکل رہے ہیں۔ ماہنامہ ’’چندرا نگری‘‘ کو مرادآباد سے شکیل انور صدیقی نے بڑے اہتمام سے نکالا تھا، وہ خود بہترین آرٹسٹ تھے، انھیں مصور انور صدیقی کا تعاون حاصل تھا، اِس میں کہانیوں اور نظموں پر جو تصویریں دی جاتیں اور کارٹون شائع ہوتے وہ بہت پسند کیے جاتے، یہ بھی بند ہوگیا، اِسی طرح ماہنامہ ’’ٹافی‘‘ جسے معظم جعفری نے لکھنؤ سے نکالا تھا اور ماہنامہ ’’شریر‘‘ جسے سلیم خاں بمبئی میں ایڈٹ کرتے تھے جاری نہ رہ سکے۔
بچوں کے ادب کے فروغ میں بچوں کے رسالے اور اُن کے مدیروں کا اہم کردار رہا ہے، اِن رسائل میں ماہنامہ ’’مسرت‘‘ پٹنہ اور اُس کے ایڈیٹر ضیاء الرحمن غوثی کا نام اِس لیے بھی قابل ذکر ہے کہ انھوں نے ۱۹۶۶ء میں اِس پرچہ کو نکالا تو بہار کے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو ہی نہیں ڈاکٹر ذاکر حسین اور اندرا گاندھی کو بھی رسالہ کی سرپرستی پر آمادہ کرلیا، لیکن غوثی صاحب نے جیسے ہی سرکاری ملازمت میں قدیم رکھا، ’’مسرت‘‘ تقریباً ساڑھے تین سال نکل کر بند ہوگیا‘‘۔ ۱۹۹۰ء میں بچوں کا ایک رسالہ ماہنامہ’’آج کا سکندر‘‘ کلکتہ سے نکلا مگر حالات کی بے رحمی کا شکار ہوکر جلد بند ہوگیا۔ مالیگاؤں سے ’’خیراندیش‘‘ کو ۲۱سال قبل ۱۹۸۷ء میں خیال انصاری نے جاری کیا تھا، یہ پابندی کے ساتھ آج بھی شائع ہورہا ہے، ’’بزمِ اطفال‘‘ اِس شہر سے نکلنے والا بچوں کا دوسرا پرچہ ہے، جسے مدیر رحمانی سلیم ۱۳ سال سے نکال رہے ہیں، ماہنامہ ’’ٹافی‘‘ لکھنؤ سے نکلا، اِس کا سائز چھوٹا ضرور تھا لیکن کہانیاں، نظمیں اور مضامین نہایت سبق آموز اور دلچسپ ہوا کرتے تھے، اِن کے علاوہ ’’پھلواری‘‘ اور ’’اردوکامک‘‘ وقتی چمک دمک دکھاکر بند ہوگئے ہیں، بچوں کے جو رسالے آج بھی نکل رہے ہیں، اُن مین مکتبہ الحسنات رامپور کا ماہنامہ ’’نور‘‘، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ نئی دہلی کا ماہنامہ’’پیامِ تعلیم‘‘ اور اُردو اکادیمی دہلی کا ماہنامہ ’’اُمنگ‘‘ شامل ہیں۔ ’’اُمنگ‘‘ ۱۹۸۷ء سے مسلسل شائع ہورہا ہے اور بچوں کا مقبول ومعیاری رسالہ ہے، اِس میں بچوں کی دلچسپی کے کئی کالم ہیں، مثال کے طور پر ’’آپ نے لکھا‘‘، ’’دنیا رنگ برنگی‘‘،مستقبل کے قلمکار‘‘، ’’میرا پسندیدہ شعر‘‘ ، ’’اب ہنسنے کی باری ہے‘‘ وغیرہ، ماہنامہ ’’نور‘‘ کا پرانا انداز اور معیار برقرار ہے، اِس کے خاص نمبر اہتمام سے شائع ہوتے ہیں، ’’پیامِ تعلیم‘‘ پہلے ’’کھلونا‘‘ کے سائز میں نکلتا تھا اور اُس وقت کھلونا کے معیار کا سمجھا جاتا تھا، یہ فی الوقت بچوں کا سب سے قدیم رسالہ ہے جو ۷۶ برس سے شائع ہورہا ہے۔ اِس کے لکھنے والوں میں پہلے اہم ادیب ہوا کرتے تھے، بجنور سے کبھی بچوں کا ماہنامہ ’’غنچہ‘‘ شائع ہوتا تھا، یہ عرصہ ہوا بند ہوگیا، تو سراج الدین ندوی نے ماہنامہ ’’اچھا ساتھی‘‘ نکال لیا جو اکتیس برس سے پابندی وقت کے ساتھ شائع ہورہا ہے، ’’ہمارے نونہال‘‘ کا ذکرِ خیر حیدرآباد کے اخبارات کے ذیل میں گزر چکا ہے، سرِدست ہندوستان سے اُردو میں بچوں کے نصف درجن رسالے نکل رہے ہیں، جن میں ’’پیامِ تعلیم‘‘، ’’نور‘‘، ’’اُمنگ‘‘، ’’گل بوٹے‘‘، ’’ہلال‘‘، ’’اچھا ساتھی‘‘، ’’ہمارے نونہال‘‘، ’’خیراندیش‘‘، ’’بزمِ اطفال‘‘ اور ’’بچوں کی دنیا‘‘ شامل ہیں، جو پابندی سے منظفرِ عام پر آرہے ہیں لیکن ملک کی وسعت اور اُردو داں آبادی کے لحاظ سے یہ محدود تعداد ہے، کووڈ۔۱۹ کے مضر اثرات نے جہاں دوسرے شعبوں کو متاثر کیا، وہیں بچوں کے رسائل پر بھی اِس کا منفی اثر پڑا ہے۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے