कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آزاد ہندوستان ہوا، ہندوستانی نہیں!

از قلم: عبدالرافع خان قاسمی، ناندیڑ

چونکہ آزادی ہر انسان و بشر کا فطری حق ہے اور یہی وجہ تھی کہ جب ہند کو1947 میں انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی، تو لوگ سمجھے کہ اب ہر طرف آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
مگر افسوس! زمین آزاد ہوئی، ذہن غلام رہے۔
نظام بدلا، لیکن نظریہ نہیں۔
جھنڈا بدلا، مگر انصاف، تعلیم، برابری — وہی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے۔
اسی لیے کہنا پڑتا ہے:
> آزاد ہندوستان ہوا، ہندوستانی نہیں!
غلامی صرف سیاسی نہیں، ذہنی بھی ہوتی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ انگریز چلے گئے تو ہم آزاد ہو گئے۔ مگر کیا واقعی؟
کیا ہماری تعلیم آزادی کی بنیاد پر ہے؟
کیا انصاف سب کو ملتا ہے؟
کیا دلت، مسلمان، غریب، عورت — سب کو برابر حق ملا؟
کیا عام آدمی بھی ویسا ہی "ہندوستانی” ہے جیسا کوئی کرسی پر بیٹھا سیاستدان؟
جب ان سب سوالات کا جواب "نہیں” ہے تو پھر یہ آزادی نکلی تو ہے، مگر مکمل پہنچی نہیں!
ہندوستانی تعلیم کا حال:
آزادی کے بعد ہم نے وہی نظام تعلیم اپنایا جو انگریز چھوڑ گئے تھے — جس کا مقصد صرف نوکر بنانا تھا، سوچنے والا انسان نہیں۔
بچے آج بھی مغربی تاریخ رٹ رہے ہیں، اپنی تحریکوں، شعور، شخصیات کو نہیں جانتے۔
سوال یہ ہے:
جس نظام نے غلام پیدا کیے، وہی نظام آزادی کیسے دے گا؟”
انصاف اور مساوات کا دعویٰ:
آئین کہتا ہے: سب برابر ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
ایک غریب کو ضمانت کے لیے مہینوں لگ جاتے ہیں،
اور امیر کی فائل راتوں رات کورٹ پہنچتی ہے۔
اقلیتوں کے خلاف جھوٹے مقدمے سالوں لٹکتے ہیں،
لیکن طاقتوروں کو "کلین چٹ” فوری مل جاتی ہے۔
یہ کیسی آزادی ہے جہاں عدالتیں بھی طاقت کے آگے بےبس دکھائی دیں؟
دینی، فکری اور ثقافتی غلامی:
ہندوستانی آزاد تو ہوا، مگر اپنا کلچر، زبان، تہذیب، لباس، سوچ سب چھوڑ بیٹھا۔
ہندوستانی” ہونے کے بجائے وہ "انگریزی میں بولنے والا، مغربی انداز اپنانے والا” شہری بن گیا۔
یہ تبدیلی آزاد ہونے کی علامت نہیں، بلکہ غلامی کا نیا چہرہ ہے۔
نوجوان کہاں ہیں؟
نوجوان کو آزادی دی گئی تھی سوچنے کی، بولنے کی، تعمیر کی۔
مگر آج:
وہ TikTok aur Reels mein busy hai
ویڈیو گیمز میں "فاتح” بنتا ہے
اور اصلی دنیا میں بے روزگار ہے!
> کیا ایسے نوجوان "آزاد” کہلانے کے لائق ہیں؟
خلاصہ: آزادی تب مکمل ہوگی جب…
1. جب ہر ہندوستانی کو برابر کا حق ملے گا
2. جب تعلیم سوچ اور شعور دے گی
3. جب انصاف طاقت سے نہیں، حق سے ہوگا
4. جب ہم خود کو ہندوستانی سمجھ کر جئیں گے — صرف نام کا نہیں، سوچ کا بھی
آخری پیغام
> آزاد ہندوستانی بنو! صرف آزاد ہندوستان میں رہنے والے نہیں۔
> اپنے دماغ، اپنی سوچ، اپنی پہچان، اور اپنے حق کے لیے جیو!
کیونکہ جو صرف زمین پر آزاد ہو، وہ آدھا ہے —
جو دل و دماغ سے آزاد ہو، وہی مکمل آزاد ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے