कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آن لائن جوا اور قمار: معاشرے میں پھیلتا ناسور

خطاب جمعہ برائے 26؍اپریل 2024ء

سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہٖ الکریم اما بعد قال اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید، اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُہُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا(سورۃ البقرۃ:۱۱۸)

معاشرہ کا ایک ناپاک عمل جوا اور قمار ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{یَااَیُّہَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَاْمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ}(سورۃ المائدۃ:۹۰)
(اے لوگو!جوایمان لائے،بلاشبہ شراب، جوا، بت اور پانسے،سب گندے کام ہیں شیطان کے، سوان سے بچتے رہو؛تاکہ تم نجات پاؤ۔)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو حلال ذرائع سے رزق حاصل کرنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرنے کاحکم دیا ہے، جس میں انسان اپنی صلاحیت اور محنت لگاتاہے،جیسے: تجارت اور ایسے طریقہ سے منع کیاہے،جس میں ہارجیت کی بازی لگتی ہو،جیسے: شطرنج، لاٹری، چوسر،تاش، مرغ بازی، کبوتر بازی وغیرہ،جس میں پیسہ کمایا اوربڑھایا جاتا ہے، یہ سب جوا کی شکلیں ہیں،جس میں جیتنے والا حرام ذریعہ سے مال کمانے کا مرتکب ہوتاہے اور ہارنے والا اپنی آمدنی کھو کر تنگ دست ہوتاہے۔
جواکھیلنے والوں کے اندرہار جیت کی وجہ سے نفرت وعداوت پیداہوتی ہے اورآپس میں لڑائی جھگڑے اورفتنہ وفساد کا یہ سبب ہوتاہے؛بلکہ شراب پینے والے کی طرح جوا کھیلنے والے بھی ایک طرح کے نشہ میں ہوتے ہیں،جس میں بھلے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے،وہ اللہ کے ذکروعبادت سے بھی غافل ہوجاتے ہیں؛اسی لیے اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ جوا سے ہرحال میں بچو؛کیوں کہ شیطان اس کے ذریعہ آپس میں بغض ونفرت پیدا کرتاہے۔ارشاد الٰہی ہے:
{اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ اَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ}
(سورۃ المائدۃ:۹۱)
(شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اورجوا کے ذریعہ تمہارے آپس میں عداوت اوربغض ونفرت پیدا کردے اور تم کو اللہ کے ذکر اورنماز سے روک دے۔)
جواکھیلنے کے بہت سارے نقصانات ہیں: ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ باطل طریقہ پر دوسرے لوگوں کا مال ہضم کرنے کا ایک راستہ ہے کہ بغیر کسی معقول معاوضہ کے دوسرے کامال لے لیا جاتا ہے،حالاں کہ اللہ جل شانہ نے بغیر کسی وجہ کے دوسرے کے مال کھانے کو ناجائز قرار دیاہے:
{وَلَاتَأکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِل}(سورۃالبقرۃ:۱۸۸)
(لوگوں کے مال باطل طریقہ پر مت کھاؤ۔)
جوئے کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ ایک ہی مرتبہ میں بہت سے گھر برباد ہوجاتے ہیں، مالدار فقیر بن جاتاہے، جس سے پوراگھرانہ مصیبت میں پڑجاتاہے اور بسااوقات اس کی فقیری سے خاندان کے علاوہ قوم کے دوسرے افراد، مثلاً :قرض دار وغیرہ بھی متاثرہوجاتے ہیں،اسی طرح جوا انسان کولالچی اور سست بنادیتاہے اورجوئے کاشوقین محنت کی کمائی چھوڑ کر دوسرے کی کمائی پر قبضہ جمانے کی فکر میں ہمہ وقت کوشاں رہتاہے؛اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُہُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا}(سورۃ البقرۃ:۱۱۸)
(تجھ سے پوچھتے ہیںحکم شراب کا ا ور جوے کا، کہہ دے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور فائدہ بھی ہے، لوگوں کے لیے ا وران کا گناہ بہت بڑا ہے، ان کے فائدے سے۔)
اس طرح جواکھیلنے میں اجتماعی نقصان بھی ہے؛کیوں کہ جوئے کا کھیل اس پر موقوف ہے کہ ایک شخص کا نفع دوسرے کا نقصان ہو، اس سے ایک کی دولت ختم ہو کر دوسرے کے پاس چلی جاتی ہے، اس سے دولت بڑھتی نہیں ہے؛ بلکہ یہ مجموعی اعتبار سے قوم کی تباہی اور انسان کے اخلاق کی موت ہے کہ جس انسان کو مخلوق خدا کے لیے نفع پہنچانے والا اور ہمدرد ہونا چاہیے، وہ ایک خونخوار درندہ کی خصوصیت اختیار کرکے دوسرے بھائی کی موت میں اپنی زندگی، اس کی مصیبت میں اپنی راحت، اس کے نقصان میں اپنا نفع سمجھنے لگتا ہے، اس کے برخلاف تجارت میں خریدنے والا اور فروخت کرنے والا دونوں اس کا فائدہ محسوس کرتے ہیںاوراس سماج میںمال کاتوازن پیداہوتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر کے مال کو ہضم کرنے والے جوئے باز کے بارے میں فرمایاہے:
’’من لعب بالنرد فقد عصی اللّٰہ ورسولہ‘‘۔ (سنن ابن ماجۃ،باب اللعب بالنرد،رقم الحدیث:۳۷۶۲)
(جس نے چوسر کھیلا،اس نے اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کی۔)
ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’من لعب بالنردشیر فکأنما غمس یدہ فی لحم خنزیر ودمہ‘‘۔ (سنن ابن ماجۃ،باب اللعب بالنرد،رقم الحدیث:۱۳۷۶۳)
(جس شخص نے چوسرکھیلا، گویا کہ اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے گوشت اور اس کے خون سے رنگا۔)
زمانہ جاہلیت کے عربوں میں مختلف قسم کے جوئے رائج تھے، ایک قسم یہ تھی کہ اونٹ ذبح کرنے کے بعد اس کی تقسیم کرنے میں جوا کھیلا جاتاتھا، بعض کو ایک یازیادہ حصے ملتے اور بعض اس سے محروم رہتے اور محروم رہنے والے کو ایک اونٹ کی قیمت ادا کرنی پڑتی اوراس کا گوشت فقراء ومساکین کے درمیان تقسیم کردیاجاتاتھا، اس جوئے میں چوں کہ فقراکا فائدہ اور جوئے کھیلنے والوں کی سخاوت تھی؛اس لیے اس کھیل کو جاہلیت میں باعث فخر تصور کیا جاتا تھا، جو اس میں شریک نہیں ہوتا، اسے کنجوس سمجھاجاتاتھا،یہی حال شراب کاتھا،بعض دفعہ اس کی آمدنی سے غریبوںکی امدادکی جاتی تھی۔
قرآن نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ گرچہ اس میںفائدہ بھی ہے؛ مگرمجموعی اعتبارسے اس کا نقصان زیادہ ہے اورقوم تباہ وبربادہوجاتی ہے؛اسی لیے شریعت نے اس کے باوجود کہ اس میں فقراء کا فائدہ ہے، ناجائز قرار دیا۔یہی حال ہر اس جوئے کا ہوگا، جس میں ظاہری طور پرتو فائدہ نظرآرہا ہے؛لیکن اندرونی اعتبار سے اس میں نقصان ہے؛ کیوںکہ اس میں محروم شخص کا دیوالیہ نکل جاتاہے،جوا ایک طرح کا گناہ ہے اور گناہ نیکی کے ساتھ مل نہیں سکتاہے۔
اس کے علاوہ موجودہ دور میں جوئے کی نئی نئی شکلیں نکل آئی ہیں،جن میں ایک طرف توفائدہ نظر آتا ہے؛ لیکن دوسری طرف اس میں بہت سارے نقصانات ہیں؛اس لیے ا گرچہ شراب وجوئے میں فائدے ہیں؛لیکن ان دونوں کا نقصان ان کے نفع سے بڑھا ہواہے؛ اس لیے کہ اللہ جل شانہ نے ہرچیز میں کچھ نفع اورکچھ نقصان رکھ دیا ہے۔
زمانے کی بڑھتی ترقیات نے انسانوں کی زندگی میں جہاں بہت سی سہولتیں اور آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں ان کے لیے گناہوں اور حرام کاریوں تک پہنچنا بھی بہت آسان کر دیا ہے۔ آج ٹکنالوگی کے ذریعے جہاں انسان کے لیے روزگار کے بہت سے اسباب پیدا ہو گئے ہیں، وہیں حرام کمائی کے بھی سینکڑوں دروازے کھول دیئے ہیں۔ آج موبائل اور انٹرنیٹ پر چوری، سائبر کرائم، بلیک میلنگ، دھوکہ دے کر بینکوں سے پیسے لوٹنا، عریانیت اور فحاشی کے ذریعے پیسے کمانا جیسے جرائم تو عام ہیں، اس کے علاوہ سودی لین دین، سودی کار و بار اور سیکڑوں گیمینگ ایپس کے ذریعے جوا اور سٹے کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار مسلمان اور خاص کر مسلمانوں کا جوان طبقہ اور اسکول کالجز میں پڑھنے والے اس کے شکار بلکہ عادی نظر آتے ہیں۔ بہت سے لڑکوں کو موبائل پر گیم کھیلنے کانشہ شراب کے نشے سے زیادہ ہوتا ہے کہ ان کا اوڑھنا بچھونا بس موبائل پر نئے نئے گیم کھیلنا ہے۔ ایسے میں گیمنگ ایپ والوں نے ان کے نشے کو اور گہرا کرنے کے لیے اس میں جوے اور سٹے کا عرق بھی گھول دیا ہے۔
ان دنوں ہمارے ملک میں آئی پی ایل کے نام سے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ جاری ہے، یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں لگ کر نہ صرف یہ کہ اپنی جوانی کے قیمتی لمحات ضائع کررہا ہے بلکہ نادانستہ طور پر دنیا بھرمیں عام کیے جارہے آن لائن جوے اور قمارکو عام کرنے کے نظام کا حصہ بھی بن رہا ہے۔ کئی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس طرح کے ایپس تیار کررکھے ہیں کہ جن پر اس دن کے ہورہے کرکٹ میچ سے کھلاڑیوں پر پیسے لگانے ہوتے ہیں، اور پھر ان کھلاڑیوں میں سے جو کھلاڑی میچ میں اچھی کارکردگی انجام دیتے ہیں تو ان کھلاڑیوں پر لگائی جانے والی رقم سے کئی گنا رقم اضافے کےساتھ کھلاڑی منتخب کرنے والے کو ملتی ہے، اور اگر وہ کھلاڑی جن پر رقم لگائی گئی ہے اچھی کارکردگی نہیں کرتے ہیں تو اس صورت میں لگائے گئے پیسے ضائع ہو جاتے ہیں، یہ ایک قسم کا جُوا ہے اور جوا کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں حرام فرمایا ہے۔اس لیے بہت ضروری کہ ہمارے نوجوانوں کے تعلق سے فکر کی جائے اور انہیں اس گہری کھائی میں گرنے سے بچایا جائے۔ چند مشہور ایپس جو اس وقت رائج ہیں ان میں ڈریم الیون(Dream 11)، مائے الیون سر کل (My 11 Circle) ، ہاؤزیٹ(Howzat) ایم.پی.ایل (MPL) وغیرہ شامل ہیں۔
اسی طرح بہت سی کمپنیوں نے تاش کھیلنے کے لئے آن لائن ایپس بنائے ہیں، جن میں جنگلی رمی(Junglee Rummy)، رمی سرکل (Rummy Circle)، انڈین رمی(Indian Rummy)، اے ٹوینٹی تھری رمی(A23 Rummy) وغیرہ زیادہ عام ہیں۔
جوّا ہونے کے علاوہ اس میں ایک اور بڑی قباحت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وقت کاضیاع ہوتاہے ، زندگی کے بہترین اورقیمتی لمحات برباد ہوتے ہیںجوانی کی بہترین صلاحیت اورتوانائی بیکارکاموں میں لگتی ہےصورت حال یہ ہے کہ جن لوگوں کو چسکا لگ جاتاہےوہ نہ دن دیکھتے ہیں نہ رات،ہر وقت بس گیم کھیلنے یاموبائیل کے ذریعےحرام پیسے کمانے کے چکر میں لگے رہتےہیں، نہ انہیں اس کااحساس ہوتا ہے کہ ان کی دنیااورآخرت تباہ ہو رہی ہے اور نہ اس کاخیال ہوتا ہے کہ ان چیزوں میں لگ کر وہ اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے دور ہوتے جارہے ہیں، اورآخر کار ایسا وقت آئے گاجن ان کے دونوں ہاتھ خالی ہوں گے۔خسرالدنیا والاخرۃ!
فیس بک اور یوٹیوب پر ان ایپس کے کروڑوں کے اشتہار چلتے ہیں۔ جوے کا یہ دھندا اتنے وسیع پیمانے پر چل رہا ہے کہ اس میں بڑی بڑی کمپنیوں، فلمی اداکاروں، کھلاڑیوں اور سرمایہ داروں نے پیسے انویسٹ کر رکھے ہیں۔ یہ ایپ والے منٹوں میں اربوں کی کمائی کر لیتے ہیں اور یہ پیسہ خالی بیٹھے کام چور اور موبائل پر وقت گزاری کرنے والے گیم میں اپنا وقت ضائع کرنے والے نوجوانوں کی جیب سے نکلتا ہے۔ آن لائن جوا، آف لائن جوے سے بھی خطرناک ہے کہ اس میں منٹوں سیکنڈوں میں لاکھوں روپے لوگوں کے بینک کھاتوں سےنکل جاتے ہیں۔ ایسے کتنے ہی واقعات دیکھنے کو ملے ہیں کہ نوجوان نے اپنے والدین کے کھاتے سے لاکھوں روپے اپنے موبائل میں ٹرانسفر کیے اور پھر وہ سارے پیسے آن لائن گیم میں ہار گیا۔ جوے کا بازار چلانے والی یہ کمپنیاں دو چار دس لوگوں کو گیم میں بھاری رقم جتا کر ان کی تشہیر کرتی ہیں اور ایک ایک دو دو کروڑ کے انعام کا اشتہار چلاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پیسہ ان کا اپنا نہیں ہوتا، بلکہ لاکھوں لوگوں سےپچاس پچاس اور سو سوروپے لے کر اربوں روپے جمع کیے جاتے ہیں۔ جیتنے والے چند ہی لوگ ہوتے ہیں، باقی لاکھوں لوگوں کا لگایا ہوا پیسہ ڈوب چکا ہوتا ہے۔ کتنے ہی نوجوان گیم کھیل کر پیسے ہارنے کے بعد ڈپریشن کے مریض ہو گئے، کتنوں نے خود کشی کی کوشش کی اور کتنوں کا کار و بار، جمع پونجی اور بینک بیلنس سب ختم ہو گیا۔
الغرض: جوا کی وجہ سے انسان حلال رزق کے بجائے حرام طریقے سے دولت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے اور معاشرہ میں کوشش، محنت ولگن، اللہ کی یاد اور عبادت الٰہی سے لاپرواہی ہوجاتی ہے، ایک ہی وقت میں ایک امیر مفلس اور غریب مالدار ہوجاتا ہے،جس سے جیتنے والااس کا رسیا ہوجاتاہے؛ اس لیے معاشرہ کواس ناپاک کھیل سے نجات دلانے کے لیے ہمیں آگے آنا ہوگا اورعوامی تحریک کو فروغ دینا ہوگا؛ تاکہ صالح معاشرہ کی تشکیل ہوسکے۔
(۱)اس تحریک کے لیے ضروری ہے کہ ہر خاندان اورگھر میں جوا کی حرمت اور اس کے نقصانات سے بچوں کو آگاہ کیا جائے۔
(۲)معاشرہ میں جوے کی خرابی اوراس کے نقصانات،دنیا اورآخرت کے عذاب سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔
(۳)اگر کہیں یہ خرابی رائج ہورہی ہے تو انفرادی اوراجتماعی طریقہ سے اس کو روکنے کی کوشش کی جائے۔اللہ رب العزت مسلمانوں کو جوئے جیسی بڑی تباہی سے بچائے۔(آمین)
واٰخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین
٭…٭…٭


Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے