कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ابوالکلام آزاد ایک عہد ساز شخصیت

تحریر: ف۔خ۔مسرت

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔ آپ 1888ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم والد مولانا خیرالدین سے حاصل کی، جو خود ایک بڑے عالمِ دین تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا تعلق ایک مذہبی، تعلیمی و تہذیبی خانوادے سے تھا۔ ان کے پردادا مولانا منور الدین بڑے عالم دین تھے۔ مغلیہ سلطنت نے انھیں ’رکن المدرسین‘ کے خطاب سے سرفراز کیا تھا۔ والد ماجد مولانا خیرالدین اسلامیات کے ماہر اور شاعر و ادیب تھے۔ ان کی والدہ بھی بزرگ اور نیک سیرت خاتون تھیں، جن کے والد شیخ محمد ظاہر وتری مدینہ منورہ میں عالم دین کی حیثیت سے معروف تھے۔ لہٰذا مولانا ابوالکلام آزاد بنیادی طور پر ایک مذہب پرست اور بیدار ذہن شخص تھے۔۔۔مولانا نے عربی، فارسی، منطق، فلسفہ، فقہ اور تفسیر میں مہارت حاصل کی۔مذہبی علوم سے خصوصی نسبت، تعلیمی و تہذیبی ذوق اور گھر کے ماحول و تربیت نے مولانا ابوالکلام آزاد کو اعلیٰ افکار و نظریات کا حامل بنایا اور بڑے مقاصد و عزائم ان کا نصب العین بن گیا۔ انھوں نے اپنی ذہانت و فطانت، علمی و فکری لیاقت اور کردار و عمل سے ملک و ملت کو ایک بلند خیال فکر و بصیرت دی، تعمیری کردار دیا۔ وہ قلم و قدم دونوں میدان کے مجاہد، علم و عمل کے پیکر اور قابل تقلید شخصیت بن کر ابھرے۔نوعمری میں ہی آپ نے اپنے وسیع مطالعے اور غیر معمولی ذہانت سے علمی حلقوں کو حیران کر دیا۔مولانا آزاد نے قلم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا۔ان کی نثر نہایت دلکش، فصیح اور اثر انگیز ہے۔ ان کے اسلوب میں عربی و فارسی کا حسن، قرآنی طرزِ بیان اور جذبے کی شدت نمایاں نظر آتی ہے۔مولانا کی نثر خطیبانہ شان رکھتی ہے۔ ان کے جملوں میں موسیقیت، فکری گہرائی اور جذباتی تاثر بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے اسلوب نے اردو نثر کو ایک نئی رفعت عطا کی۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر تعقل و تفکر سے پر ہے۔ اس کا اسلوب منفرد، دلچسپ اور جاذب نظر ہےاسی خوش رنگ تحریر اور دلکش اسلوب نگارش کے اور اس کی اہمیت کا احساس مجاہد آزادی و معتبر شاعر حسرت موہانی نے اپنے شعر میں اس طرح کرایا کہ:
جب سے دیکھا ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
’’غبارِ خاطر‘‘ ان کے مکتوباتی ادب کا شاہکار ہے، جس میں فکر، فلسفہ اور جذبات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
ان کی معروف تصانیف میں خطوط کا مجموعہ غبارِ خاطر، قرآن مجید کی تفسیر ترجمان القرآن، اور ان کی خودنوشت سوانح حیات انڈیا ونس فریڈم (انگریزی میں) شامل ہیں۔
مولانا لڑکپن میں اشعار کہا کرتے تھے اور آزاد تخلص کرتے تھے، تخلص انکے نام کا جزوِ لاینفک ضرور بن گیامولانا کی خودنوشت سوانح "آزاد کی کہانی، آزاد کی زبانی” میں انکے اشعار ملاحظہ فرمائیں
✍🏻
نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصد کھلے گی زبان کی
✍🏻
گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ مری قبر نہیں سائبان کی
✍🏻
زاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی
✍🏻
سب لوگ جدھر ہیں وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
✍🏻
ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے۔۔۔۔!!
کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے
گیارہویں سال میں ہی یعنی 1899 میں مولانا ابوالکلام آزاد نے *نیرنگ خیال* کے اجرا کے ساتھ صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ان کی صحافت کا مقصد محض خبر رسانی نہیں بلکہ قوم کی فکری بیداری تھا۔
مولانا کی صحافت حق و صداقت، حسن و ادب سے آراستہ و پیراستہ تھی مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات کا میدان بہت ہی وسیع و عریض ہے ، اس وسیع میدان میں آپ نے مختلف حیثیتوں سے کام انجام دیا ہے کیونکہ بعض رسائل و جرائد وہ تھے جو خود آپ کی ملکیت میں تھے اور آپ بذات خود انکی ادارات کا فرائض بھی انجام دیتے تھے، بعض رسائل و جرائد وہ تھے جسکی ملکیت آپ کے ہاتھوں میں تو تھی لیکن ادارتی کاموں کی ذمہ داری کسی اور کو دی گئی تھی۔
1908ء میں انہوں نے "الہلال” جاری کیا، جو ہندوستانی مسلمانوں کے احساسِ آزادی کو بیدار کرنے والا ایک زبردست ترجمان بن گیا۔ بعد میں "البلاغ” کے ذریعے انہوں نے اپنے خیالات کو اور زیادہ قوت سے پیش کیا۔
مولانا آزاد آزادی کی تحریک کے رہنما اور کانگریس کے ممتاز قائد تھے۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ 1923ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سب سے کم عمر صدر منتخب ہوئے۔
بعد ازاں 1947ء میں آزادی کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم بنے۔بقول کنور مہندر سنگھ بیدی سحر۔۔۔۔:
مرحبا اے ابوالکلام آزاد، تا قیامت رہے گی تیری یاد
قید خانوں میں خود رہا برسوں، ملک کو قید سے کیا آزاد
ان کے دور میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کونسل (CSIR)، اور ساہتیہ اکادمی جیسے ادارے قائم ہوئے۔
ان کا نظریہ تھا کہ تعلیم صرف ذہنوں کو روشن نہیں کرتی بلکہ قوموں کی تقدیر بھی بدلتی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نہ صرف ایک سیاسی رہنما تھے بلکہ وہ ایک عہد ساز مفکر اور ملتِ اسلامیہ کے ترجمان بھی تھے۔ ان کی فکر آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی خدمات علم، ادب، سیاست اور مذہب — سب میدانوں میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
مولانا آزاد کا پیغام ہے کہ تعلیم، اتحاد اور خودی ہی قوم کی ترقی کا زینہ ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر ہند کی تاریخ میں ایک ایسی نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف آزادیٔ ہند کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ علمی، فکری، مذہبی اور ادبی میدانوں میں بھی اپنی انمٹ چھاپ چھوڑی۔ وہ عالمِ اسلام کے ممتاز مفکر، مفسرِ قرآن، ادیب، صحافی اور سیاست دان تھے۔ ان کی زندگی علم و عمل، اخلاص و قربانی اور عزم و استقلال کی روشن مثال ہے۔
مولانا آزاد کی تفسیر "ترجمان القرآن” ان کے علمی کمال اور روحانی بصیرت کی عکاس ہے۔ انہوں نے قرآن کو عقل و فکر کی روشنی میں سمجھنے کی دعوت دی۔
ان کے نزدیک اسلام محض عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسانیت کو عدل، علم، مساوات اور اتحاد کی تعلیم دیتا ہے۔مولانا آزاد وہ نایاب شخصیت تھے جنہوں نے دین اور دنیا، مشرق اور مغرب، روایت اور جدیدیت کو ایک ہی تار میں پرویا۔ ان کا قول آج بھی یاد کیا جاتا ہے:
*میں نے ہندوستان کی آزادی کی خاطر اپنی زندگی وقف کر دی، اب ہندوستان کی ترقی اور اتحاد کی خاطر اپنی باقی زندگی وقف کرتا ہوں*
وہ واقعی ایک عہد ساز شخصیت تھے جن کی خدمات سے ہندوستانی تہذیب اور تعلیم آج بھی فیض یاب ہو رہی ہے۔
مجاہدِ آزادئ وطن ، آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد۔ ان کی قومی خدمات کی یاد میں خراج تحسین کے طور پر مولانا کے یوم پیدائش 11 نومبر کو ہندوستان میں *قومی یومِ تعلیم* منایا جاتا ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے