कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’احساس و ادراک‘‘ : ایک فکر انگیز ادبی سوغات

تحریر: رفیق جعفر
رنجیت سنگھ لونی، روبرو تلاؤ، نالبند گلی تلے گاؤں ، دابھاڑے
تعلقہ ماول، پونے 2110506مہاراشٹر
9270916979

’’احساس و ادراک‘‘ : ایک فکر انگیز ادبی سوغات
’’ احساس و ادراک ‘‘ ممتاز شاعر ڈاکٹر مقبول احمد مقبول ؔکی رباعیات کا دیوان ہے۔ چو نکالے والی بات ہے! رباعیات کے دوا وین کا رواج ہماری شعری دنیا میں کم بلکہ بہت ہی کم رہا ہے۔ عرصۂ دراز کے بعد کوئی دیوان دیکھ کر خوشی ہوئی۔ بہر حال ان دنوں اکیسویں صدی کے اردو شعری ادب میں ڈاکٹر مقبول احمد کا یہ حسین ادبی تحفہ قبولیت کے مدارج طے کر رہا ہے۔ ۲۰۱۵؁ء میں اس کی اشاعت عمل میں آئی اور یہ دیوان سنجیدہ ادبی حلقوں میں پہنچ گیا ۔ ناقدینِ فن اور سخن فہم قارئین حیرت اور استعجاب سے اس کا مطالعہ کرنے لگے ۔ فنِ رباعی کے پارکھ اور اساتذۂ فن اس جانب متوجہ ہوئے ۔ جانچ اور پرکھ کا کام تیزی سے ہونے لگا ۔ ردکی گنجائش کم تھی اس لیے قبول کی صورت نکل آئی ۔اہلِ ہنر اور اہل ِنظر نے تبصرے بھی کیے اعترافیہ و تحسینی مضامین بھی لکھے ۔ سبھی نے رباعی کے فن کو مدنظر رکھ کر گفتگو کی۔ سبھی نے مان لیا کہ رباعی کے ۲۴ اوزان کے دائرے میں رہ کر ڈاکٹر مقبول نے رباعیاں کہی ہیں۔ ناقدین نے مثالیں بھی پیش کیں اور مصرعوں کے حوالے بھی دیے ۔کسی نے کہا کہ ہر رباعی کے چاروں مصرعے مقررہ اوزانِ رباعی میں سے کسی ایک ہی وزن پر ہوتے تو یہ عظیم الشان اور فقید المثال کارنامہ ہوتا ۔بعض ناقدین نے کہا کہ ڈاکٹر مقبول نے تمام چوبیس اوزان کواصولی اور فن کارانہ طریقے سے برتا ہے۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست لیکن مجھ میں یہ تجسّ پیدا ہوا کہ’ ‘ احساس و ادراک‘‘ کی
ر باعیوں میں ہے کیا ؟ تجسّ اْس وقت ختم ہوا جب صوری اعتبار سے خوبصورت اور معنوی لحاظ سے فکر انگیز یہ کتاب میرے ہاتھ لگی۔
158صفحات کی یہ کتاب طباعت کے حْسن سے آراستہ اور بے عیب کمپیوٹر کتابت سے مزّین اپنی خوبصورتی کا نظارہ کراتی ہے۔ دیدہ زیب رنگین اور معنی خیز ٹائٹیل نظروں کو بھلا لگتا ہے ۔ انتساب پر نظر پڑتی ہے تو الفاظ میں محبت کی خوشبو رچی بسی معلوم ہوتی ہے انتساب کے الفاظ ہیں :
’’شہنشاہ ِ اردو رباعی امجد ؔ حیدرآبادی اور امجد ثانی علامہ عطا ؔ کلیانوی کے نام ‘‘ مقبول احمد کی ا ن بزرگوں سے عقیدت کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اپنے اس دیوان کی شروعات ان بزرگوں کی رباعیات سے کی ہے ۔ ملاحظہ کریں :
ہر وقت فضائے دل کشا دیکھتے ہو
صحرا و چمن ارض و سما دیکھتے ہو
مخلوق میں نیرنگی ِخالق دیکھو
قرآن پڑھو، جلد کو کیا دیکھتے ہو ( امجد ؔ حیدرآبادی )
ذرّے ذرّے سے اک جہاں پیدا کر
خود اپنی جبیں سے آستاں پیدا کر
جینا ہے اگر ‘ خضر کا احسان نہ لے
ہر سانس سے عمر جاوداں پیدا کر ( عطا کلیانوی)
اس کے بعد دوسرے صفحے پردرج حافظ ؔ شیزازی کی حکمت ودانائی سے لبریز اس رباعی پر نظر پڑی:
در صحبتِ آں کسے کہ صاحب ہنر است
گر زہر خوری بداں کہ شہدو شکر است
ا مّا نفسے بہ صحبتِ نا اہلاں
گر خلد بریں بود کہ نارِ سقر است
دیوان کی شروعات میں ان تین بڑے شاعروں کی جو تین فکر انگیز رباعیاں مقبول احمد نے درج کی ہیں اور یہ رباعیاں جس مفہوم ومعنی کی حامل ہیں ان سے مقبول احمد کے ذہنی میلانات ،رجحانات اور افکار وخیالات کا ہلکا سا اندازہ ہوا۔اس کی وجہ سے تجسس اور بڑھا۔اب میری ذہن سازی ہو چکی تھی۔چنانچہ رباعیوں کی قراَت کی طرف طبیعت مائل ہوئی ۔ ورق پلٹا تو ۲۵ صفحات نثر کے نکل آئے۔ ان صفحات میں جو مواد ہے وہ ڈاکٹر مقبول کے فن سے تعلق رکھتا ہے ۔پر فیسر سید وحید اشرف ، وحید واجد ، ڈاکٹر یحیٰ نشیط جیسے اہلِ نظر ناقدین اور سْخن شناسوں نے یہ مضامین لکھے ہیں ۔ ڈاکٹر مقبول احمد نے بھی ’’ حرفے چند ‘‘ کے تحت چار صفحوں کا مضمون لکھا ہے۔ یہ سبھی مضامین پڑھنے کے بعد دماغ روشن ہوا، دل مچلنے لگا ۔ میں نے صبر سے کام لیا ۔ کتاب بند کر کے شیلف میں رکھ دی ۔
کچھ دن بعد مقبول احمد کی ایک رباعی ذہن میں روشن ہوئی جو دیوان میں موجود رباعیوںسے الگ’’ پیش لفظ‘‘ سے پہلے پورے صفحے پر شائع ہوئی ہے:
یہ نورِ آگہی ہے، بخشش تیری
یہ ذوقِ بندگی ہے، بخشش تیری
ہے راہِ زیست جس سے روشن یارب !
وہ ساری روشنی ہے، بخشش تیری
اس ر باعی نے یاد دلایا کہ ابھی’’ احساس و ادراک‘‘ کا مطالعہ باقی ہے ۔ دیوان کو شیلف سے نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا اور پہلی فرصت میں پڑھنا شروع کیا ۔ اس دیوان کورک رک کر، سنبھل سنبھل کراور غور وفکر کے ساتھ پڑھتاگیا۔ مقبول احمد مقبول کے فکرو خیال کی جلوہ سامانیوں سے ذہن منور اور قلب مسرور ہونے لگا۔ایک کے بعد ایک رباعی پڑھتا چلا گیا اور بے حد محظوظ ہوتا گیا ۔ان رباعیات میں مجھے معنویت کا ایک جہاں نظر آیا ۔ رات دیر گئے تک ا س جہانِ معنی کی بڑی حد تک سیر کی ۔ بقیہ سیر اگلے دن کے لیے اٹھا رکھی۔ اگلے دن بھی بقیہ جہانِ معنی کی سیر سے فیض یاب ہوتا رہا۔
مقبول احمد کی رباعی گوئی کی صلاحیت کئی روپ اور کئی رنگ لیے سامنے آتی چلی گئی ۔فہم کے دروا ہوتے چلے گئے ۔ کچھ رباعیات کا تو میں نے بار بار مطالعہ کیا ہے۔ نتیجے میں چندر باعیات یاداشت کا حصّہ بھی بن گئیں مثلاً:
پاکیزہ راستہ دکھاتا ہے علم
ہر فعلِ شنیع سے بچاتا ہے علم
ہے فائدہ ٔ علم ، اسی سے ظاہر
انسان کی توقیر بڑھاتا ہے علم
٭
نکلیں گے نہیں میرے ارماں کب تک
یوں ہی رہوں گا ،اشک بداماں کب تک
میں بھی یہ دیکھوں گا کہ آخر مجھ سے
ناراض رہے گا میرا یزداں کب تک؟
٭
ہوگا جہاں ایثارو اْخوت کا فروغ
ہوگا وہاں اخلاص و محبت کا فروغ
وہ ملک جہاں عدل کے نغمے گونجیں
ہوتا ہے وہاں امن و صداقت کا فروغ
ان کے علاوہ اور بھی کئی ربا عیات ہیں جو دل کو چھوگئیں اوردماغ کو روشن کر گئیں ۔ ان سب کا اندراج یہاں ممکن نہیں۔ لیکن ان رباعیوں کو اکیسویں صدی کے قارئین اگر غور سے پڑھیں تو انھیں پتہ چلے گا کہ سچی شاعری کیا ہوتی ہے اور اچھی شاعری کسے کہتے ہیں ۔ آج کی شعری دنیا کی آلودگی میں یہ رباعیاں خوشبو کی پروائیاں ہیں ۔ ایسا میں نے محسوس کیا ہے۔ میرا یہ تاثر وقتی یاجذباتی نہیں اور نہ یہ شاعر کی طرفداری یا حمایت میں ہے ۔ یہ تاثردل کی گہرائیوں میں رچ بس گیا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ جن اوصاف کا ذکر میں نے مقبول احمد کی رباعیوں کے بارے میں کیا ہے ویسا وصف اس دور کے کسی اور شاعر کے پاس نہیں ،لیکن مقبول احمدکی ر باعیوں کی بات ہی اور ہے ۔ میرے اس تجربے نے مجھے خود چونکا دیا کہ اس کلام میں یک رنگی نہیں بلکہ ہمہ رنگی ہے۔ وہ ہمہ رنگی جو زندگی میں ہے۔ اس حوالے سے کچھ رباعیات ملاحظہ کریں :
جن کو نہیں ویرانہ و گلشن کی تمیز
کیا ہوگی انھیں دوست و دشمن کی تمیز
وہ قافلے لٹتے ہی رہیں گے ہر دم
ہوگی نہ جنھیں رہبرورہزن کو تمیزکی
٭
دے گا نہ کوئی تجھ کو سہارا ہر گز
ہاتھ آئے گا تیرے نہ کنارا ہرگز
جب تک نہ کرے کوششِ پیہم تو خود
چمکے گانہ قسمت کا ستارا ہر گز
٭
ہر قول بجا ہے نہ توہر بات صحیح
ہوتے ہیں کہاں سب کے خیالات صحیح
مانو نہ کوئی بات بنا غور کیے
ہے طرز یہی ٹھیک یہی بات صحیح
٭
ہر دم ہے زباں پر تری ہائے دنیا
دنیا میں رکھا کیا ہے ؟ سوائے دنیا
انساں کی بھلائی ہے اسی میں پنہاں
عقبیٰ پہ توجہ ہو ‘ بجائے دنیا
اس طرح اور بھی رباعیات میں کئی طرح کے خیالات ہیں۔ کبھی ہدایت کے انداز میں ‘ کبھی مشورے کے طور پر تو کبھی ذاتی انداز میں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مقبول احمد کا مطمحِ نظر مذہب اسلام کے اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرنا ہے۔ موجودہ کاروبارِ حیات کے انتشار اور اس کی ژولیدگی کو دور کر کے اسے صحیح سمت کی طرف پھیرنا ہے۔ اپنی رباعیات کا مواد مقبول احمد نے مذہبی حکایات کے علاوہ موجودہ زندگی کے نشیب وفراز سے بھی لیا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ روشنی اْنہی حکایات سے حاصل کی ہے جو اس زمانے کے اندھیرے میں مسافرانِ زیست کو بھٹکنے بہکنے سے بچاتی ہے:
گپ شپ کی عادت سے عبادت بہتر
سب عادتوں سے ہے یہی عادت بہتر
ہوتی ہے جس انجمن سے بربادیِ وقت
اس انجمن آرائی سے خلوت بہتر
’’ احساس و ادراک ‘‘ کی رباعیات میں ایک بڑا حصّہ ان موضوعات کا ہے جو اکیسویں صدی کے خاص موضوعات ہیں ، مثلاً:بے راہ روی، مذہب بیزاری ‘ رشتوں کی شکستگی ، تاجرانہ ذ ہنیت اور روپئے پیسے کے حصول میں دیوانگی، بھائی چارے کا فقدان، اخلاق کی پستی وغیرہ ۔شاعرنے ایسے موضوعات پر رباعیات کہہ کر قوم کو آئینہ دکھایا ہے کہ دیکھو تم کوکیا کر نا چاہیے تھا اور کیا کر رہے ہو۔ اس تناظر میں کچھ رباعیات ملاحظہ کریں :
برپاہے آج ہر طرف لوٹ کھسوٹ
طاقت کا فریب سے تعلق ہے اٹوٹ
سچائی ہے بے قدر و زبون و پامال
مسند پر بڑے ناز سے بیٹھا ہے جھوٹ
٭
لڑکوں سے ہوا آج ‘ لڑکپن رخصت
عورت سے ہوا شا ئبۂ زن رخصت
اس دور کے حالات، خدا خیر کرے !
بچّوں سے ہورہا ہے بچپن رخصت
٭
لوگوں کی کج روی کا یہ حال ہے اب
بھٹکے ہوئے ہیں،کہتے ہیں معلوم ہے سب
یوں تو سبھی جینے کو جیتے ہیں ، مگر
آتا ہے کہاں سب کو جینے کا ڈھب
٭
وہ رام فروش ، تویہ رحمان فروش
یہ وید فروش، تو وہ قرآن فروش
ہر قوم کی تاریخ بتاتی ہے ہمیں
ہوتے ہیں ہر قوم میں ایمان فروش
٭
دولت کے پجاری کو ہے دولت کی ہوس
طاقت کے طلب گار کو طاقت کی ہوس
ہے حرص و ہوس میں مبتلا ہر کوئی
ہے عابد و زاہد کو بھی جنت کی ہوس
اس کتاب میں اور بھی ایسی رباعیات ہیں جو نہ صرف عصرِ حاضر کی پر آشوب سماجی لہروں کی غمازی کرتی ہیں بلکہ اکیسویں صدی کی سائنسی ترقی میں اخلاقی زوال کی روداد بھی بیان کرتی ہیں ۔ اصل میں شاعر اپنے قارئین کو بدلتے اور بگڑتے ہوئے حالات سے واقف کرواتا ہے۔ اس کو احساس دلاتا ہے کہ ایسے پُر آشوب حالات میں بھی انسان اپنے جامۂ انسانیت سے باہر نہ آئے۔اپنے جامۂ انسانیت پر کوئی داغ لگنے نہ دے۔اللہ نے اس کے سر پر اشرف المخلوقات کا جو حسین تاج رکھا ہے اس کی بہر حال پاسداری کرتا رہے۔ وہ ہر حال میں صبر وضبط اور حکمت وتدبر سے کام لے۔پیہم جستجو اور عزمِ مصمم کے سہارے خار زارِ جہاں کو گلزار میں تبدیل کر لے ۔
یہ کیا کہ عمل ہے کبھی حیواں کی طرح
شر، فتنہ فساد میں ہیں شیطاں کی طرح
کیا ختم ہوا جو ہر ِانسانیت
انسان ہیں تو رہیے انساں کی طرح
٭
چاہیں تو ہر بوجھ اْٹھا سکتے ہیں
ہر آہنی دیوار گرا سکتے ہیں
ہم عزم مصّمم کے سہارے یارو
صحرائوں میں گلزار کھلا سکتے ہیں
٭
آفت کبھی حکمت سے بھی ٹل سکتی ہے
یہ ہستیِ دو روزہ سنبھل سکتی ہے
ہر بات میں ہے فکر وتدبر درکار
تدبیر سے تقدیر بدل سکتی ہے
مقبول احمد کو انسان کی حقیقت وعظمت اور اس کی فطرت وسرشت کا عرفان ہے۔تبھی تو انھوں نے انسان کے موضوع پر ایسی فکر انگیز رباعیاں کہی ہیں:
سمجھے گا تبھی وقعت وعظمت اپنی
تسلیم بھی کر لے گا نیابت اپنی
عرفانِ خدا بھی اسے ہو جائے گا
انسان سمجھ لے جو حقیقت اپنی
٭
نیت ہو اگر، بندۂ دنیا بن جائے
گر ٹھان لے ،تو دوست خدا کا بن جائے
مائل ہو بدی پر ، بنے شیطاں انسان
نیکی پہ ہو راغب، تو فرشتہ بن جائے
حکمت ودانائی سے معمور ایسی اور بھی کئی فکر انگیز ر باعیات زیرِ تبصرہ دیوان میں ہیں۔ لیکن’’ مشتِ نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر یہاں اتنی مثالیں ہی کافی ہیں۔مجموعی طور پر’’احساس وادراک‘‘ اکیسویں صدی کے اردو قارئین کے لیے ایک قیمتی اور فکر انگیز ادبی سوغات ہے۔ اس کی نہ صرف قدر کرنی چاہیے بلکہ اسے سنبھال کر رکھنے کی بھی ضرورت ہے ۔ طاق یا شیلف میں نہیں بلکہ دلوں میں۔ تاکہ وقت ضرورت اور حسبِ ضرورت اس سے استفادے کی صورت نکلتی رہے ۔

Rafique Jafar
Ranjeet Singh Loni, Rubaro Talaw,
Nalaband Galli, Talegaon, Dhable
Tq, Mawal, Pune 2110506(MS)
Mob. 9270916979

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے