कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا

(یومِ میلاد النبی ﷺ اور یومِ اساتذہ کے موقع پر ایک فکری تحریر)

تحریر:صائمہ فیضان دانش

انسان اگر اپنی تاریخ کے اوراق کو سنجیدگی سے پلٹے تو ایک حقیقت نہایت وضاحت کے ساتھ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ قوموں کی اصل تقدیر کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ درسگاہوں میں ہوتا ہے۔ توپ اور تلوار قوم کو وقتی فتح دلا سکتی ہے، مگر اس کی فکری سمت اور اخلاقی بنیادیں وہی متعین کرتی ہیں جو اس کے اساتذہ نئی نسل کے ذہنوں اور دلوں میں پیوست کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ استاد کا مقام محض ایک پیشہ ورانہ حیثیت نہیں بلکہ ایک قومی و تہذیبی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب ہم اسلام کی روشنی میں استاد کے منصب کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت اور زیادہ کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے، کیونکہ ہمارے سامنے سب سے پہلی اور سب سے بڑی مثال محمد عربی ؎ ﷺ کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ: معلمِ حقیقی
قرآن مجید نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’یَتْلُوعَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘(الجمعہ: 2)
’’جو انہیں اس کی آیات سنا تا ہے ان کی زندگی سنوار تا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘
یہی وہ تین بنیادی پہلو ہیں جو کسی بھی استاد کے منصب کی اصل روح ہیں:1. اللہ کی آیات کی تلاوت اور ان کے ذریعے فکر کو روشنی بخشنا۔
2. شاگردوں کے دلوں کو پاکیزہ اور اخلاق کو درست کرنا۔3. کتاب اور حکمت کی تعلیم دے کر عقل و شعور کی تربیت کرنا۔نیز انسانی شخصیت کی ہمہ پہلو تربیت کرنا۔
اسی حقیقت کی تائید نبی اکرم ﷺ کے فرمان سے بھی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘‘’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔۔۔‘‘(ابن ماجہ)
یہ الفاظ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ استاد کے منصب کی سب سے بڑی تعریف ہیں۔ گویا نبی ﷺ کی حیثیت صرف ایک مبلغ یا رہنما کی نہیں بلکہ سب سے بڑے اور سب سے کامل معلم کی تھی۔ آپ ﷺ نے علم کو تزکیہ اور عمل کے ساتھ جوڑا، اور ایک ایسی قوم تیار کی جو اخلاق و کردار میں دنیا کے لیے مثال بن گئی۔
یومِ اساتذہ کا اصل مفہوم
دنیا بھر میں ”یومِ اساتذہ” منایا جاتا ہے۔ لیکن اس دن کا حقیقی سبق کیا ہے؟ کیا استاد محض کتابی علم بانٹنے والا ہے؟ یا پھر اس کا منصب اس سے کہیں بلند ہے؟اگر استاد اپنے پیشے کو صرف معاشی ذریعہ سمجھے تو وہ اپنی اصل عظمت کو کھو دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے تعلیمی مشن کا وارث ہوں، تو اس کی ہر تدریس ایک عبادت بن جاتی ہے۔
علم، تربیت اور قوم کی سمت
یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ استاد قوم کی فکری سمت کا تعین کرتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اداروں میں تعلیم تو موجود ہے لیکن تربیت ناپید ہے، معلومات تو دی جا رہی ہیں مگر حکمت اور بصیرت کا فقدان ہے،ڈگریاں تو بانٹی جا رہی ہیں لیکن کردار سازی کا عنصر غائب ہے۔یہی وہ خلا ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں بدعنوانی، اخلاقی انحطاط اور فکری ا نتشار عام ہے۔ اسی تلخ حقیقت کو اکبر الہ آبادی نے طنز کے قالب میں یوں بیان کیا۔
یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا ، افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
استاد اگر صرف کتابوں کا پیغام دے اور قلب و ذہن میں روشنی نہ ڈالے تو نئی نسل اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے۔ اس فکری بحرانپر بڑے ہی تلخ اور دردمندانہ انداز میں چوٹ کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ ان تعلیمی اداروں کو قتل گاہ اور حاصل شدہ ڈگریوں کو موت کے صداقت نامے قراردیتے ہیں، کیونکہ ان تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کے جسم تو زندہ ہوتے ہیں لیکن ان کی روح،فکر اور ایمان و اخلاق مر جاتا ہے۔نیز وہ کہتے ہیں’’تعلیم کا اولین مقصد معرفتِ الہٰی حاصل کرنا ہے جو ایک ہمہ گیر مقصد ہے۔مزید برآں انسان کی جبلی صلاحیتوں کی اس طرح نشوونما ہونی چاہیے کہ وہ سوسائٹی کے لئے مفید وکارآمد اور انسانی زندگی میں پاکیزگی اور فلاح و ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔‘‘(ماخوذ:سید مودودیؒ کے تعلیمی نظریات)

میلاد النبی ﷺ، استاد کا مرتبہ اور ذمہ داریاں
اس سال یہ ایک خاص موقع ہے کہ یومِ اساتذہ اور یومِ میلاد النبی ﷺ ایک ساتھ آئے ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک بڑی یاد دہانی ہے۔ یہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اصل معلم رسول اللہ ﷺ ہیں اور استاد کا حقیقی منصب اسی وقت پورا ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو ان کے مشن کا وارث سمجھے۔میلاد النبی ﷺ کا مطلب محض نعت خوانی اور چراغاں نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمی و تربیتی وراثت کو زندہ کریں۔ استاد کا فریضہ ہے کہ وہ طلبہ کو اس مقصدِ حیات سے روشناس کرائے جس کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کیا:’’وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون‘‘( الذاریات: 56)
’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔‘‘
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عبادت کا مفہوم صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں۔ عبادت ایک نہایت وسیع اور جامع تصور ہے۔ دراصل ہر وہ قول و فعل، ہر وہ کوشش اور ہر وہ عمل جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق ہو، اور جس کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو، وہ عبادت ہے۔گویاہمارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، بولنا، لینا، دینا، غرض ہر کام اللہ کے حکم اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وہ عبادت ہے جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔
استاد کا رتبہ دنیا کی ہر عظمت سے بلند ہے۔ یہ وہ منصب ہے جو دلوں کو بدل دیتا ہے، نسلوں کو سنوارتا ہے اور قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ استاد دراصل اس چراغ کی مانندہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ جہاں قوموں نے استاد کو پہچانا اور اس کے مقام کو سمجھا، وہاں ان کی تہذیبیں عروج پر پہنچیں اور ترقی کے ستارے ان کے آسمان پر جگمگائے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے اسلاف میں استاد وہ ہستیاں تھیں جو تقویٰ، علم اور اخلاق کی چلتی پھرتی مثال ہوا کرتی تھیں۔ ان کے علم سے زیادہ ان کا کردار متاثر کرتا تھا۔ وہ شاگردوں کو محض کتابی علم نہیں دیتے تھے بلکہ انہیں اچھا انسان، بہترین مسلمان اور سچا خادمِ امت بناتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ شاگرد ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کو بھی سعادت سمجھتے تھے۔ یہ اندھی عقیدت نہیں تھی بلکہ اس کردار کی عزت تھی جو استاد کے وجود سے جھلکتا تھا۔ استاد کی نگاہِ تربیت شاگردوں کے دل و دماغ کو روشن کر دیتی تھی اور وہی شاگرد آگے چل کر دنیا کے رہنما اور امت کے معمار بنتے تھے۔اگر آج کا استاد واقعی نبی ﷺ کے اسوہ کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کرے تو وہ بھی محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ ایک مجاہد، ایک مربی اور ایک انقلابی معمار بن سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے چند باتیں ناگزیر ہیں:
1. نیت کو خالص کریں: تعلیم کو عبادت سمجھیں، نہ کہ صرف روزگار۔
2. تزکیہ اور تربیت پر زور دیں: شاگردوں کو اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنائیں۔ایسی تربیت کریں کہ شاگرد اسلامی کردار کا چلتا پھرتا نمونہ بنیں۔
3. قرآن و سنت کے ساتھ ربط پیدا کریں: ہر علم کو اللہ کی معرفت کی طرف لے جائیں۔
4. عملی نمونہ بنیں: شاگرد استاد کے کردار سے سب سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے خود کرکے بتائیں۔
5. جدید دور کے چیلنجز کو سمجھیں: جو چیلنجز ہیں اس کے مطابق طلبہ کی ذہنی و اخلاقی رہنمائی کریں۔
6. افراد کو باشعور بنائیں: شاگرد کو یہ احساس دلائیں کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ امتِ محمد ﷺ کا حصہ ہے۔ اس کا ہر علم، ہر ہنر اور ہر کامیابی صرف اپنی ذات تک محدود نہ ہو بلکہ پوری امت کی بھلائی،اس کے درد کو کم کرنے اور اس کے زخموں کو بھرنے کا ذریعہ بنے۔ استاد کے دل سے نکلا یہ احساس اگر شاگرد کے دل میں اتر جائے تو وہ اپنی ڈگریوں اور ملازمتوں سے آگے بڑھ کر امت کا معمار اور اسلام کا علمبردار بن سکتا ہے۔
’’إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘‘ہمیں یاد دلاتا ہے کہ استاد کا منصب محض عزت و احترام کا نہیں بلکہ ایک انقلابی ذمہ داری کا ہے۔ وہ نبی ﷺ کا وارث ہے، نسلوں کا معمار ہے، اور قوم کی سمت کا تعین کرنے والا ہے۔اگر استاد اپنے مقام کو پہچان لے اور نبی ﷺ کے اسوہء تعلیم و تربیت کو اپنا لے تو ہماری درسگاہیں پھر سے وہی انقلابی کردار ادا کر سکتی ہیں جو کبھی مسجد نبوی نے ادا کیا تھا۔ اور اگر استاد اپنی ذمہ داری سے غافل رہا تو قوم غلامی اور زوال کے اندھیروں سے کبھی نہ نکل سکے گی۔اسی لیے تو علّامہ اقبال کہتے ہیں ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ، ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے