कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آ ئینٔہ تعبیر اور عکسِ محبوب

ماجد قاضی   ۔ صدرِ شعبٔہ اردو، مہاراشٹر کالج، ممبئی

‘آ ئینٔہ تعبیر’  ڈاکٹر محبوب ثاقب کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا پہلا اور اب تک اکلوتا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کی اشاعت 2016 میں ہوئی ہے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔  فی الوقت وہ نہ صرف پروفیسر ہیں بلکہ پروفیسر گر بھی ہیں اور یونیورسٹیوں کی دعوت پر مختلف کالجوں میں خلوصِ دل اور وفورِ شوق سے اساتذہ کے پروموشن کے انٹرویو کی رسم ادا کرتے ہیں۔  (ان کا بس چلے تو ہر ایک کو پروفیسر بنادیں) راقم کے انٹرویو کے لیے موصوف ممبئی تشریف لائے تھے۔  ملاقات  ہوئی تو اندازہ ہوا کہ عمر میں مجھ سے دس سالہ چھوٹے ہیں، سوجھ بوجھ اور مرتبے میں قابلِ رشک بلندی پر ہیں۔ اس روز کالج میں مختلف شعبوں کے چھے اساتذہ حصولِ مرتبۂ  پروفیسر شپ کے اِس مرحلے سے گزر رہے تھے۔  سب  کی تیاریاں  دیدنی تھیں کہ ہر ایک کو اپنے مضمون کے ماہرین اور دانش وروں کے سامنے اپنی اہلیت ثابت کرنی تھی۔  ہر میز پر معمارانِ ملک و قوم اور اربابِ جامعہ کا حلقہ تھا۔ بہرحال مرحلۂ شوق مکمل ہوا،  انٹرویو ہوئے اور اسے میری خود ستائی نہیں، ان کی کرم فرمائی کا اظہار سمجھیے کہ اس روز میں نے اپنی زندگی کا سب سے کام یاب انٹرویو دیا۔  اس دن کالج نے لذتِ کام و دہن کے انتظام میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔  مجموعی طور پر ہم سب کے لیےوہ ایک یادگار دن رہا۔  اُس دن رخصت ہونے سے پہلے پروفیسر محبوب ثاقب نے اپنے دست خطِ خاص کے ساتھ ‘آئینہ ٔ تعبیر ‘کی ایک کاپی مجھے عنایت فرمائی۔  ساتھ ہی ایک رسمی جملہ بھی کہہ دیا کہ امید ہے اِس میں آپ کے لیے اور آپ کے طلبہ کے لیے کوئی مفید نکتہ نکل آئے۔ اس  کتاب پرتبصرہ کرتے ہوئے تمہیدی پیراگراف میں اِن باتوں کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ پڑھنے والے یہ سوال نہ کریں کہ کسی کتاب کے چھپنے کے نو سال بعد اس پر تبصرہ کرنا کیا ضروری ہے جب کہ خود اس کتاب میں شامل چار مقدمات ایسے ہیں جو تمام مضامین کے ساتھ خود صاحبِ کتاب کو بھی بھرپور دادِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر حمید اللہ خان، پروفیسر ستار ساؔحر، ڈاکٹر حامد اشرف اور ڈاکٹر مقبول احمد مقبوؔل نے اپنے مضامین میں آئینہ ٔ تعبیر کے مشمولات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اس کے تمام مضامین کا (غیر جانب دارانہ) محاکمہ کیا ہے۔ ممکن ہے قارئین کے ذہن میں اس تبصرے سے متعلق باسی کڑی والا محاورہ گونجنے لگے یا وہ اسے راقم کی پیشہ ورانہ سوجھ بوجھ (مجبوری) پر محمول کرتے ہوئے حسبِ توفیق طنزیہ مسکراہٹ بکھیریں  یا بے زاری کے احساس سے گراں بار ہوں۔ ان ہی اندیشہ ہائے دور دراز کے سایوں میں، کتاب سے متعلق میں اپنے احساسات رقم کر رہا ہوں۔

آئینۂ تعبیر ہاتھ میں آنے کے بعد میں نے اس کے مندرجات پر نظر کی اور دو عنوانات نے فوراََ میری توجہ کھینچ لی۔ پہلا مضمون "خواتین ناول نگاروں کے اہم اردو ناول 2000 ء کے بعد” اور دوسرا "جنوبی ہند کی خواتین افسانہ نگار”۔ اردو ادب میں خواتین کی خدمات کو سراہتے  ہوئے مصنف نے جو لکھا ہے اسے پہلے پیش کروں پھر میں  ان مضامین میں اپنی دل چسپی کی وجہ بیان کروں گا:

” ناول کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس صنف کے فروغ ہی میں طبقہ نسواں

 کا اہم کردار نہیں رہا بلکہ اردو میں اس صنف کے آغاز کی وجہ بھی صنفِ نازک بنی اور اسی طبقے نے اردو ناول

کو بامِ عروج پر بھی پہنچایا۔  اگر ڈپٹی نذیر احمد کے سامنے ان کی اپنی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا مسئلہ نہیں ہوتا

 تو شاید وہ ناول نہیں لکھتے اور قرۃ القین حیدر ‘آگ کا دریا’ نہیں لکھتی تو آج اردو ناول دنیا کی کسی بھی زبان

 کے ناول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پنجہ لڑانے کے قابل نہیں ہوتا-"

   (خواتین ناول نگاروں کے اہم اردو ناول 2000 ء کے بعد)

صنفِ قوی کو محبوب صاحب کی ان باتوں سے سو فی صد اتفاق  ہرگز نہیں کرنا چاہیے لیکن فی الحال یہ میرا موضوع نہیں، میں تو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اردو ادب میں خواتین کی خدمات میں میری دل چسپی کیوں ہے۔  دراصل مہاراشٹر کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے بعد صرف اسی کالج میں ‘اردو تحقیقی مرکز’ قائم ہے اور ناچیز اس میں ریسرچ گائیڈ کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ (کالج میں سائنس اور کامرس کے بعض مضامین میں بھی پوسٹ گریجویٹ ریسرچ شعبے موجود ہیں ) شعبۂ  اردو میں پانچ طلبہ تحقیقی کاموں میں مصروف ہیں۔ ان میں تین طالبات ہیں اور تینوں اردو ادب میں خواتین کی ادبی خدمات کا مختلف پہلوؤں سے مطالعہ کر رہی ہیں۔ ‘آئینۂ  تعبیر’ کی فہرست میں خواتین کی ادبی خدمات سے متعلق دو عنوانات دیکھ کر میں نے کتاب کی افادیت کا اندازہ لگایا اور انھیں پڑھنے اور طالبات تک پہنچانے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا۔  قارئین ‘مکتبی تحقیق’ کی بہت سی مجبوریوں سے خوب واقف ہیں۔ ان کا تذکرہ بر سر ِعام ہرگز نہیں مناسب نہیں، کیوں کہ ‘بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔’ بہرحال میں نے وہ مضامین پڑھے اور انہیں مفید ِمطلب پایا،  ساتھ ہی یہ احساس ہوا کہ دیگر مضامین بھی پڑھنا چاہیے کیوں کہ ڈاکٹر محبوب ثاقب کے قلم میں جان ہے، وہ نہ صرف موضوع کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ حاصلِ تحقیق کو سادہ زبان میں پیش کرنے کا فن بھی انھیں آتا ہے۔  اپنے موضوع کا ہر پہلو سے مطالعہ کرنے کے بعد وہ ایک معقول نتیجے پر پہنچتے ہیں، ذہن میں کوئی پیچیدگی نہیں رہتی اور اسی لیے شاید وہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر تے ہیں۔

میں نے اپنے طویل تمہیدی پیراگراف میں لکھا ہے کہ آئینہ تعبیر کے مشمولات پر پروفیسر حمید اللہ خان، پروفیسر ستار ساؔحر، ڈاکٹر حامد اشرف اور ڈاکٹر مقبول احمد مقبوؔل نے سیر حاصل بحث کی ہے اور ان موضوعات کی اہمیت و افادیت کے ساتھ مصنف کے فنی و فکری رویوں کو بھی اُجاگر کیا ہے۔  ان مقدمات پر اضافہ کرنا کارِ دشوار بلکہ سعیِ لا حاصل ہے اس لیے میں بہتر سمجھتا ہوں کہ قارئین کو ڈاکٹر محبوب ثاقب کے طرزِ تحریر اور اصابتِ رائے کا اندازہ کرنے کے لیے کچھ اقتباسات نقل کیے جائیں، اس گزارش کے ساتھ کہ ‘آئینہ ٔ تعبیر’ کو ضرور پڑھیں اوراسے اپنے ذاتی کتب خانے کی زینت بنائیں کیوں کہ یہ ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔

” نئی نظم کو لے کر ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر نئی نظم سے کیا مراد لی جا رہی ہے؟ سچ

 تو یہ ہے کہ ہر زمانے کا ادب اپنے زمانے میں نیا ہوتا ہے لیکن نئی نظم میں ایسا کیا ہے, جس کی وجہ سے

اسے نئی نظم کہا گیا۔”                                                (نئی نظم کا پس منظر – صفحہ 28)

"اس میں توازن ہے،  وہ تخلیق کو پرکھتے وقت سب سے پہلے اس میں ادبیت دیکھتے ہیں اس کے بعد اس

 کی قدر و قیمت کا تعین کرتے ہیں-”                                     (فیض کا حاسۂ  انتقاد – صفحہ 91)

"ان کے افسانے تہذیبی ضرورتوں، سماج رشتوں اور جذباتی ہم آہنگی کی روایتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

بچہ مزدوری، دولت کی غیر مساویانہ تقسیم، مزدوروں کی حالت زار، نئے نئے فیشنوں کی اندھا دھند تقلید

 ان کے افسانوں کے اہم موضوعات ہیں۔ نجمہ کا مطالعہ گہرا اور مشاہدہ وسیع ہے۔”

 (جنوبی ہند کی خواتین افسانہ نگار –  صفحہ77)

"افسانہ ‘دلی کی سیر’ میں رشید جہاں نے سماجی زندگی کو محور بنانے کی کوشش کی ہے لیکن مرض کو سنجیدہ

 معالج کی طرح نہیں بلکہ جذباتی بن کر دیکھا ہے۔ یہیں ان کے فن کی سب سے بڑی خامی ہے۔”

 ( انگارے: تفہیم و تجزیہ – صفحہ 54)

” ان میں روایت اور جدت کا امتزاج ہے۔ مخدوم  نظم میں ہیئت کے نئے تجربے کے حامی تو تھے لیکن

 روایت کا دامن یکسر ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ان کی آزاد نظموں میں ماضی کے گھسے پٹے پیمانوں

 کی جگہ جدّت کے نئے پیمانے نظر اتے ہیں۔”                        (مخدوم کی اہم نظموں کا تجزیاتی مطالعہ – صفحہ 62)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے