कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو زبان غیر مسلم ادباء کی نظر میں

تحریر: عبداللطیف ندویؔ
رابطہ نمبر:7355097779

اردو زبان اپنے دامن میں ایک وسیع تہذیبی اور ثقافتی ورثہ رکھتی ہے، جو صدیوں پر محیط ہے۔ یہ زبان مختلف مذاہب، تہذیبوں اور روایات کے سنگم پر پروان چڑھی، جس کی وسعت، مٹھاس، اور ہمہ گیریت نے غیر مسلم شعراء کو بھی متاثر کیا۔ برصغیر میں رہنے والے کئی غیر مسلم شعراء نے اردو زبان کو نہ صرف اپنایا بلکہ اس میں ایسے گہرے خیالات کو قلم بند کیا جو محبت، اخوت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علمبردار ہیں۔ یہ مضمون انہی غیر مسلم شعراء کے خیالات اور اردو زبان کی خصوصیات پر روشنی ڈالتا ہے۔
اردو زبان کی ایک بڑی خوبی اس کی مٹھاس اور ہر طبقے کیلئے قابلِ فہم ہونا ہے۔ مہاراج کرشن پرشاد نے اردو زبان کی نرمی اور وسعت کو یوں بیان کیا:’’اردو وہ زبان ہے جو ہر ایک کے دل کو بھاتی ہے، اس کی لطافت اور مٹھاس ہر مزاج کے آدمی کو اپنے دائرے میں لے آتی ہے۔‘‘یہی وجہ ہے کہ اردو زبان نے مختلف خطوں اور مذاہب کے لوگوں کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
غیر مسلم شعراء اور اردو کی ترویج:اردو کے فروغ میں غیر مسلم شعراء نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جگن ناتھ آزاد، فراق گورکھپوری، دیا شنکر نسیم، کیدار ناتھ سنگھ، تلوک چند محروم، ہرگوپال تفتہ، کنور مہندر سنگھ بیدی، رگھوپتی سہائے فراق، رام لعل، راجندر منچندا بانی اور منوہر لال زتشی جیسے معروف شعرا نے اردو زبان میں گراں قدر تخلیقات پیش کیں۔ فراق گورکھپوری، جو ایک ہندو شاعر تھے، نے اردو زبان کی لطافت اور جذبات کی ترجمانی کو کچھ یوں بیان کیا:’’اردو کی گنگا جمنی تہذیب میں الفاظ موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں، جو ہر دل میں اْتر جاتے ہیں۔‘‘یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان کا ارتقا مختلف تہذیبوں کی آمیزش سے ہوا، اور یہی اس زبان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
اردو زبان کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ اردو کے شعراء نے اپنی شاعری میں مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر محبت اور انسانیت کا درس دیا۔ جگن ناتھ آزاد نے اردو زبان کی ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:’’یہ زبان محبت کی زبان ہے، یہ ہندو اور مسلم کی نہیں بلکہ انسانیت کی زبان ہے۔‘‘اردو کے ذریعے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل قائم ہوا، جس نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔
راجندر منچندا بانی، جو جدید اردو شاعری کے ایک اہم شاعر تھے، نے اردو کی وسعت اور اس کے حسن کو اپنے اشعار میں جگہ دی۔ ان کا کہنا تھا:’’اردو زبان میرے لیے ایک ایسی ماں کی طرح ہے جس نے مجھے الفاظ کا ذخیرہ دیا، خیالات کو سنوارا اور محبت کی روشنی عطا کی۔‘‘اسی طرح، کیدار ناتھ سنگھ نے اردو کی لطافت اور اس کی وسعت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ زبان دلوں کو جوڑنے کا ہنر رکھتی ہے۔ ہرگوپال تفتہ اور تلوک چند محروم کی شاعری میں بھی اردو زبان سے محبت کا اظہار نمایاں ہے۔
اردو زبان کی سب سے بڑی پہچان اس کا محبت آمیز اور دوستانہ لہجہ ہے۔ اس زبان نے ہر طبقے، ہر مذہب اور ہر فرقے کو ساتھ لے کر چلنے کا درس دیا۔ غیر مسلم شعراء کی اردو سے محبت اور ان کی تحریروں میں انسانی جذبات کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کسی ایک طبقے یا مذہب کی زبان نہیں بلکہ پوری انسانیت کی زبان ہے۔جیسا کہ جگن ناتھ آزاد نے کہا:’’یہ زبان دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو نہیں پہچانتی، اور محبت کے چراغ جلاتی ہے۔‘‘اردو ادب میں غیر مسلم شعراء نے نہ صرف شاعری بلکہ نثر کے میدان میں بھی خدمات انجام دیں۔ منشی پریم چند، جو اردو کے ایک نامور افسانہ نگار تھے، نے سماجی مسائل کو اپنی تحریروں میں اجاگر کیا اور اردو زبان کو حقیقت پسندی کا ایک منفرد انداز بخشا۔ اسی طرح، راجندر سنگھ بیدی نے اردو افسانے کو ایک نئی جہت دی۔ ان کے علاوہ، کرشن چندر، بلونت سنگھ، اور رام لعل نے بھی اردو فکشن کو وسعت دی اور انسانیت کے پیغام کو عام کیا۔
آج بھی اردو زبان اپنی شیرینی، وسعت، اور اثر انگیزی کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ غیر مسلم شعراء اور ادیبوں نے اس زبان کے فروغ میں جو کردار ادا کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کسی مخصوص قوم یا مذہب کی زبان نہیں بلکہ ایک مشترکہ تہذیب اور ثقافت کی علامت ہے۔
اردو کے فروغ میں آج بھی ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ جدید دور میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی اور دوسرے محققین نے اردو ادب پر جو تحقیق کی، وہ زبان کے مستقبل کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
غیر مسلم شعراء کی نظر میں اردو زبان محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک ایسا احساس ہے جو محبت، رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم کرتا ہے۔ اس زبان کی خوبصورتی اور وسعت نے اسے برصغیر میں بسنے والے ہر طبقے کے لیے ایک مشترکہ ورثہ بنا دیا ہے۔ اردو زبان کی ترقی میں غیر مسلم شعراء کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اور ان کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو زبان ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا علمبردار رہے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے