कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

احترام ، اور شخصیت پرستی

تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

احترام اور شخصیت پرستی یہ دو الگ الگ ہیں۔ اسلامی اقدار اور قرآن و حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کا ادب و احترام کریں۔ اچھی بات اور عاجزی سے پیش آئیں ۔ اور یہ کہ اچھی بات کرنا نیکی کا باعث ہے۔ ایک دوسرے سے اخلاق اور عاجزی سے ملیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے۔ سلام ہر اس شخص کو کیا کرو ، جس کو آپ جانتے ہو ، اور نہ جانتے ہوں۔ ادب و احترام کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ اپنے استاذ محترم کے آنے پر ان کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوے ادبا کھڑے ہوجائیں۔ کیونکہ انہوں نے آپ کو علم جیسی بیش بہا دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اپنے والدین کے ادب و احترام میں کھڑے ہوں کیونکہ انہوں نے آپ کو چھوٹے سے بڑا کیا اور ایام طفولیت میں آپ کی فکر کی ہے۔ اس طرح سے ان شخصیات کے ادب و احترام میں کھڑے ہونے میں کوئ حرج نہیں بلکہ جائز ہے۔ خداے برتر نے قرآن میں فرمایا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مبحت رکھو، اور حدیث شریف میں بھی ہے۔ پیغمبر اسلام سے محبت والفت رکھنے والے بن جاو۔ آپ سے محبت اور الفت ایمان کا حصہ ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے۔ تم میں سے کوئ کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے اہل وعیال سے سے زیادہ مجھکو محبوب نہ رکھیں۔ کیونکہ اللہ نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے اور انسانوں کے کامیابی کا دستور العمل۔ اس کے باوجود قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ پیغمبر اسلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پیغمبر اسلام کو حاجت کی بناء پر ضرورت زندگی کا سامان خریدنے کے لیے بازار جانےکی ضرورت پیش آتی ہے۔ اللہ نے تمام جہانوں کو اور اس میں ہر چیز کو تخلیق کیا ہے۔اور وہی اس کا خالق و مالک ہے۔ وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے۔ مرض بھی اسی کی طرف سے ہے ، اور شفاء بھی اسی کی طرف سے ہے ۔وہ چاہے کسی کو لمبی اور طویل عمر دے یا کسی کو دور شباب میں موت۔ یا پھر ماں کے پیٹ میں۔ اسی کی ایماء پر اس جہانوں اور دنیا کی بقاء و فنا ہے۔ جو آپ چاہتے وہ ہر گز ممکن نہیں ہاں اگر خداے برتر آپ کے مقدر میں لکھ دے وہ ملیگا۔ جو آپ کے دسترس سے باہر ہے۔ اسکی امید بیجا ہے۔ بات ادب و احترام کی تھی ۔ چنانچہ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب و احترام لازم ہے۔ لیکن شخصیت پرستی نہیں ۔کیونکہ شخصیت پرستی اور بے انتہا عقیدت یہ مہلک اور خطرناک ہے۔ شخصیت پرستی میں انسان کسی سے امیدیں لگاے بیٹھتا ہے۔ اور پھر وہ اپنا کچھ ذاتی فائدہ بھی چاہتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سمجھ بیٹھتا ہے کہ ان شخصیات سے بگڑے کام بن سکتے ہیں۔ تو ایسی عقیدت اور شخصیت پرستی بت پرستی کے مترادف ہے، جو شرک کو جنم دیتی ہے۔ اور شرک کے عمل کے مرتکب ہونا ہلاکت اور تباہی کا سبب ہے۔ کسی کے شخصیت پرستی اور عقیدت میں حد سے زیادہ تجاوز کرنا، اور انہیں سب کچھ سمجھنا بت اور صنم پرستی سے زیادہ خطرناک اور بھیانک ہے۔ کیونکہ بت اور صنم کو آنکھیں نہیں ہوتی جس سے وہ دیکھ سکے۔ بت کو کان نہیں ہوتے جس سے وہ آپ کو سن سکے، اور نہ ہی دل و دماغ ہوتا کہ وہ آپ کو محسوس کرسکے۔ لیکن ہم جن زندہ چلنے پھرنے والی معزز شخصیات کو سب کچھ سمجھ بیٹھیں اور ان کی شخصیت میں محو ہوجایں تو ممکن ہے کہ شیطانی وسوسہ میں مبتلاء ہوں اور اپنے آپ کو اعلی و ارفع سمجھنے لگیں۔ کیونکہ وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں، اور دل و دماغ سے محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ جس طرح شیطان نے اپنے کو اعلی و ارفع اور آگ سے بننے پر بڑا سمجھا۔ اور مٹی کے آدم کو سجدہ نہیں کیا۔ نتیجہ سے ساری دنیا واقف ہے۔ آج کل یہ مشاہدہ میں آرہا ہے کہ جو ذمہ داران کسی علمی شخصیات یا معروف و مشہور شخصیات کا پروگرام یا تقریب منعقد کرتے ہیں ، تو ان کی آمد پر بس اتنے ہی لوگ معمور ہوتے ہیں۔ اور دوسروں کو ملنے یا ان سے ملاقات کرنے پر روکتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ، حضرت سورہے ہیں ، آرام فرمارہے ہیں، ضرورت سے گیے ہی، کھانا تناول فرمارہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، یعنی ان پر ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ نظر رکھے ہوے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ قدیم اور سنئیر لوگ بھی ان کو سلام اور ملاقات کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ جو افسوس کی بات ہے۔ یعنی اتنی شخصیت پرستی کہ پوچھو مت۔ حالانکہ ان مہمانوں کی طرف سے کوئ بھی رد عمل نہیں ہوتا۔ لیکن منتظمین سے یہ فاش حرکتیں صادر ہوتی ہیں۔ جو ان کی شخصیت پرستی میں غرق ہوتے ہیں۔ سرور کائنات مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی نے اللہ کے لیے محبت کی ہے اور اللہ کے لیے نفرت کی ہے ۔اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا، تو اس نے اپنا تقریبا ایمان مکمل کیا۔ لیکن آج ہم اکثر شخصیت پرستی اور مال و زر جمع کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ جو ایک سنگین جرم ہے۔ فرعون دریا کنارے بیٹھا تھا ، کچھ غلو کرنے والے اور شخصیت پرستوں نے فرعون کو کہا، دریا کی موجیں آپ کے پیروں کو لمس کررہی ہے اور آپ کو سجدہ کررہی ہے۔ فرعون نے کہا واقعی میں خدا ہوں ۔ اس طرح شخصیت پرستوں نے فرعون کو مغرور اور سرکش بنادیا۔ اور فرعون اپنے آپ کو خدا کہنے لگا۔ اسی لیے شخصیت پرستی بت پرستی سے زیادہ مضر ہے۔ The personalism is dangrous than idol worship) لہذا ہم ایک دوسرےکو کم تر اور ادنی نہ سمجھیں۔ اور ادب و احترام سے پیش آئیں۔ موسی علیہ السلام کو ایک مرتبہ اللہ نے حکم دیا کہ جاو کائنات میں تم سے کمتر اور ادنی چیز کو تلاش کرو۔ موسی علیہ السلام نے پوری کائنات چھان ماری لیکن کسی کو اپنے سے کمتر یا ادنی نہیں پایا۔ اللہ کے حضور میں آے۔ اللہ نے فرمایا اے موسی کون سی چیز تم سے کمتر پائ؟ موسی علیہ السلام نے کہا کائنات میں ہر چیز اپنی اپنی جگہ بہت اچھی ہے۔ کوئ بھی ادنی و کمتر نہیں۔ خداے برتر نے کہا اے موسی اگر آپ کسی شئ یا کسی مخلوق کو کم تر گردانتے یا بتاتے، تو میں تمہیں نبوت سے کبھی بھی سرفراز نہیں کرتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے