कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اخلاق

از قلم :مددگار معلمہ انعامدار عائشہ محمد علی
ڈاکٹر ذاکر حسین اردو ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کھڑکی- پونے ۴۱۱۰۰۳

اخلاق انسان کی اصل پہچان ہے۔ انسان اگر دولت مند ہو، علم و ہنر رکھتا ہو مگر اس کے اخلاق اچھے نہ ہوں تو وہ دوسروں کی نظر میں عزت کھو بیٹھتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں کامیاب اور باعزت رہیں جنہوں نے اچھے اخلاق کو اپنایا۔
اخلاق کی تعریف:
اخلاق دراصل انسان کی عادات، اطوار اور رویوں کا مجموعہ ہے جو اس کے کردار کا حصہ بن جائیں۔ جب انسان سچ بولتا ہے، انصاف کرتا ہے، رحم دلی اور عفو و درگزر کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ سب اخلاقِ حسنہ کہلاتے ہیں۔ برعکس صورت میں جھوٹ، ظلم، حسد اور تکبر برے اخلاق شمار ہوتے ہیں۔
اسلام میں اخلاق کی اہمیت:
اسلام نے اخلاق کو بڑی اہمیت دی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
رسول اکرم ﷺ نے اپنی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ کی عملی مثالیں پیش کیں۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کو معاف کیا، یتیموں پر شفقت کی، غلاموں سے محبت کی اور ہر وقت عدل و انصاف قائم رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’میں اچھے اخلاق کو کامل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘
اخلاق کی اقسام:
1. اخلاقِ حسنہ: سچائی، عدل، رحم دلی، معافی، وعدے کی پاسداری، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت۔
2. اخلاقِ سیئہ: جھوٹ، ظلم، تکبر، حسد، وعدہ خلافی، غیبت اور بددیانتی۔
معاشرے میں اخلاق کی ضرورت
اخلاق معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر اچھے اخلاق عام ہو جائیں تو امن، سکون اور محبت قائم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر برے اخلاق پھیل جائیں تو معاشرہ جھگڑوں اور فساد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اچھے اخلاق کے فوائد:
دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔
انصاف اور بھائی چارہ قائم ہوتا ہے۔
دوسروں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
دنیا و آخرت میں کامیابی ملتی ہے۔
برے اخلاق کے نقصانات:
نفرت اور دشمنی بڑھتی ہے۔
اعتماد اور سکون ختم ہوتا ہے۔
معاشرہ تباہی کا شکار ہوتا ہے۔
آخرت میں خسارہ ہوتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے اخلاق کی اہمیت
آج کے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کی بھی سخت ضرورت ہے۔ اگر تعلیم یافتہ افراد کے اخلاق اچھے ہوں تو وہ معاشرے کے لیے روشنی کا چراغ ثابت ہوتے ہیں، لیکن اگر وہ برے اخلاق کے حامل ہوں تو معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
عملی زندگی میں اخلاقی رویے:
اسکول و کالج میں اساتذہ اور دوستوں سے نرمی۔
کاروبار میں دیانت داری۔
بیمار اور کمزور افراد کی مدد۔
وعدے کی پاسداری اور جھوٹ سے پرہیز۔
راستے میں دوسروں کو تکلیف نہ دینا۔
نتیجہ:
اخلاق ہی انسان کی اصل زینت اور کامیابی کا راز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’قیامت کے دن مومن کے میزانِ عمل میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔‘‘
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اخلاقِ حسنہ سے آراستہ کریں اور برے اخلاق سے بچیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے