कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو شاعری میں قرآنی تلمیحات

تحریر:ڈاکٹر مرضیہ عارف(بھوپال)

تاریخی واقعات ، کہاوتیں، روایات اور محاورے جب ضرب المثل بن جاتے ہیں تو ادبی اصطلاح میں ان کے حوالہ کو اشعار میں تلمیح کہتے ہیں، تلمیح میں واقعہ کی وضاحت کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ صرف ایک اشارہ کافی ہوتا ہے جو شعر میں محدود ہوکر کوزے میں دریا کے مصداق بن جاتا ہے۔
اردو زبان کا خمیر بنیادیطور پر فارسی، عربی ، ترکی اور ہندوستان کی دوسری زبانوں سے مل کر اٹھا ہے اس لئے اردو کے نثری وشعری ادب میں تلمیحات کا استعمال بھی ان زبانوں سے مستعار ہے ، اردو شاعری جس کی عمر تین سو سال سے زیادہ نہیں، دوسری زبانوں کے مقابلہ میں اس کم عمر زبان نے اپنی زندگی میں نت نئے رنگ اور زمانہ کی بہت سی گردشیں دیکھیں نیز گردوپیش کا اثر قبول کیا ہے لیکن ان میں کئی کیفیتیں ایسی ہیں جو اسے ورثہ میں ملی ہیں اس ورثہ سے بھی دن بدن نئی نسل کا تعلق منقطع ومضمحل ہوتا جارہا ہے۔
آج کے بدلہ ہوئے حالات میں جبکہ عربی وفارسی جاننے والوں کی تعداد کافی کم ہوگئی ہے تو ہمارے شعر وادب کی تلمیحات سے بھی اکثر لوگوں کو واقفیت نہیں رہی، اس کے علاوہ پرانی قدروں کے انہدام اور نئی اقدار کی استواری سے بھی تلمیحات میں روبدل ہورہا ہے، کتنی ہی شخصیتیں ایسی ہیں جو پچاس پچیس برس پہلے تک تو نہیں لیکن آج ضرور تلمیح بن گئی ہیں اور یوں اردو زبان وادب میں تلمیحات کا دائرہ برابر وسیع ہورہا ہے۔
اردو شاعری میں جہاں ہندو دیو مالا سے متعلق تلمیحات رائج ہیں وہیں قرآنی تلمیحات کا بھی ایک بیش بہا ذخیرہ موجود ہے، ہمارے شعراء نے جہاں گل وبلبل، فرہاد وشیریں، رستم وسہراب، شراب ومیکدہ اور ساقی وپیمانہ کی نشاط آفریں علامات کا اپنے اشعار میں استعمال کیا ہے وہیں آدم وخلد، ضربِ کلیم ، گلزار ِ خلیل، موسیٰ وخضر، اصحابِ فیل، یدِ بیضا، حوضِ کوثر، کوہِ طور، دیوارِ یتیم، دمِ عیسیٰ، صبرِ ایوب، حسن یوسف، خوابِ زلیخا، سفینۂ نوح، لحنِ دائود، مرغِ سلیماں جیسی فکر انگیز اصطلاحات، بلیغ اشارے اور تاریخی ومذہبی ہستیوں سے متعلق واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے،ان میں سے سبھی کا مآخذ قرآنِ حکیم، احادیثِ مبارکہ اور اسلام کی تاریخ وروایات رہی ہیں۔
یہ کسی خاص دور کی شاعری کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ قرآنی تلمیحات کا نہایت فنکارانہ اور برجستہ استعمال ہر عہد کی اردو شاعری میں ملتا ہے، حمد وسلام، نعتیہ کلام، مراثی اور اخلاقی نظموں کے برعکس جسے کسی بھی شعری تجزیہ میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ غزلیہ شاعری بھی کافی حد تک اپنے اندر ایسی تلمیحات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں پوری پوری داستانیں چھپی ہوئی ہیں اور ان سے باخبر ہونے کے بعد اشعار کی معنویت دو بالا ہوجاتی ہے، کئی تلمیحات تاریخی وتہذیبی پس منظر کی حامل بھی ہیں۔
مثال کے طور پر کربلا اور مہابھارت یہ صرف نام یا تلمیحات نہیں صدیوں سے کہی اور سنی جانے والی داستانیں ہیں جو انسانوں کے قلب وجگر کو گرما رہی ہیں، خصوصیت سے واقعہ کربلا نے اردو شعر وادب میں ایک استعارہ کا درجہ حاصل کرلیا ہے ، کئی اشعار میں براہِ راست کربلا کا ذکر نہ ہونے پربھی ذہن اس کی طرف فوراً منتقل ہوجاتا ہے مثلاً ؎
وہی پیاس ہے ، وہی دشت ہے، وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
(افتخار عارف)
زوالِ عصر ہے کوفہ میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در بابِ التجا کے سوا
(منیر نیازی)
ان دونوں شعروں میں براہ راست کسی خاص واقعہ کا حوالہ نہیں پھر بھی جن کی کربلا کے سانحہ پر نظر ہے ان کا ذہن فوراً ۹ محرم الحرام یوم عاشورہ پر آج سے ساڑھے ۱۴سو برس پہلے کوفہ میں رونما ہونے والے المیہ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں سینکڑوں شعراء ایسے ملیں گے جنہوں نے قرآنی تلمیحات کو اپنے اشعار میں استعمال کرکے کتابِ الٰہی سے اپنے گہرے شغف کا مظاہرہ کیا ہے، یہ متاخرین شعراء کا ہی امتیاز نہیں بلکہ اس کا سلسلہ ولی دکنی سے شروع ہوتا ہے جنہوں نے شاعری خصوصیت سے اپنی غزل میں قرآن کے پیغام کی نہ صرف تشریح کی بلکہ قرآنی آیات والفاظ کو بھی نمائندگی دی اور تلمیحات کو اس مہارت کے ساتھ برتا کہ وہ شعر کاجزو محسوس ہوتی ہیں ؎۔
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا
تو ہے رشکِ ماہ کنعانی ہنوز
تجھ کوں ہے خوباں میں سلطانی ہنوز
تجھ پہ کوں جب سیا پر لگا تب یہ تیضا ہوا
تبت یدا کا ورد اب دن رات جب کرتا ہوں میں
ولی ؔ کے بعد قرآنی تلمیحات کو اپنے صحیح پس منظر میں برت کر میرؔ، غالبؔ اور اقبال نے جس تاریخ فہمی کا ثبوت دیا وہ دوسرے شعراء کے یہاں نظر نہیں آتا، خدائے سخن میر تقی میرؔ کا کمال یہ ہے کہ ان کا ایک ایک لفظ جس طرح مقتضائے حال کے سب مطالبوں کو پورا کرتا ہے اسی طرح قرآنی تلمیحات کا استعمال بھی وہ عام فہم اور دل نشیں پیرایہ میں کر جاتا ہے ؎
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمنِ صد کوہِ طور تھا
درپے خونِ میر کے نہ رہو
ہو بھی جاتا ہے جرم آد م سے
غالبؔ نے غزل میں اجتہاد وانقلاب لاکر جس طرح اس کی تقدیر بدل دی اس کو ایک وزن، وقار، اعتبار اور افتخار عطا کیا اس کا اعتراف تو سبھی کرتے لیکن ان کے یہاں قرآنی تلمیحات کا جو خلاقانہ استعمال ہے اس پر اکثر کی نظر نہیں جاتی حالانکہ یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر اظہار خیال کرکے غالبیات میں بہت کچھ اضافہ کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر غالبؔ نے جس سائنٹفک طریقہ سے اپنے اشعار کو قرآنی تلمیحات سے مزین کیا وہ اجمال نہیں تفصیل کا متقاضی ہے اور بعض اشعار میں قرآنی تلمیحات کا استعمال مفاہیم کو آفاقیت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ ؎
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آئو نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوارِ زنداں ہوگئیں
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر
شاعر کی دنیا رنگ وجمال اور حالت بے خودی کے کمال کی دنیا ہے اس لئے شاعری کے ذریعہ دیئے جانے والے پیام کی اثر انگیزی کئی درجہ بڑھ جاتی ہے لیکن اس میں نقص یہ ہے کہ پیام کے قطعی واضح نہ ہونے سے شارح اور مبصر اگر بصیرت سے کام نہ لیں تو غلط نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں، لیکن جب کوئی بڑا اور اقبال جیسا صاحبِ نظر شاعر آگ کے ’’گل گلزار‘‘ ہونے کا مژدہ سناتا، خودی میں ڈوب کر ’’ضرب کلیمی‘‘ پیدا کرنے کی تلقین کرتا یا ’’میراثِ خلیل‘‘ کے خشتِ بنیادِ کلیسا بن جانے کا خدشہ ظاہر کرتا ہے تو مخصوص تاریخی وتہذیبی پس منظر کی وجہ سے غلط نتائج کا امکان نہیں رہتا۔
اقبالؔ کی شاعری کی تشکیل وتعمیر میں اسلامی فکر اور مشرقی تہذیب نے کلیدی رول ادا کیا ہے، پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات بابرکات اقبال کے لئے نمونہ ہے، انہوں نے عشق وعقل، خودی وبے خودی اور مرد مومن کا جو تصور پیش کیا وہ اسی ذات اقدس کا فیض ہے۔ جس نے بھی اقبال کی شاعری کو قرآن پاک کی تفسیر سے تعبیر کیا اس نے کسی طرح کے مبالغہ سے کام نہیں لیا ہے، یہ اقبالؔ ہیں جنہوں نے نعت کو روایت سے بچا کر اور نعت گوئی کو مریضانہ تصور سے نجات دلاکر اس کو انقلابی لب ولہجہ سے متعارف کرایا جس کی مثال کے لئے صرف یہی ایک شعر کافی ہے ؎
عالمِ آب وخاک میں تیری ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
اقبال کے یہاں قرآنی تلمیحات کا جو علامتی رول رہا ہے وہ ان کے حکیمانہ انداز کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے اس کے بعض نمونے ان کی ابتدائی دور کی غزلوں میں بھی مل جاتے ہیں، ان میں تلمیحات کا استعمال اگرچہ رسمی طور پر کیا گیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اہمیت و برتری کا تصور اس وقت بھی ان کے ذہن میں ابھر رہا تھا، اس دور میں اقبال کی پسندیدہ تلمیح ’’کلیم‘‘ تھی جسے وہ مختلف زاویوں سے بار بار استعمال کرتے ہیں۔ ؎
ہزار چشمے ترے سنگِ راہ سے پھوٹیں
خودی میں ڈوب کے ضرب کلیم پیدا کر
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی ہی نہ رکھے وہ ہنر کیا
چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا، نازنینوں میں
شوخی سی ہے سوال مکرر پہ اے کلیم
شرطِ رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے
بعد میں حضرت ابراہیم خلیلؑ اور آتش نمرود کے واقعہ کو اقبال نے اپنے اشعار میں جس دل نشیں پیرایہ میں استعمال کیا وہ صرف ان کا ہی حصہ ہے ؎
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس عذاب میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل
اقبالؔ نے عربی الفاظ کے ساتھ آیاتِ قرآنی کا بھی بلا تکلف اور اس مہارت کے ساتھ استعمال کیا کہ الفاظ کی بندش اور ترکیب کی ندرت انگوٹھی میں نگینہ کی طرح محسوس ہوتی ہے۔:
چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شان ورفعنالک ذکر ک دیکھے
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ینسلون
ایک اندازہ کے مطابق اقبالؔ کے کلام میں تقریباً پانچ سو اشعار ایسے موجود ہیں جن میں قرآنی آیات کے مفاہیم کو نظم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ جن دوسری قرآنی تلمیحات کا اقبال کے یہاں استعمال ہوا ہے ان میں درجِ ذیل اشعار کی حیثیت کوزہ میں سمندر کے مصداق ہے:
کشتیٔ مسکین، جانِ پاک و دیوار یتیم
علمِ موسیٰ بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
بت شکن اٹھ گئے ، باقی جو ہیں بت گر ہیں
تھا براہیم پسر اور پدر آزر ہیں
میرؔ سے عہد اقبالؔ تک ہم عصر شعراء کے یہاں بھی اسلامی اشارات اور تلمیحاتِ قرآنی کا ایک خاص اسلوب وانداز ملتا ہے، اسی طرح عہد حاضر کے شعراء نے قرآنی تلمیحات کو مکمل فنکاری کے ساتھ برتا ہے اوربعض نے اسلامی تعلیمات نیز مذہبی واسلامی قدروں کو اپنی شاعری کا موضوع بھی بنایا ہے۔٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے