कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ابر کرم اور رحمت کا موسم بہار

تحریر: ڈاکٹر محمد نصر اللہ ندوی
استاذ ندو العلماء، لکھنؤ

برکت کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہو چکا ہے،رحمت کی باد بہاری چلنے والی ہے،ابر کرم کی موسلا دھار بارش ہونے والی ہے،اس لئے کہ رمضان کا مہینہ آنے والا ہے،اس مہینہ میں دریائے رحمت میں جوش آتا ہے اور بندوں کے گناہوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا دیتا ہے،خوش نصیب ہیں وہ بندے جو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے دامن کو نیکیوں سے بھرتے ہیں،قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں،اس میں غور وفکر کرتے ہیں،اس کی ہدایات کو حرز جاں اور اس کی تعلیمات کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے ہیں۔
رمضان تقوی کا مہینہ ہے،اس کا مقصد نفس کا تزکیہ اور باطن کی تطہیر ہے،روزہ کے ذریعہ انسان کو صبر کا عادی بنایا جاتا ہے،اور اس کے ذہن ودماغ کو مصفی اور مجلی کیا جاتا ہے،انسان جب روزہ کی حالت میں ہوتا ہے،تو ہمہ وقت اسے رب کا استحضار رہتا ہے،کہ وہ اس کی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے ،یقین کی یہ کیفیت روزہ کے علاوہ کسی اور عبادت میں نہیں پائی جاتی ہے،اس لئے تقوی کی صفت پیدا کرنے میں روزہ سے بڑھ کر کوئی اور عمل نہیں ہے۔
یہ مہینہ توبہ واستغفار کا ہے،اس میں رحمت الہی خصوصی طور پر متوجہ ہوتی ہے، خطاؤں کو درگزر کرتی ہے،مغفرت کا بہانہ ڈھونڈتی ہے،اور رمضان کے اختتام پر بخشش کا پروانہ عطا کرتی ہے،چنانچہ روزہ دار جب دوگانہ عید ادا کرکے لوٹتے ہیں،تو ان کے ہاتھوں میں معافی کا پروانہ ہوتا ہے،ان کے چہروں پر مسرت وشادمانی کی لکیریں ہوتی ہیں اور ان کے دل شکر کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں۔
یہ مہینہ دعا کی قبولیت کا ہے،اس میں اجابت کی مبارک ساعت بھی ہوتی ہے،جس میں بندہ کی مرادیں پوری کی جاتی ہیں،اس کی فریاد عرش الہی سے ٹکراتی ہے اور قبولیت سے ہمکنار ہوتی ہے،مبارک باد کے مستحق ہیں وہ لوگ جو اس مہینہ میں اپنے رب سے مناجات کرتے ہیں اور تنہائی میں آہ وزاری کرتے ہیں،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی : امام عادل کی دعا،روزہ دار کی دعا جب تک وہ افطار نہ کرلے،مظلوم کی دعا۔(ترمذی،باب صف الجن)روزہ دار کو چاہئے کہ وہ روزہ کے دوران دعاؤں کا اہتمام کرے،پتہ نہیں کون سی گھڑی قبولیت کی ہو اور اس کے مقدر کا ستارہ چمک جائے۔
رمضان کا مہینہ ہمدردی وغمخواری کا مہینہ ہے،مجبوروں اور بیکسوں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا ہے،اس مہینہ میں صدقہ وخیرات کا خصوصی اہتمام کیا جائے،دوسروں کی ضرورت کا حتی الامکان خیال رکھا جائے،چنانچہ صاحب حیثیت لوگوں پر رمضان کے اخیر میں صدقہ وفطر کو واجب قرار دیا گیا ،تا کہ روزہ کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی ہو سکے،اور جو لوگ نادار ہیں ،وہ بھی عید کی خوشیوں کاسامان تیار کرسکیں،صدقہ فطر کی یہی روح ہے،جو اسلامی اخوت کا شاندار مظہر ہے،اس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی ہے۔
اس مہینہ کا تقاضہ ہے کہ انسان سب کچھ چھوڑ کر اپنے مالک کے در پر پڑجائے اور جب تک اس کی بات نہ مان لی جائے ،وہ در سے نہ ہٹے،اعتکاف اسی لئے مشروع کیا گیا ہے،تا کہ بندہ علائق دنیا سے کٹ اپنے رب کی چوکھٹ پر پڑا رہے،اعتکاف میں وصل کی جو دولت نصیب ہوتی ہے،اس کی کوئی مثال نہیں ہے،یہ شب قدر کی تلاش ہے،جو بندہ اس کی تلاش میں رب کی چوکھٹ پر پڑجاتا ہے،اسے ضرور یہ یہ دولت نصیب ہوتی ہے،اللہ کے باتوفیق بندے رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرتے ہیں،اور ہزار سال کی عبادتوں کا ثواب حاصل کرتے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے