कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ائمہ و موذنین رہنما ہیں،اپنافرمانبردار نہ بنائیں

ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندوی

اسلام میں امام کا مقام بہت اہمیت کا حامل ہے، امامت سنت نبوی اور سنت صحابہ کرام ہے، آپؐ امامت جبریل کے بعد سے تا حیات امامت فرماتے رہے، آپ کے عذر کی حالت میں اور آپ کے بعد تمام خلفاء راشدین اور مسلم سلاطین اس منصب کو اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہوئے امامت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک امامت کا منصب بہت عزت و عظمت والاہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے مسجد کے ذمہ داران انکی روز مرہ کے اخراجات کے بارے میں بالکل فکر نہیں کرتے اورنہ ائمہ مساجد و مؤذنین کی جو تنخواہ ہونی چاہئے وہ دیتے ہیں۔ہم اور آپ ذرااپنا موازنہ تو کریں کہ ایک مزدور بھی کم از کم دس ہزار پندرہ ہزار ماہانہ کما لیتا ہے، جب کہ دین متین کی حفاظت اس کی ترویج و اشاعت اور امت کی آخرت سنور جائے اس کی کوشش میں اپنے بچپن اور جوانی کے ایام جھونک دینے والے ان سعادت مند نفوس کے ساتھ امت کا کیا سلوک ہے؟ مساجد کے ذمہ داران،متولیان،وٹرسٹیان نے آج ائمہ ومؤذنین کو مزدور کے مقام سے بھی نیچے لا کھڑاکر دیا ہے۔موجودہ وقت میں اپنے معاشرے کے ائمہ و مؤذنین کی صورتحال اور ان کے ساتھ عوام خواص کارویہ نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ خود مسلمان اور ان کا باشعور سمجھا جانے والا طبقہ بھی امام مؤذن کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حالانکہ پانچ وقتوں اور عیدین کی نماز کے علاوہ بھی پیدائش سے لے کر موت تک ہم ایک امام کے محتاج ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے کہ جیسا کہ وہ معاشرے کیلئے کوئی بوجھ ہوں۔ ہمارا یہ عمل خود ہماری بدبختی اور اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اور اس سے خود ہمیں ہی دنیا اور آخرت کا خسارہ ہو گا۔
قوم یہ سمجھتی ہے امام و موذن کو قومِ موسیٰ کی طرح من وسلویٰ اتر تا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے، انگر یزوں نے جان بو جھ کر امام مسجد کی تنخواہ،خاکروب کے برا بر مقر ر کرکے اسلام سے بیزا ری کاثبوت دیا تھا،انگریز تو چلے گئے لیکن اب ہم مسلمان ہو کر بھی اپنے امام ومؤذن کو ان کا حقیقی مقام دینے کو تیار نہیں۔ مسلما نوں کو اما موں ، مؤذنوں کو سر کاری ٹیچروں کے برا بر تنخواہ دینا چا ہیے اور ریٹا ئر ہونے یا معذور ہونے پر معقول پینشن دینا چا ہیے تا کہ امام اور مؤذن جومسلم معا شرے کا با وقار (عہدہ)حصہ ہے اسے بھی معا شرے میں عزت اور وقار سے زندہ رہنے کا حق ہے اسے حاصل ہو نا چا ہئے، مسجد کے ذمہ داران و اہل محلہ اس طرف سنجید گی سے سو چیں اور عمل کریں ور نہ اللہ کے یہاں پکڑ ہو گی۔
اذان دین اسلام کا ایک اہم شعار اور اسلامی معاشرہ کی حقیقی پہچان ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے منقول ہے کہ اذان ایمان کے شعائر میں سے ہے۔ ہم مسلمانوں پر مؤذن کاسب سے بڑا حق یہ ہے کہ ہم تمام مسلمان مؤذنوں کی عزت و تعظیم صدق دل سے کریں اور ان کا شایان شان احترام و اکرام کریں کیونکہ موذن محبوب ترین عبادت ’’نماز‘‘ باجماعت کے مخلص ترجمان اور نقیب ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں۔ مدارس ، اسکول، کالج وغیرہ میں بیٹھے منتظمین جسے قوم اپنا رہنما سمجھتی ہے وہ ایمانداری اور عدل و انصاف کے ساتھ قوم کی فکر کریں اور تمام اساتذہ کو ان کی تنخواہ کے مطابق ان کاا حق دیں تو ہماری قوم بہت جلد ترقی کی جانب بڑھ سکتی ہے لیکن ان اداروں کو چلانے والے یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا پیدا ہو جو ان کی ایمانداری اور عدل و انصاف پر سوال کھڑے کرے۔
اس لئے آئمہ حضرات بھی اپنے مقام و مرتبہ کو سمجھیں اور پہچانیں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے کس اونچے اور اعلیٰ منصب اور رْتبہ پر فائز ہیں۔ اگر آئمہ اپنے مقام کا پاس و لحاظ رکھیں گے اور اس منصب امامت کو منجانب اللہ عطیہ اور دین خداوندی یقین کریں گے اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ اہتمام و احترام کے ساتھ مصلیان کرام کے ساتھ حد درجہ جذبہ اپنائیت تواضع و محبت و خلوص و اخلاص و اخلاق کے ساتھ جذبۂ للہیت کے ساتھ اس خدمت عظیم کو انجام دیں گے تو عوام و خواص سب آئمہ حضرات کے ساتھ لازمی طورپر خندہ پیشانی اور احترام کے ساتھ پیش آئیں گے۔
عوام تو عوام ہے اسی لئے تو کہا گیا کہ ’’العوام کالانعام ‘‘ اْنھیں ایک سچا اور اچھا انسان بنانا اُن کے اندر اخلاق و کردار کی عمدگی پیدا کرنا اور ان کے اندر ہر قسم کی خوبیاں اور اچھائیاں لانا یہ آئمہ خطباء ، علماء و فضلاء حضرات کا کام ہے جب آئمہ کرام اپنے مصلیان کرام اور اپنے ملنے جلنے والوں کو عقیدت و محبت رکھنے والوں کو صداقت و عدالت کا سبق پڑھائیں ، اُنھیں اچھی اچھی باتیں بتائیں گے تو وہ یقینا آئمہ حضرات کو عظمت وعزت کی نظر سے دیکھیں گے۔
مساجد مذہب و ملت کے ایسے عظیم الشان قلعے ہیں جن کے ذریعے ہمیشہ اسلام اور مسلمان دونوں کی حفاظت کی جاتی رہی ہے اور ان قلعوں کی پاسبانی کرنے والے ہمیشہ یہی علماء وحفاظ ر ہے ہیں لیکن مساجدو مدارس کے ذمہ دران کی اپنے ساتھ غلط رویوں کی وجہ سے آج مدارس سے فارغ التحصیل باصلاحیت ان کے لڑکے مساجد و مدارس میں خدمات انجام دینے کے بجائے کالج اور یونیورسٹیوں کا رخ کرنے لگے ہیں، یہاں تک کہ اب علماء کرام کی ایک بڑی تعداد معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلانے کے بجائے عصری تعلیم دلارہی ہے کہ جس طرح سے ہم تمام عمر معاشی تنگی کا شکار رہے ہیں، ویسے کم از کم ہمارے بچے نہ ہو ں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نفوس قدسیہ کی قدر دانی، بقدر استطاعت ان کی خدمت اور ان کی عزت و تکریم کرنے کی توفیق عطافرمائے اور مسلمانوں کے دلوں میں اس تعلق سے جو جمود اور بے حسی پیدا ہوگئی ہے اسے دور فرمائے۔اللہ ہم تمام اہل ایمان کو ائمہ اور مؤذنین کی صحیح قدر کرنے والا اور ان کے حقوق اداکرنے والاسچاا ور مخلص مسلمان بنائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے