कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آزمائشیں، بیداری کی نویداورنئی زندگی کی بشارت

ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی

موجودہ حالات کوئی نئے نہیں ہیں۔ جو کچھ آج ہم دیکھ رہے ہیں، جو کچھ ہم محسوس کر رہے ہیں، جس اضطراب اور بے چینی سے ہمارا دل و دماغ دوچار ہے، اس کی بازگشت ہمارے ماضی کے اوراق میں بارہا سنائی دیتی ہے۔ یہ حالات کوئی غیر متوقع طوفان نہیں ہیں جو بے خبری میں ہم پر آن ٹوٹا ہو، بلکہ یہ ایک مسلسل تاریخ کا حصہ ہیں، جو امت مسلمہ نے وقتاً فوقتاً جھیلا ہے۔ اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی اس تاریکی نے ہمیں روشنی کی طرف پلٹنے کی دعوت دی ہے، ہمیں جھنجھوڑ کر جگایا ہے، اور ہمیں ہماری غفلتوں سے بیدار کیا ہے۔
یہ بات محض تسلی کے لیے نہیں کہی جا رہی کہ ہم نے ماضی میں بھی سختیاں دیکھی ہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ کی پوری تاریخ آزمائشوں، فتنوں، سازشوں اور دباؤ کے درمیان اپنے ایمان، اپنے کردار، اور اپنے نصب العین کی حفاظت کے لیے برسر پیکار رہنے کی تاریخ ہے۔ ان آزمائشوں نے ہمیں مٹایا نہیں، بلکہ ہمیں نکھارا ہے۔ ہم نے ہر شکست کے بعد نئی زندگی پائی ہے۔ ہر زوال نے ہمیں عروج کے دروازے دکھائے ہیں۔ ہر قید نے ہمیں آزادی کا مفہوم سکھایا ہے۔ ہر زخم نے ہمیں صبر و شکر کا مفہوم یاد دلایا ہے۔
آج اگر دنیا کی ہوائیں ہمیں مخالف سمت میں چلتی نظر آتی ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے کب اور کہاں اپنے حقیقی مشن کو فراموش کیا۔ کب ہماری زندگیاں اس نصب العین سے ہٹ کر صرف دنیا کے فائدے، وقتی عزت، اور ظاہری آسائشوں کا شکار ہو گئیں۔ امت مسلمہ کا جو مقصد تھا، وہ انسانیت کے لیے ہدایت کی شمع بننا تھا، نہ کہ خود اندھیروں میں بھٹکنا۔ ہمیں ایک امت وسط، یعنی اعتدال والی امت بنایا گیا تھا، جو حق اور عدل کی گواہی دیتی ہے۔ لیکن جب ہم نے گواہی کے فریضے سے منہ موڑا، جب ہم نے اپنی زندگی کو صرف ذاتی مفاد، گروہی تعصب، اور وقتی سیاست کی بنیاد پر ڈھال لیا، تو فطری طور پر نتائج بھی ہمارے سامنے آئے۔
مگر یہ حالات ہماری مایوسی کا سبب نہیں بن سکتے۔ اس لیے نہیں کہ ہمیں کوئی وقتی امید ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمارے پاس قرآن ہے، سیرت ہے، ہمارے پاس تاریخ ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حالات خواہ کیسے ہی ہوں، اگر نیت درست ہو، عمل خالص ہو، اور تعلق خدا سے زندہ ہو، تو ان آزمائشوں کے بیچ بھی ایک نئی دنیا جنم لیتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لیے جب نمرود نے آگ بھڑکائی، تو اللہ نے اس آگ کو گلزار بنا دیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا، غلام بنایا گیا، جیل کی کوٹھریوں میں ڈالا گیا، مگر وہی یوسف بعد میں مصر کے تخت پر بیٹھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی گلیوں میں ستایا گیا، طائف کی وادیوں میں لہولہان کیا گیا، بدر و احد کی تلخیاں دیکھنی پڑیں، مگر آخر کار وہی پیغامبر فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف کرتا ہوا نظر آیا۔
امت مسلمہ کی تاریخ میں بھی اندلس کا زوال، بغداد کی تباہی، صلیبی جنگیں، سامراج کی غلامی، تقسیم وطن کی سانحہ انگیزیاں—یہ سب وہ مناظر ہیں جو ہمارے دلوں کو زخمی کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر اندھیرے کے پیچھے ایک روشنی ہے، ہر آزمائش کے پیچھے ایک بیداری ہے۔
اگر آج ہم پر ظلم ہو رہا ہے، اگر ہمارے دین، ہماری تہذیب، ہمارے شعائر، ہماری شناخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو ہمیں اس وقت کی یاد آتی ہے جب مکہ میں سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا جیسے لوگ صرف "لا الہ الا اللہ” کی گواہی پر شہید کیے گئے تھے۔ وہ تاریخ ہمیں صبر کی تعلیم دیتی ہے، لیکن صرف برداشت کرنے کا صبر نہیں، بلکہ بیداری کا صبر، اصلاح کا صبر، تعمیر کا صبر، اور مسلسل کوشش کا صبر۔
آج اگر ہم بکھرے ہوئے ہیں، تو ہمیں اپنے باطن میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے واقعی دل کی یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کیا؟ کیا ہماری دعائیں محض رسمی الفاظ ہیں یا ایک جلے ہوئے دل سے نکلی ہوئی پکار؟ کیا ہمارے ادارے، ہمارے تعلیمی مراکز، ہمارے دینی اجتماعات واقعی دین کے سچے تصور کو زندہ کر رہے ہیں یا وہ بھی محض رسوم بن کر رہ گئے ہیں؟
وقت ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے۔ فضا میں ایک بے چینی ہے۔ ہر ذی شعور انسان اس اضطراب کو محسوس کر رہا ہے۔ مگر یہی وہ لمحہ ہے جو تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ وہ گھڑی ہے جب ہم اپنے رب کی طرف پلٹ سکتے ہیں۔ ہم اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے ماحول سے ابتداء￿ کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ اگر حالات بدلنے ہیں تو ہمیں خود بدلنا ہوگا۔ اگر امت کو پھر سے دنیا کے لیے مشعل راہ بنانا ہے، تو ہمیں پہلے اپنے دلوں کو اللہ کے نور سے روشن کرنا ہوگا۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا، حق کی حمایت کا، اور باطل کی مخالفت کا حکم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ ہماری اصل طاقت ایمان، اخلاق، علم، اور اتحاد میں ہے۔ اگر ہم ان بنیادوں کو چھوڑ کر صرف ردعمل کی سیاست کریں گے، تو ہم وقتی جذبات میں بہہ کر کچھ نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں جذبات سے خالی بھی نہیں ہونا، لیکن حکمت سے خالی ہونا ہمارے لیے زیادہ خطرناک ہے۔
امت مسلمہ کا کمال یہی ہے کہ وہ آزمائشوں میں بھی ثابت قدم رہتی ہے۔ اگر آج ہمارے نوجوانوں کے دل مایوسی سے بھرے ہوئے ہیں، تو ہمیں انہیں امید دینی ہوگی۔ ہمیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ تمہارے سروں پر جو آسمان آج گرنے والا محسوس ہوتا ہے، وہی کل تمہیں نئی بلندیوں کی طرف لے جا سکتا ہے—بشرطیکہ تم اپنے رب سے لو لگا لو، اپنی نیتیں درست کر لو، اور اپنے عمل کو خالص کر لو۔
ہمیں اپنی بچیوں کو، اپنے بچوں کو، اپنے گھروں کو، اپنے تعلیمی اداروں کو ایمان، یقین، اور علم کی بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔ ہمیں رسموں سے نکل کر دین کی روح کو زندہ کرنا ہے۔ ہمیں خود بدل کر زمانے کو بدلنا ہے۔ ہمیں ہر شکست کو کامیابی کا پیش خیمہ بنانا ہے۔
یہ وقت تنقید اور مایوسی کا نہیں، تعمیری عمل اور بیداری کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے کا نہیں، بلکہ خود اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے۔ اگر ہم نے اپنے رب سے جڑنے کا راستہ اختیار کر لیا، تو کوئی طوفان ہمیں بہا نہیں سکتا، کوئی سازش ہمیں مٹا نہیں سکتی، کوئی ظلم ہمیں زیر نہیں کر سکتا۔
یہ امت مرنے کے لیے نہیں بنی، یہ زندہ رہنے، زندگی دینے، اور دنیا کو جینے کا سلیقہ سکھانے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ یہ امت لاشوں کے درمیان امید کے دیے جلاتی ہے، اور ویرانیوں میں گلزار بساتے ہوئے اپنا راستہ بناتی ہے۔
اللہ ہمیں وہ ایمان، وہ بصیرت، وہ حوصلہ، اور وہ حکمت عطا فرمائے کہ ہم ان حالات میں بھی اپنا چراغ جلائے رکھیں، اور امت مسلمہ کے تابناک ماضی کو اپنے حال کا زینہ بنا کر، ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو سکیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے